چترال میں مارخور کاعالمی دن منایاگیا

چترال (چترال ایکسپریس) اس سال اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے 24مئی کو مارخور کا عالمی دن قراردئیے جانے کے بعد پہلے مرتبہ چترال میں یہ دن منایا گیاجس کے لئے چترال گول نیشنل پارک کے کور زون میں ایک تقریب منعقدہوئی جس میں جنگلی حیات کی کنزرویشن کے لئے کام کرنے والی سول سوسائٹی کے فعال کارکنان اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ تقریب کا انتظام چترال گول نیشنل پارک وائلڈ لائف ڈویژن ا ور چترال گول کنزرویشن ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا جس میں رسمی طور پر کیک کاٹنے کے بعد چترال میں مارخوروں کی آبادی کے صورت حال اور ایکو سسٹم میں اس جانور کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر پارک ایسوسی ایشن کے صدر سلیم الدین، وائلڈ لائف ڈویژن کے نمائندہ محمد علی، چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین اور دوسروں نے کہاکہ چترال میں کنزرویشن کمیونٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1980ء کے عشرے میں معدومیت کے خطرے سے شکار مارخور کی آبادی اب چار ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ صرف چترال گول نیشنل پارک میں اس کی آبادی ڈھائی ہزار کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں 2مئی کو ایک قرارداد کے ذریعے 24مئی کو مارخور کا عالمی دن قرار دلوانا ایک عظیم کامیابی ہے جوکہ قابل ستائش ہے جس سے اس جانور کی کنزرویشن میں بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کاوشوں کو یکجا کرنے میں مدد ملے گی۔ا نہوں نے کہاکہ اس کی ماحولیاتی اہمیت کے پیش نظر اسے پاکستان کی قومی جانور کی حیثیت بھی حاصل ہے جوکہ آزاد کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے علاقے کالام سوات، کوہستان اور چترال میں پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں اس کی کنزریشن میں محکمہ وائلڈ لائف ویلج کنزرویشن کمیٹی کے ماڈل پر عمل پیراہے جس کی وجہ سے کمیونٹی اس کی تحفظ میں دلچسپی لیتی ہے۔ا نہوں نے کہاکہ چترال گول نیشنل پارک مارخوروں کا سب سے بڑا ہبیٹاٹ (مسکن) ہے اور اس عالمی دن کویہاں منانے سے اس کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔