وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے نام کھلا خط۔۔۔

                      درخواست بمراد:  قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصانات،  300 سے زائد گھرانوں کی ممکنہ نقل مکانی اورسینکڑوں انسانی قیمتی جانون کی ضیاع سے بچانے کیلئے (لینڈ  سلائڈنگ اور فلیش فلڈ)حفاظتی تدابیرکی مد میں ہنگامی بنیادوں پر  10 کروڑ روپے کی ایمر جنسی گرانٹ کا اعلان کیا جائے۔

                                     چترال ایکسپریس)۔۔۔

     بخدمت جناب شہباز شریف صاحب وزیز اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

                      درخواست بمراد:  قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصانات،  300 سے زائد گھرانوں کی ممکنہ نقل مکانی اورسینکڑوں انسانی قیمتی جانون کی ضیاع سے بچانے کیلئے (لینڈ  سلائڈنگ اور فلیش فلڈ)حفاظتی تدابیرکی مد میں ہنگامی بنیادوں پر  10 کروڑ روپے کی ایمر جنسی گرانٹ کا اعلان کیا جائے۔

              محترم وزیر اعظم!

                                                        امید ہے کہ جناب خیر یت سے ہونگے اس درخواست کی توسط سے جناب کی توجہ ایک انتہائی اہم مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے۔ درخواست گزار کا تعلق ضلع چترال لوئر گاؤں جغور دواشش تحصیل و ضلع چترال سے ہے۔ گزشتہ سال گرمیوں کے دنوں چترال ٹاؤن کے اندر طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی تھی۔ جسکے نتیجے میں کئی گھر متاثر ہوئے، واٹر چینلز اور واٹر سپلائی کانظام درہم بر ہم ہوگیااور ٹاؤں کے اندر کئی روڈز بند ہو گئے تھے۔ اسی طرح ہمارا گاؤں جغور دواشش بھی ان طوفانی بارشوں سے شدید متاثر ہو گیا تھا۔ لینڈ سلائڈنگ اور فلش فلڈ نے کئی گھرانوں کو شدید نقصان پہنچایا اور کئی لوگوں کے باغا ت اور جائیدادوں کو نقصان پہنچایا۔ اس ناچیز نے اس وقت بحیثیت متاثرہ ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو اس بارے میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کیلئے اور سیلاب کی روک تھام کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کیلئے آگاہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں میر درخواستیں اور کالم اخبار کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں میں نے بذات خود موجودہ ڈپٹی کمشنر کو ایک مفصل پریزینٹیشن پیش کی لیکن افسوس ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے اس سلسلے میں غیر زمہ داری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ مو جودہ صورتحال حال ہی میں آنے والے طوفانی بارش کی وجہ سے بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔

میرا گاؤں جغور دواشش چترال چترال لوئر کا ایک انتہائی اہم گاؤں ہے۔ تحصیل میونسپل کارپوریشن اور  1122 ریسکیو کے دفاتر بھی یہاں قائم ہیں۔ جوڈیشل کمپلکس جو آجکل زیر تعمیر ہے اسکی عظیم الشان عمارت بھی اسی ایریا میں مو جود ہے۔ اسی طرح  N-45 کی اہم ترین شاہراہ بھی جغور سے ہو کر ٹاؤن  1 کو ٹاؤں  2 سے ملاتی ہے۔ جغور ہی میں ایک پل کے ذریعے مین بازار اور چترال سکاؤٹس ہیڈ کوارٹر کو ملاتی ہے۔ اسی طرح پرائمری، مڈل اور ہائی سکول کے سرکاری سکول بھی یہاں پر مو جو د ہیں۔ اگر حکومت نے بر وقت ہنگامی احتیاطی تدابیر کی صورت میں قدم نہیں اٹھایا تو مستقبل قریب میں پورے گاؤں کو نقل مکانی کی طر ف جانا پڑے گا۔ میں نے ایک سال پہلے ہی ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمو ں کو اس تباہی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ مو جودہ طوفانی بارشوں نے پہلے سے مخدوش اور خطر ناک صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسکے علاوہ کئی اہم سرکاری محکموں یعنی TMOآفس  1122 ریسکیو افس،  NHA، وائلڈ لائف KPK، واپڈا اور پیسکو کے اپنے مفادات اورا سٹیکز اس مسئلے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے وہ موجودہ صورتحال کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔ مثلاَ TMO اور  1122 ریسکیو کی عمارتیں براہ راست فلش فلڈ کی زد میں ہیں۔ کسی بھی وقت لینڈ سلائیڈنگ انکی عمارتوں کو دفن کر سکتا ہے۔ اسی طرح ان عمارتوں کے پارکنگ میں کروڑوں مالیت کے سرکاری فائر ٹینڈرز، اسکیویٹرز، ایمبولینسس، کچرا اٹھانے کی چھوٹی گاڑیاں اور ڈمپر مو جود ہیں۔ انکی حفاظت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسی طرح گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جو ہمارے نیشنل گرڈ کو  130 میگاواٹ بجلی فراہم کرتی ہے یہ بجلی ہمارے ملک کی معیشت کیلئے بہت ضروری ہے۔ جغور دواشش کے قریب اس ہائیڈرو پراجیکٹ کے  5 عدد ٹاورز اور ہائی ٹینشن لائنیں گزرتی ہیں جو نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کرتی ہیں۔ ٹاور نمبر  2 پہلے ہی فلش فلڈ کی وجہ سے متاثر ہو چکی ہے۔ یہ کسی بھی وقت  Uproot ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ الیکٹرک لائن  Dismantled ہوسکتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے نیشنل گرڈ کو توانائی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے۔ جسکی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح-N45   NHA کی مین روڈ بھی جغور سے ہو کر گزرتی ہے۔ گزشتہ سال گرمیوں کے دنوں یہ روڈ تین دن تک بند رہا تھا۔ لہٰذا ہم NHA سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی مشینری ٹیکنیکل اور لاجسٹک سپورٹ ہمیں فراہم کرے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیلئے۔  اس سلسلے میں محکمہ وائلڈ لائف  KPKکی کارکردگی بھی انتہائی ناقص ہے۔ ٹرافی ہنٹنگ کے تحت مارخور کے شکار سے حاصل شدہ رقم مختلف گاؤں اور علاقوں کو دیا جاتا ہے۔ جغور دواشش کو بھی اس سلسلے میں یہ رقم جغور دواشش کو بھی دیا جارہا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ان قوانین اور اصولوں کی دھجیاں اڑئی جاتی ہیں۔ جسکے تحت وہ علاقے اور لوگ اس رقم کے حقدار ہیں۔ مثلاََ گلہ بانی اور درختوں کی کھلم کھلا کٹائی جاری ہے۔  Anthropogenic یعنی انسانی عمل دخل کا بہت زیادہ حصہ ان فلش فلڈ کے آنے میں یہ بہت بڑی  Risk Factor ہیں۔ لہٰذا وائلڈ لائف کے زمہ داروں کو چاہیئے کہ وہ فوراََ اپنے واچر ز یہاں تعینات کر کے گلہ بانی پر پاپندی عائد کریں اور درختو ں کی کٹائی کو روک دیں۔ اسی صورت علاقے کے لوگوں کو ٹرافی ہنٹنگ کے شکار سے حاصل شدہ رقم سے فائدہ اٹھانے کا حق دیا جائے۔

آخر میں میں بطور نمائندہ متاثرین حکومت سے درجہ ذیل اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ تاکہ یہا ں لوگوں کو نقل مکانی سے بچانے کے ساتھ ساتھ ملک کو ایک بڑے قومی المیہ سے بچایا جا سکے۔

۱۔ پہلے مرحلے میں گلہ بانی اور درختوں کی کٹائی پر فوراََ پابندی لگا دیا جائے۔

۲۔ حکومت فوراََبحالی اور احتیاطی تدابیر کیلئے 10کروڑ روپے کی گرانٹ کا ہنگامی بنیادوں پر اعلان کرے۔

۳۔  Terracingکے اصول کو سامنے رکھ کر روڈز تعمیر کئے جائیں اور اس روڈکے ساتھ Retaining Wall تعمیر کی جائے اور ملبے کو  Dry Creeks کو  Fill کیا جائے۔

۴۔ آخری مرحلے میں وسیع پیمانے پر پورے پہاڑی علاقے پر شجر کاری مہم کے ذریعے درخت لگا دی جائے۔

                            امید ہے کہ جناب والا ان سفارشات اور مطالبات پر ہمدردانہ غور فرما کر اہلیان جغور دواشش کی

                             دلجوئی فرمائینگے۔اور اہلیان جغور دواشش ہمیشہ آپکے لئے دعاگو  رہیں گے۔

                                                                                                                                     درخواست گذار

                                                                                                                        سرورکمال              نمائندہ برائے متاثرین جغور دواشش

                                                                                                               ضلع چترال لوئر

شناختی کارڈ نمبر 15201-1847065-9

Whatsapp/Mob#:03409855514

Email: sarichitral@gmail.com

Copy to:

  1. WilD Life Dept: KPK

                                                                     2.GM NHA

  1.     Peso Peshawar
  2. Chairman WAPDA
  3.                                    Deputy Commissioner Lower Chitral
  4. NDMA
  5. Ministry of Climate Change
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔