ناشکری اور ناامیدی..تحریر:اقبال حیات اف برغذی

آج کل عام طور پر مہنگائی کارونا اور مخدوش قومی حالات کے تناظر میں نا اہل ارباب اقتدار کے خلاف دعائیں قبول نہ ہونے کے شکوے زبان زد عام میں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے اسلامی نقطہ نظر میں  گناہ عظیم کے مترادف ہیں۔ کیونکہ اللہ رب العزت کی نعمتوں کی بہتات اور انسانی زندگی کو میسر سہولیات کے تناظر میں “مہنگائی ” لفظ ناشکری کی علامت ہے ہرکس وناکس کے آنگن میں گاڑی نہیں تو کم ازکم موٹر سائیکل کھڑی ہے۔ اور مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کی بہتات کے سبب سڑک عبور کرنا دشوار ہوتا ہے ۔رمضان المبارک کے مہینے میں گھروں کے اندر الماریاں پوشاک سے بھری ہونے کے باوجود نئے کپڑوں کی خریداری کا منظر اللہ رب العزت کی کرم نوازی کا مظہر تھا۔ہمیں احساس تک نہیں کہ وہ معاشرہ جو نان جوئن سے عاری تھا۔ اور پیٹ خوراک کی کمی کی وجہ سے سوجن کا شکار ہوتے تھے۔ سینکڑو ں میل ضروریات زندگی کو پیٹھ پر اٹھائے پیدل چلنا پڑتا تھا۔ پہننے کے لئے بمشکل ایک جوڑہ کہیں ملتا تھا۔ پھر بھی زبان زبوں حالی کے شکوے سے ناآشنا ہوتاتھا۔ بدقسمتی سے معاشرہ جب مادہ پرستی کے مرض کا شکار ہوا تو ایک دوسرے کے رنگ میں خود کو رنگین دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا۔ اور ضرورت سے زیادہ کی ہوس نے معاشرے کو فریادی کے رنگ میں بدل دیا۔ اور یہ ہر حال پر شکر گزاری کے مذہبی تصور اور تعلیم کے منافی عمل ہے۔جہاں تک دعاوں کی قبولیت نہ ہونے کے شکوے کا تعلق ہے یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے نا امیدی اور مایوسی ہے۔ جو کفر کے مترادف ہے۔ بعض اوقات دعاوں کے قبول نہ ہونے کے پس پردہ ایسے محرکات ہوتے ہیں جن میں انسانی مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ اور اس کا علم اللہ رب العزت کی ذات تک محیط ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ “شامت اعمال ماصورت نادرگرفت” کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ انسانی زندگی میں رونما ہونے والے تمام حالات کو اللہ رب العزت کی مرضی سے منسوب کرکے قبول کرنے کا نام ایمان ہے۔ البتہ بشری تقاضوں کے مطابق نامساعد حالات سے واسطے کی صورت میں ان کے ازالے کے لئے رب کائنات کے سامنے جھولی پھیلانے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں اس حقیقت سے بھی مفر نہیں کہ چند روزہ زندگی کے مصائب اور تکالیف کے مقابلے میں ابدی زندگی کے مفادات کو فوقیت دینا اور اس سلسلے میں کام آنے والے امورکی انجام دہی خسرومندی کی علامت ہوتی ہے۔یوں مطلوبہ مقاصد کے لئے فائدہ مند نہ ہونے والی دعائیں اس وقت کام آئیں گی جب انسان حشر کے میدان میں ایک ایک نیکی کے لئے ترستاہوگا۔ اور ان دعاوں کی قیمت اور افادیت کا اندازہ اس بازار میں ہوگا۔ اس تناظر میں ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ ایک لڑکا کسی بڑے شاعر کی شاگردی کرتے ہیں استاد اپنے ہر نئے کلام کو اس کے سامنے پڑھتے ہوئے اس کی قیمت ہزاروں اور لاکھوں روپے سے منسوب کرتے تھے ۔ایک دن شاگرد کسی دوکاندار سے اپنے گھر کے لئے آلو خرید کر معاوضے میں ہزاروں روپے کی قیمت کے شعر کی پیشکش کرنے پر دکاندار پیسے کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں شاگرد استاد کے دعووں پر کف افسوس ملتے ہوئے جاتے ہیں۔اور بعد میں اس واقعے کا تذکرہ استاد کے سامنے کرنے پر وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ نادان لڑکا اشعار کی اس بازار میں منقبت نہیں ہوگی۔ ان کے لئے علیحدہ بازار ہے اور یوں شاہی محل میں مشاعرے میں اپنی طرف سے منسوب کرکے پڑھنے کے لئے ایک قیمت اسے دیتے ہیں۔مشاعرے میں اس کی اتنی پذیرائی ہوتی ہے۔ کہ بادشاہ خوش ہوکر انعام کے طور پر اس لڑکے کو پچاس ہزار روپے دیتے ہیں۔
اس تناظر میں ہمیں اپنی دعاوں کی افادیت کے لئے مخصوص وقت کو سامنے رکھتے ہوئے امید کی دنیا میں جینے کی عادت خود میں پیدا کرناچاہیے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔