کالاش فیسٹول جو شی (چلم جوشٹ) اپنی رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیر

چترال (محکم الدین) ڈھائی ہزار سال قدیم کالاش فیسٹول جو شی (چلم جوشٹ ) ڈھول کی تھاپ پر نوجوان مردو خواتین کی گلے میں باہیں ڈال کر رقص،سریلی گیتوں اور اپنی رنگینیوں کے ساتھ کالاش ویلی بمبوریت کے مرکزی مقام بتریک میں اختتام پذیرہوا ۔ جس میں کنیڈا،برطانیہ،جاپان سمیت پوری دنیا کے غیرملکی اور ملکی سیاحوں نے شرکت کی اور اس فیسٹول کو امن اور قدرتی نظاروں اور قدیم تہذیب کے ماحول میں دنیا کا خوبصورت ترین تہوار قرار دیا اورکہاکہ وادیوں کے لوگ انتہائی ملنسار ،محبت کرنےوالے اور سیاحوں کا خیال رکھنے والے لوگ ہیں ۔ سیاحوں نے فیسٹول کے یادگار لمحات کو اپنےکیمروں اور یادوں میں محفوظ کیا ۔فیسٹول میں بہت سے غیرملکی اور ملکی خواتین نے کالاش قبیلے سے یکجہتی اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لباس کو زیب تن کیا تھا اور اس پر فخر محسوس کر رہی تھیں ۔ کالاش فیسٹول 2024 کےاختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان تھے۔جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈی پی او لوئر چترال افتخار شاہ ،سابق معاون خصوصی وزیر اعلی وزیر زادہ ،کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی منہاس الدین،کلچر اینڈ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی آفیسران موجود تھے ۔ کالاش قبیلے کی طرف سے ڈپٹی کمشنر چترال اور دیگر مہمانوں کو چوغے پہنائے گئے۔ اس کے بعد حسب روایت ڈھول بجاتے ،سیٹیان مارتے ،اور اخروٹ کی ٹہنیوں کو ہاتھوں میں ہلاتے شان و شوکت کے ساتھ بڑے ڈانسنگ پلیس میں داخل ہوئے جو کہ زیر تعمیر ہے ۔یہ ایک حوبصورت نظارا تھا ۔ فیسٹول کے پرامن انعقاد کیلئے سکیورٹی کے فل پروف انتظامات کئے گئے تھےاور علاقے کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک رکھنے و بے ہنگم سیاحت کو کنٹرول کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے جاری ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی تھی ۔ جس کی وجہ سے سیاحوں کو بہت سہولت ملی ۔

تاہم سیاحوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس امر پر انتہائی ا فسوس کا اظہار کیا کہ جس شوق اور جوش و جذبے سے سیاح چترال اور کالاش ویلیز جانے میں دلچسپی لیتے ہیں ۔ ان تک پہنچنے کیلئے انتہائی خطرناک اور خستہ حال سڑکوں سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے فوری طور پر ان سڑکوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔