چترال اسسمنٹ کے وقت میں توسیع کرکے مالی امداداصل متاثرین تک پہنچایاجائے۔متاثرین کامطالبہ

چترال (محکم الدین ) چترال کے بارش اور برفباری کے متاثرین نے موجودہ اسسمنٹ کو ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنرچترال کی طرف سے متاثرین کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ اسسمنٹ ٹیم کو جو وقت دیا گیا ہے اس دورانیے میں چترال کے پچاس فیصد متاثرہ علاقوں کی اسسمنٹ تک ہونا ممکن نہیں ہےجس پر عوام کسی صورت اعتماد نہیں کریں گے ۔ جس جلدبازی ، عجلت اور بے قاعدگی کے ساتھ اسسمنٹ کی جارہی ہے اس سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ اس سے پہلے خانہ پوری کرکے غیر متاثرین کو سات لاکھ اور ساڑھے تین لاکھ کے چیکوں سے نوازا گیا ۔ یہ بھی ایساہی ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری ڈی جی پی ڈی ایم اے و ڈپٹی کمشنرچترال لوئر پر ہوگی۔جو دانستہ طورپر متاثرین کو حکومتی امداد سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔ درجنوں متاثرین نے میڈیا کو بتایاکہ ان کے گھر اسسمنٹ سے رہ گئے ہیں ۔کیونکہ اسسمنٹ ٹیم کو وقت ہی نہیں ملا ۔ باوجود اس کے کہ ٹیمیں رات کو بھی کام کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ 2022 میں جو ڈیزاسٹر آیا تھا ۔ اس میں اسسمنٹ ٹیم گھر گھر جاکر تفصیلی طور پر نقصانات کا جائزہ لیااور اصل متاثرین تک حکومتی امداد پہنچ گئی۔جب کہ موجودہ ڈیزاسٹر میں اس سے کہیں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں اس کے باوجود اسسمنٹ کیلئے جو وقت دیا گیا ہے ۔ وہ انتہائی طور پر ناکافی ہے ۔ جبکہ آن لائن اسسمنٹ کے دوران نیٹ کی ناقص سروس کی وجہ سےآن لائن موبائل ایپلکیشن سسٹم اور جی پی ایس ایکٹیو نہ ہونے کے سبب بھی ٹیم کا بڑا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ آرکاری ، گرم چشمہ ،کریم آباد ،ارندو ، کالاش ویلیزجیسے کئی علاقے ہیں جہاں سسٹم کو مسائل درپیش ہیں اور بعض علاقوں میں روڈ بھی صحیح طور پر بحال نہیں ہوئے ۔ ایسے میں ایک ہفتے سے بھی مختصر ترین وقت میں اسسمنٹ کی تکمیل ہرگز ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نےکہا کہ ڈی جی پی ڈی ایم اے کو شاید چترال کے حالات کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ اس لئے وہ جلد بازی سے کام لے رہےہیں ۔ ذرائع نے بتایاکہ جو اسسمنٹ گذشتہ آدھی رات تک کی جاچکی تھی متعلقہ آن لائن موبائل ایپلکیشن بند ہونےکی وجہ سے اسسمنٹ کاوہ ریکارڈ بھی اپلوڈ ہونے سےرہ گئے ہیں جو کہ متاثرین کیلئے مزید مایوسی کا باعث ہے ۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اسسمنٹ کے وقت میں توسیع کی جائے اور حکومتی مالی امداد اصل متاثرین تک پہنچایا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔