گرم چشمہ:گراونڈ مسلئہ،احتجاجی دھرنے کو 24 گھنٹے گزر گئے، انتظامیہ اور زمہ داران مکمل خاموش

چترال  (چترال ایکسپریس)گرم چشمہ گراؤنڈ کے مسئلے پر ایل ڈی ایف کی زیر نگرانی ہونیوالے احتجاجی دھرنے کا آج دوسرا دن ہے۔ مگر اب تک انتظامیہ اور ذمہ داران مکمل خاموش ہیں۔ گرم چشمہ کے عوام رات بارش میں رات باہر کھلے آسمان تلے گزار چکے ہیں۔ اور جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے۔
ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ایل ڈی ایف کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم کسی شخص سے یا کسی ادارے سے کچھ نہیں مانگ رہے ہیں۔ یہ ریاست ہماری ہے اور ہم ریاست سے اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں۔ ہمیں اپنی ریاست پر بھروسہ ہے وہ ہمارا مسئلہ فوری حل کرے گا۔ اگر ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ہم کسی صورت اپنے دھرنے سے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرم چشمہ روڈ پیدل چلنے کے قابل نہیں ہے۔ این ایچ اے نے جس بندے کو ٹھیکہ دیا وہ پشاور میں بیٹھا ہوا ہے اور یہاں عوام شدید مشکلات کا شکار ہے ہم اب بھی این ایچ اے والوں مطالبہ کرتے ہیں کہ گرم روڈ کی عمومی اور پلوں کی خاص طور پر مرمت کا کام مکمل کیا جائے۔ دوسری صورت میں اگر انتظامیہ ہر مسئلہ احتجاج اور دھرنے کے بعد ہی حل کرنے پر آئے تو گراؤنڈ کا مسئلہ ہونے کے بعد ہم اپنا بوریا بستر لے کر چومبور پل پر دھرنے کے لئے حاضر ہیں۔ایل ڈی ایف کے جنرل سیکریٹری نظار شاہ کا کہنا ہے کہ ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے۔ یہ صرف گراؤنڈ کا مسئلہ نہیں کوئی بھی بنیادی انسانی ضرورت گرم چشمہ کے عوام کو مہیا کرنے کو تیار نہیں۔گرم چشمہ روڈ ہو، صحت کا معاملہ ہو یا گودام گرم چشمہ۔ ہر مقام پر ہماری تذلیل کی جارہی ہے۔
نائب صدر شیر اعظم نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست ماں ہے اور کل سے بچے بے یارو مددگار بیٹھے ہیں۔ ہماری انتظامیہ کی خاموشی ہمارے لئے حیران کن ہے۔ چیئرمین ایل ڈی ایف قیمت خان کا کہناتھا کہ ہم پرامن لوگ ہیں۔ اپنا حق بھی پر امن طریقے سے مانگ رہے ہیں۔ ہم کسی بھی صورت اپنے لئے اور حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہ رہے ہیں مگر عوام کے برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ریاست اس حد سے پہلے ہمارے مسئلے حل کرے گی۔
ایل ڈی ایف کے زمہ داران نے اس احتجاج میں ساتھ دینے پر انجیگان یوتھ ایسوسی ایشن، بازار یونین، ڈرائیور یونین، مقامی سیاسی لیڈرشپ، عوام لوٹ کوہ اور خاص طور پر چترال کے میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔