چترال میں 4600 روپےفی 40کلو گرام کے حساب سے گندم کی قیمت فروخت مقرر

چترال (چترال ایکسپریس) لویر چترال میں محکمہ خوراک کی طرف سے گندم کی خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اب تک پنجاب سے یہاں لائی جانے والی 3492ٹن گندم کی خریداری براہ راست کسانوں سے کی جاچکی ہے۔چترال شہر میں واقع دنین کے مین گودام میں مقامی میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ارشد حسین اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ریاض احمدنے کہاکہ اس سال صوبائی حکومت نے براہ راست کسانوں سے گندم خریدنے کا فیصلہ کیاتھا جس کے تحت کسان اپنے گندم کی پیدوار کو محکمہ خورا ک کی کسی بھی گودام میں پہنچائے گا جہاں کوالٹی کی چھان بین کے بعد اس سے گندم خریدا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے ہر ضلع کی سطح پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ زراعت اور دوسرے اسٹیک ہولڈروں پر مشتمل پروکیورمنٹ کمیٹی تشکیل دی ہے جوکہ کوالٹی اور کوانٹٹی دونوں پر نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں 3900روپے فی 40کلو گرام یعنی ساڑھے97روپے فی کلوگرام کے حساب سے گندم کی قیمت خرید مقررکی گئی ہے۔ انہوں نے عوام میں پائی جانے والی ایک غلط فہمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ 3900 روپے فی 40کلوگرام گندم کی قیمت خرید ہے جبکہ قیمت فروخت اب بھی 4600روپے فی 40کلوگرام یعنی 115فی کلوگرام برقرار ہے۔ ڈی ایف سی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلعی لیول پر کسان سے براہ راست گندم خریدی جارہی ہے جس سے صوبائی خزانے کو مجموعی طور پر اربوں روپے کی بچت ہوگی جبکہ چترال جیسے دورافتادہ اضلاع میں گندم کی ٹرانسپورٹیشن کی سوفیصد بچت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت چترال کے لئے گندم کی پروکیورمنٹ کی حد 9000ٹن مقرر کی گئی ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کے رکن محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائرکٹر رفیق احمد نے کہاکہ گندم کی کوالٹی کو سائنسی خطوط پر چیک کیاجارہاہے جبکہ گندم کے دانوں کے اندر نمی کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے بھی مشین استعمال کی جارہی ہے۔ کمیٹی کے ممبر اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے صدر گل بہار خان بھی اس موقع پر موجود تھے اور گندم کی خریداری کے طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔