تجار یونین بونی کا ملاکنڈ ڈویژن میں متوقع ٹیکس کے نفاذکے بارے سیاسی نمائندے وا علاقے کے معززین کے ساتھ خصوصی نشست ۔

اپرچترال (ذاکرمحمدزخمی)تجار یونین بازار بونی اپر چترال کے حلف برداری کے بعد دوسرا اہم اجلاس زیر صدارت رحیم خان بونی میں منعقد ہوا اس اجلاس میں کابینہ کے اراکین، تاجر حضرات،وکلا برادری کے نمائیندے،علاقے کے سیاسی نمائندہ گان و معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ایجینڈے کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں ممکنہ ٹیکس کے نفاذ پر بازار یونین اپنی موقف پیش کی۔تجار یونین کےاس اجلاس کے ذریعے 14 مئی کےشٹر ڈاون ہڑتال میں سیاسی وعوامی حلقوں سے حمایت حاصل کرنا مقصودتھا۔میٹنگ میں موجود گل مراد خان ایڈوکیٹ صدر بار نے ٹیکس کے بارےمیں تفصیلی اگاہی دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس موضع پر بات کرنے کے لیے طویل دورانیے کا وقت درکار ہوتا ہے۔سیر حاصل اس پر بحث کرنا مختصر وقت میں ممکن نہیں۔دیگر مقررین جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سراج علی خان ایڈوکیٹ ,سابق امیدوار صوبائی اسمبلی،اے۔این ۔پی کے سینئر ترین رہنما شاہ وزیر لال، ممتاز سیاسی وسماجی شخصیت سابق چیرمین فیض الرحمٰن ،پاکستان مسلم لیگ نواز کے جنرل سکرٹری پرنس سلطان الملک ،جمیل احمد لال ،سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن لال، سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل کشافت یونس، سابق ضلعی خاتون کونسلر حصول بیگم ، تحصیل صدر پاکستان مسلم لیگ نواز جاوید خان لال، سابق صدر تجار یونین بونی محمد شفیع ،ریشن بازار کے نمائندگی کرتے ہوئے شہزاد احمد شہزاد، ظہیر الدین بابر و دیگر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے تجار یونین کے موقف کی تائید کی کہ ملاکنڈ ڈویژن خصوصاً اپر چترال بنیادی سہولیات سے محروم علاقہ ہے یہاں کے عوام اس وقت کسی بھی طرح کے ٹیکس کا متحمل نہیں ہو سکتے ساتھ علاقہ گزشتہ کئی سالوں سے مختلف قدرتی افات سے دوچار ہے خاص طور پر ہر سال کے سیلاب نے علاقہ کی بنیادی ڈھانچے اور معشیت کو تباہ و برباد کرکے رکھدی ہے۔ دوسرے تمام ضلعوں کے نسبت اپر چترال پاسماندہ ترین ضلع ہے ایسے میں لوگوں کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر ٹیکس نافذ کرنا نا انصافی کے مترادف ہے۔ عمائدیں اور معززین کا کہنا تھا کہ ہم تجار یونین کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں اور قانون کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔اس میٹنگ میں ڈرائیور یونین کے نمائیندے بھی موجود تھے۔

صدر تجار یونین نےخطاب میں سیاسی عمائدین اور معززین کا  میٹنگ میں شرکت کرکے مفید مشورے دینے اور تجار یونین کے موقف کی تائید کرنے پرشکریہ ادا کیا اور کہا ٹیکس کانفاذ نہ صرف تاجر یونین کا مسلہ ہے بلکہ عوامی نوعیت کا مسلہ ہے۔ رحیم خان نے کہا کہ تجار یونین بازار بونی قرب و جوار کے تاجر برادری کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہے اور حالات کے مطابق ان کو اعتماد میں لے رہا ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔