بونی لاوارث ہے تو ڈوبنا بنتا ہے..تحریر:ناصر علی شاہ

اپر چترال کے ہیڈ کواٹر بونی جو انتہائی پرکشش اور خوبصورت علاقہ ہے اور اپر چترال کا بدقسمت ہیڈ کوارٹر ہے۔ بونی کے بلکل سامنے چترال شندور روڈ پر کام کے دوران دقیانوسی طریقے سے بلاسٹینگ کیا گیا ٹنل بلاسٹینگ کی وجہ متعدد گھرانوں کو نقصان پہنچ چکا ہے تو کوئی معجزانہ طور بچ چکے ہیں میوہ دار درخت ہو کہ جلانے کی لکڑی ملیامیٹ کیا گیا ہے۔

بلاسٹینگ کی وجہ سے بڑے بڑے پتھر اور بجری دریا میں گر چکے ہیں لشٹ کے باسیوں نے کئی دفعہ احتجاج ریکارڈ کروائے، عدالت کا واضح حکم ہونے کے باوجود وہ پتھر نہیں اٹھائے گئے اب حال یہ ہے ان کی وجہ سے بونی کی طرف کٹاؤ شروع ہو چکا ہے اور ایک مہینے تک تاخیر ہوئی تو بونی کو بچانا ناممکن ہوگا۔

کیا این ایچ اے کی لگام کسی کے ہاتھ میں نہیں؟؟؟
کیا ٹھیکدار با اختیار اور بونی کے بڑے اداروں میں بیٹھے زمہ داران بے اختیار ہیں؟؟
کیا بونی کو ڈبونے کا کوئی منصوبہ شامل ہے جس کی وجہ سے آنکھیں اور کان بند کر رہے ہیں؟
یا بونی کے عوام کو عوام نہیں بلکہ بوجھ سمجھا جارہا ہے؟؟؟

کام شروع ہونے سے سال پہلے باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے روٹ تبدیل کرنے کا مشورہ دیکر لکھا تو اہلیان مستوج ،یارخوں و لاسپور کے عوام ہمیں اپنا دشمن سمجھ کر بھرپور مخالفت کی شاید آج ان کو خوشی ہو رہی ہوگی کیونکہ بونی کی کٹائی شروع ہو چکی ہے

لشٹ کے عوام کی طرف سے وزیراعلی خیبرپختونخوا اور ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اور این ایچ اے کے زمہ داروں سے ایکشن لیکر بونی کو بچانے کی پرزور اپیل ریکارڈ کروایاجارہا ہے اگر ایک مہینہ اور تاخیر کی گئی پھر کوئی بھی اور کسی بھی طریقے سے کٹائی کو روک نہیں پائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔