۔۔۔دھڑکنوں کی زبان۔۔۔اساتذہ ہراسانی ۔۔محمد جاوید حیات

پچھلے کچھ سالوں سے ملک خداداد میں جو بھی، جن کی بھی حکومت آٸی ہے اس نے اساتذہ کی ہراسانی میں کوٸی کسر چھوڑا نہیں ہے ۔۔بات اہم ہے کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہے نونہالان قوم کو اس ڈیجیٹل دور میں دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دینا ہے فرسودہ طریقہ تدریس اور نصاب تبدیل کرنا ہے مقدار تعلیم کی جگہ معیار تعلیم کو اہمیت دینا ہے ۔ایسی کوشش کرنی ہے کہ قوم کا کوٸی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ جاۓ ۔تعلیم اس کا بنیادی حق ہو۔ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوۓ اساتذہ کی اہمیت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے ۔معیار تعلیم کے لیے معیاری اساتذہ کی ضرورت ہوگی وہ جدید تعلیم یافتہ ، تدریس کے گروں سے آگاہ ،پیشہ ور، محنتی اور اپنے کام میں مشاق ہوں ۔۔میرے خیال میں معاشرے کے کسی بھی طبقے کی کام چوری اور اپنے فراٸض میں غفلت برداشت کی جاۓ گی سواۓ اساتذہ کے ۔۔اگر استاذ اپنے کام میں ماہر نہ ہو اور اپنی ڈیوٹی سے غفلت برتے تو یہ قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاۓ گا قوم برباد ہوجاۓ گی ۔قوم کو اور محکمے کو اس پر سوچنا چاہیے کہ ان کے اساتذہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہوں ۔۔ہٹلر نے اس لیے کہا تھا کہ جرمنی کی فوج پے درپے شکست کھا رہی ہے قوم کے اساتذہ کو کہیں چھپاٶں۔ فوج کو مٹنے دو یہ اساتذہ پھر قوم بناٸیں گے ۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ استاذ کس طرح قوم بناۓ جو اپنا پریڈ ٹھیک طریقے سے نہیں لیتا سال بھر مختلف ڈیوٹیوں اور دھندوں میں ملوث رہتا ہے ۔حکومت اس مسلۓ پر سنجیدہ سوچنے کی بجاۓ سکولوں کی پرایویٹایزیشن ،اساتذہ کو فارزغ کرنے ، پنشن ختم کرنے ، گولڈن ہینڈ شیک دینے پر تلی رہتی ہے یہ اقدامات ان اساتذہ کے جذبوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں جو مخلص اور پیشہ ور ہیں ۔۔ابھی اخباروں میں ایک شرمناک خبر چل رہی ہے کہ کتنے لاکھ پراٸمری سکولوں کو نجی تحویل میں دیا جاۓ گا کتنے لاکھ اساتذہ کو فارغ کیا جاۓ گا اور اس طرح سالانہ قوم کو اتنے ارب روپے کی بچت ہوگی ۔۔۔سوال یہ ہےکہ قوم کے پیسہ جو قوم کے بچوں کی تعلیم پہ خرچ نہ ہوگا بچے گا پھر یہ پیسہ کہاں خرچ ہوگا حکمرانوں کی عیاشیوں پہ خرچ ہو گا ۔۔یہ کیسا بچت ہے ۔۔استاذ کو سہولیات مہیا کرکے استاذ بنانے کی بجاۓ اس کو ہراسان کرکے اس کے مقام کو برباد کیا جارہا ہے ۔۔استاذ کی غفلت ناقابل معافی جرم ہے یہ استاذ قوم پہ بوجھ اور قومی خزانے پہ بھی بوجھ ہے اس کو فارغ کرنے کی بجاۓ پوری اساتذہ برادری کو ہراسان کیا جا رہا ہے اب استاذ شاگرد کا درد اٹھاۓ پھرنے کی بجاۓ اپنا درد اٹھاۓ پھررہا ہے ۔کہ پنشن ختم ہوگا تو کیا ہوگا ۔مراعات ختم ہونگے تو کیا ہوگا ۔۔محکمانہ ترقی روک دی گئی ہے استاذ دردر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ۔اسمبلی ہالوں میں بیٹھے ہوٶں کی مراعات بڑھ رہی ہیں ۔انصاف کے چمپین کو مراعات ختم کرنے اور پنشن کی کوٸی ٹنشن نہیں ۔کسی اشرافیہ کو زندگی کی جنگ لڑنے کی کوٸی ٹنشن نہیں ۔ایک استاذ ہے جو زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے اس کا پنشن جو 45 فیصد سے 35 فیصد پہ لاٸی گئی تھی 25 فیصد پہ لاٸی جا رہی ہے بلکہ اس کی موت کے بعد پنشن بند کیا جارہا ہے آہستہ آہستہ اس کو فارغ ہی کرکے قومی دولت کی بچت ہو رہی ہے ۔۔خزانے پر اس بوجھ کو ٹھکانے لگایا جارہا ہے ۔قوم کا یہ حساس طبقہ کس ہوس و آرزو سے کہدے کہ اس کا بھی کوٸی ملک ہے اس کی بھی کوٸی حکومت ہے ۔استاذ کی صلاحیتوں سے غفلت بھی قوم کی تباہی ہے اس کی صلاحیتوں کی کڑی نگرانی نہ کرنا بھی قوم کی تباہی ہے اس کو ہراسان کرنا بھی قوم کی تباہی ہے ۔اگر سرفروش سپاہی محاظ میں دلبرداشتہ ہوکر بندوق پھیک کر بیٹھ جاۓاور اگر استاذ دل برداشتہ ہوکر قلم چھوڑ کر بیٹھ جاۓ تو اس قوم کی حفاظت کون کرے گا ۔وہ بانجھ بھی ہوجاۓ گی اور مٹی بھی جاۓ گی ۔۔ اللہ ہماری حفاظت فرماۓ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔