داد بیداد..شراکت داری اور ترقی..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

خبر آئی ہے کہ عالمی بینک نے خیبر پختونخواکی عمومی ترقی اور ضم اضلاع میں خصوصی منصوبوں کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ نئی شراکت داری (Partnership) پر رضامندی ظاہر کی ہے اس سلسلے میں بینک حکام نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے افیسروں کے ساتھ مذاکرات کا پہلا مرحلہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ سے شروع کیا ہے یہ بہت اچھی خبر ہے اس خبر سے یہ اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ عالمی سطح پر نئی حکومتوں کو پذیرائی مل رہی ہے اندرونی افرا تفری اور انتشار میں کمی آگئی تو مزید پذیرائی مل جائیگی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں دنیا سمٹ کر ایک گاوں بن چکی ہے اس عالمی گاوں میں مختلف ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی طرح عالمی اداروں کے ساتھ قومی حکومتوں کے تعاون کی بھی خا ص اہمیت ہے اس طریقے سے حکومتوں کو عالمی اداروں کا تعاون حاصل ہوتاہے گذشتہ پون صدی کے اندرسماجی شعبے کے کئی بڑے مسائل پر اس قسم کے تعاون سے قابو پایاگیا ہے اس کو ترقی کے لئے عالمی شراکت داری کا نام دیا جاتا ہے اخبارات میں ابتدائی میٹنگ کے حوالے سے جو خبریں آئی ہیں ان خبروں کی رو سے ترقی کے لئے اشتراک کے لئے مختلف شعبوں کی نشان دہی کی گئی ہے ان میں موسمیاتی تغیراور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کاکام سرفہرست ہے اس کے بعد کمیونیکیشن یعنی بنیا دی ڈھانچے کی ترقی مثلا ًسڑکیں آتی ہیں پلوں کا نمبر بھی آتا ہے، تیسرا شعبہ زراعت اور آب پاشی ہے اس میں سیلاب سے بچاؤ کے حفاظتی بندھ بھی شامل ہیں،اس کے بعد انسانی وسائل پر توجہ دی گئی ہے اس کامطلب یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جن شعبوں کے ماہرین اور کاریگروں کی مانگ بڑھتی جارہی ہے ان شعبوں کے تر بیت یافتہ کا ریگر اور ماہرین کی کھیپ تیار کر کے ان کے ذریعے زر مبادلہ کمانے کے لئے ایک سال سے لیکر چار سال تک کے مخصوص کورس ڈیزائن کر ائے جائینگے، کورس مکمل کرنے والوں کو عالمی مارکیٹ کے لئے قابل قبول سرٹیفکیٹ، ڈپلومہ اور ڈگریاں دی جائینگی، انسا نی وسائل کی ترقی کا دوسرا شعبہ روایتی تعلیم بھی ہے اس شعبے میں بھی عالمی بینک صوبائی حکومت کو تعاون فراہم کر ے گا سردست اس شراکت داری میں عالمی بینک کی طرف سے ملنے والے تعاون کا حجم ڈالروں یاپاکستانی کرنسی میں سامنے نہیں آیا ابھی تخمینے اور اندازے تیار کرنے کا کام ہورہا ہے اس مرحلے پر ماضی سے کچھ سبق سیکھنا چاہئیے مثلاً 1990ء کی دہائی میں پرائمیری تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے لئے عالمی بینک کابہت بڑا پروگرام آیا تھااس پروگرام کے ڈیزائن میں خامیاں تھیں ان خامیوں کی وجہ سے پروگرام ختم ہو تے ہی نیب (NAB) حرکت میں آگئی مقدمات شروع ہو ئے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، عالمی سطح پر صوبائی حکومت کی بڑی بدنامی ہوئی اس طرح کی بدعنوانیوں کا راستہ پہلے ہی روکناہوگا اور پروگرام کے بنیادی ڈیزائن میں بدعنوانیوں کے روک تھام کا طریقہ کار وضع کرنا ہوگا، بین لاقوامی اور عالمی امداد دہندہ گان کی طرف سے قرض یا گرانٹ کی صورت میں جو امداد آتی ہے اس میں امداد کا زیادہ حصہ مشینری اور نئی گاڑیوں کی خریداری،پنچ ستاری ہوٹلوں میں ورکشاپ، اندرون ملک اور بیرون ملک سیرسپاٹوں کے ساتھ بڑی بڑی کوٹھیوں کے کرایوں میں خرچ ہوجاتا ہے اصل مقصد اور کام کے لئے پوری رقم کا ایک چو تھائی بھی نہیں بچتا،یہ ناکام تجربہ باربار دہرایا گیاہے نئی شراکت داری کے لئے دونوں طرف کام کرنے والے حکام کو اس بات کاخیال رکھناچاہئیے کہ کورونا کی وباءکے بعد دنیا بھر میں کساد بازاری آئی ہے خیبر پختونخوا خاص طور پر متاثر ہواہے اس لئے امداد گرانٹ کی صورت میں ہو یا قرض کی صورت میں ہو دونوں صورتوں میں ہدف کے آخرے سرے (Tail end) پر اس کا تین چو تھائی حصہ پہنچنا چاہئیے تاکہ اس کے مثبت اثرات نمایاں طور پر نظر آئیں Tangible impactسب کے سامنے ہو،اور آنے والے سالوں میں لوگ خود ان کا موں کی تعریف کریں، ٹارگٹ کے آخرے سرے پر کچھ نظر نہ آئے تو اس کا فائدہ نہیں ہوتا ترقی کے لئے عالمی بینک کے ساتھ صو بائی حکومت کی نئی شراکت داری خو ش آئیند ہے خدا کرے کہ ہماری ہماری قیادت بے لوث خدمت کے جذبے کے تحت اس پر عمل در آمد کر ائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔