ایف ایل آئی کی تعاون سے بننے والی یدغا زبان میں پہلے گیت کی رونمائی

چترال(چترال ایکسپریس)”ہماری زبان میں گیتوں کی کوئی روایت نہیں تھی، لوگ ہماری زبان کو  پیر ناصر خسرو کی “متبرک” زبان قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں گیت ، گانے نہیں ہوتے”، ان خیالات کا اظہار یدغا زبان کے شاعر، علاوالدین حیدری نے پبلک لائبریری چترال میں یدغا زبان میں پہلے گیت کی رونمائی کے دوران کیا۔ ایف ایل آئی کے طرف سے چترال میں بولی جانے والی بارہ زبانوں کے ریسرچرز ، ادیبوں، شعراء اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلئے رواں ماہ مئی کے پہلے ہفتے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں یدغا زبان میں گیتوں کی رونمائی شامل تھی۔ یدغا زبان کے محققین اور یدغا کمیونٹی میں سے اپنے تربیت یافتہ افراد کے مطالبے پر ایف ایل آئی نے اس زبان کے چار گیتوں کی سٹوڈیو میں ریکاڑڈ کرنے میں مدد فراہم کی۔ ہم اس پروگرام کے ذریعے یدغا زبان بولنے والے بچوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کی زبان ایک مکمل زبان ہے، اس میں گیت اور تفریح کا سامان موجود ہے، اسے اپنائیَے اور ترقی دیں اور اس عزم کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ ایف ایل آئی اپنی زبان کی ترقی کیلئے کی جانے والی آپ کی ہر کاوش میں آپ کا ساتھ دے گا۔

یدغا زبان چترال میں ایرانی گروپ میں شامل زبانوں میں شامل ہے، علاقے کے ثقافتی تنوع کی بقاء کیلئے ضروری ہے کہ تمام زبانوں کو کمزور ہونے سے بچایا جائے اور تمام زبانوں کو متعلقہ علاقے میں مضبوط کیا جائے، زبانوں میں موجود لٹریچر کو محفوظ کیا جائے تاکہ آئندہ کی نسلیں اس سے مستفید ہوسکیں، اور محققین کیلئے دستیاب ہوسکیں، اس مقصد کیلئے ایف ایل آئی نے چند سال پہلے اپنے ایک سالہ پروجیکٹ میں یدغا زبان کی دستاویز بندی کی، اس پروجیکٹ میں یدغا زبان کیلئے لکھائی کا نظام متعارف کرایا گیا اور پہلی بار یدغا زبان تحریر میں آگئی، اس پروجیکٹ میں یدغا کمیونٹی کے کچھ لوگوں کو بھی دستاویز بندی کی تربیت دی گئی اور ان کے ذریعے  یدغا زبان کے لئے لکھنے کا قاعدہ بنایا گیا، مجموعہ الفاط ترتیب دیاگیا، دس لوک  کہانیوں کو جمع کرکے پھر انہیں ترجمہ کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد یدغا کیلئے اینڈرائیڈ کی بورڈ بنایا گیا  جس سے نوجوانوں کو اپنے موبائل فون پر اپنی زبان کو سوشل میڈیا اور دیگر پیغام رسانی کے پلیٹ فارم پر استعمال کرنے میں مدد ملی۔ ایف ایل آئی کی طرف سے یدغا ثقافت میں “پھتاک” کے تہوار کی سالانہ بنیاد پر منعقد کرنے  کیلئے بھی سپورٹ مہیا کیا جاتاہے۔

 یدغا زبان چترال میں وادی لٹکوہ میں چھ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی زبان ہے، اس زبان کی تاریخ پانچ سو سال پرانی ہے جب  یدغا بولنے والے افغانستان کے منجان نامی علاقے سے یہاں آکر آباد ہوئے، اس لئے اس زبان کو منجی زبان کے ساتھ بھی تشبیح دی جاتی ہے، اپنے خطاب کے دوران یدغا زبان کا تعارف پیش کرتے ہوئے علاوالدین حیدری نے  مزید کہا کہ زرتشت مذہب کا لٹریچر ، خصوصی طورپر آوستہ کی کتاب یدغا زبان میں ہے۔ چترال میں کھوار بولنے والے یدغا زبان کو اس کے جغرافیہ کی نسبت سے “لٹکوہی وار” کا نام دیتے ہیں، بہت سے محققین کے مطابق  یدغا زبان آج سے چند سال قبل لٹکوہ کے بہت سارے دیہات میں بولی جاتی تھی، لیکن آہستہ آہستہ یہ زبان کمزور ہوتی گئی، اور اس وقت پرابیگ کے ساتھ چند دیہات میں موجود ہے، یدغا برادری کے بچے اپنی زبان نہیں سیکھتے، اکثر والدین بھی اپنے بچوں کو اپنی زبان سکھانے کی جستجو نہیں کرتے۔ علاقے کی بڑی زبان “کھوار” بولنے والی برادری سے تعلقات اور شادی بیاہ کی وجہ سے روایتی طورپر یدغا بولنے والے گھرانوں میں کھوار زبان کی سرایت ہوگئی ہے اور یدغا زبان کیلئے حالات مخدوش ہوگئے ۔  سرکاری و نجی سکولوں میں کھوار بولنے والے اساتذہ کی موجودگی نے یدغا بولنے والے بچوں کو مزید اپنی زبان سے دور کردیا ، جبکہ یدغا علاقے میں موجود دیگر سرکاری دفاتر جیسے ہسپتال، پولیس اسٹیشن وغیرہ میں بڑی زبان بولنے والے افراد  کی موجودگی جیسے عوامل نے یدغا زبان پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور نیتجے کے طورپر یدغا زبان دوسری نسل میں منتقل نہیں کی جارہی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔