تجارت کا پیشہ. تحریر: اقبال حیات اف برغذی

زندہ رہنے کے لئے رزق کی ضرورت ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس کے حصول کے لئے مختلف رنگ کی کاوشین کی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب ہمیں حلال رزق کے حصول کی کاوش کےلئے رہنمائی کرتاہے۔ اور ہر قسم کے حرام اور ناجائز آمدن سے اجتناب کا درس دیتا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں مختلف قسم کے ذرائع بروئے کار لاتے جاتے ہیں وہاں تجارت کا پیشہ بھی ایک قابل ذکر ذریعہ ہے۔ یہ پیشہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک مقدس حیثیت کا حامل ہے کیونکہ ہمارے عظیم               پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشے سے وابستگی رہی ہے اس لئے یہ پیشہ فیوض وبرکات کا حامل ہے۔ اور ساتھ ساتھ اخروی لحاظ سے بھی دینی اقدار کی پاسداری پر مبنی تجارت پر قیامت کے دن بہت بڑے اعزاز کی نوید بھی دی گئی ہے۔ اور ہمارے عظیم پیغمبر کے ارشاد کے مطابق دیندار اور دیانتدار تاجر کو قیامت کے دن پیغمبروں،صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہم نشین ہوگا۔ اس پیشے کو ایسی شان سے نوازنے کے لئے چند عوامل کی پاسداری کی اہمیت مسلمہ ہے۔ تجارت پیشہ انسان کو مال کی قیمت سے متعلق قسم کھانے سے احتراز کرنا ہوگا۔ ناجائز منافع خوری سے اپنا دامن بچانا ہوگا۔ گران فروشی کی نیت سے مال کا ذخیرہ کرکے رکھنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔مال فروخت ہونے کے بعد خریدار کی طرف سے اسے واپس کرنے کی صورت میں خندہ پیشانی سے واپس لینے  پر پیغمبرصلی اللہ علیہ      وسلم کی طرف سے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اور ساتھ ساتھ مال میں نقص کی نشان دہی کی جائے ۔ حضرت عمر  کے دور خلافت میں دستکاری  سے وابستہ دو خواتین اپنے پیشے کے ذریعے حاصل شدہ آمدن کو اسلام کے تقاضوں سے ہم اہنگ کرنے کے لئے دن اور رات کے وقت کی جانے والی دستکاری کی قیمتوں میں فرق کرنے کی ضرورت کے بارے میں خلیفہ وقت سے مسئلہ دریافت کرتی ہیں ۔جو مذہب سے وابستگی کی انمول مثال ہے۔ ان حقائق کے آئینے میں آج اگر اس پیشے کا جائزہ لیا جائے گا تو ایک استحصالی رنگ میں نظر آئے گا۔ اشیائے ضرورت کے دام بڑھتے ہی اپنے سٹاک میں موجود اشیاء پر اس کا اطلاق کیاجاتا ہے اور قیمتوں میں کمی ہونے پر اپنے پاس موجود اشیاءکو اس سے مستشنیٰ قراردیاجاتا ہے۔ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناجائز اور غیر اسلامی فعل ہے ۔ اگرچہ اس قسم کے کردار سے گننے کی حد تک مال ودولت میں اضافہ ہوگا۔ مگر سکون قلب کی دولت سے محروم ہونا پڑے گا۔جو یقیناً ایک بہت بڑے خسارے کا سودہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔