اس سال انجمن ترقی کھوار چترال کا 70واں سالگرہ منانے کی تیاری ہونی چاہئیے۔پروفیسر اسرار الدین

چترال ( محکم الدین ) چترال کے معروف تاریخی ، ثقافتی اور ادبی شخصیت سابق ڈین جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی پروفیسر اسرارالدین نے اپنی رہائش گاہ سینگور چترال میں ممتاز دانشور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، چترال کی تاریخ و ادب کے محقق محمد عرفان عرفان ، نوجوان ریسرچر ارشد عرفان سے ایک غیر رسمی گفتگو میں کہا ہے ۔ کہ چترال کی ادبی تنظیم انجمن ترقی کھوار ایک تناور درخت ہے۔ جس کی عمر اب 70 سال ہونے کوہے ۔ اس تنظیم نے بہت شعراء و ادباء اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شخصیات پیدا کئے ۔ شعرو ادب و ثقافت اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی صلاحیتوں کو نکھارا اور انہیں شناخت دی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے لوگ اس کو اپنی قابلیت و صلاحیت سے ہی تعبیر کرتے ہیں ۔اگر انجمن ترقی کھوارچترال کے ادباء و شعرا کو یکجا ہونے ایک دوسرے کو سننے اور لکھت کےلئے پلیٹ فارم مہیا نہ کرتا ۔ تو شاید شعرو ادب سے وابستہ افراد کی صلاحتیں خوابیدہ رہ جاتیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی چھوٹی چھوٹی تنظیمیں اور فورمز انجمن کی کوک سے جنم لے چکی ہیں اور اس کے سائے میں زبان و ادب ،تاریخ اور مختلف ثقافت پر تحقیق و ریسرچ ہو رہے ہیں جبکہ یہ تنظیمات و فورمز زندہ رہنے کیلئےخوراک اور سایہ انجمن ترقی کھوار سے ہی حاصل کرتے ہیں ۔ انجمن ترقی کھوار کے قیام کے تقریبا ستر سال ہونے کو ہیں اس لئے اس کا ستر سالہ سالگرہ شایان و شان طریقے سے منانا انتہائی ضروری ہے ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور محمد عرفان عرفان نے پروفیسر کی بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ اس بات میں کوئی کلام نہیں ۔ کہ انجمن ترقی کھوار عالمی سطح پر زبان وادب کی ترقی کیلئے کام کرنے والی تنظیم کی حیثیت سے بہت پہلے پہچان پیدا کر چکا ہے ۔ انجمن کی سرپرستی میں کئی انٹر نیشنل کانفرنسز منعقد ہو چکی ہیں ۔ عالمی سطح پر سکالرز کے ساتھ اس ادبی تنظیم کے روابط ہیں۔ اور اس تنظیم کی سرپرستی میں کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ان میں زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے وہ کم وسائل کے حامل شاعر و ادیب بھی شامل ہیں ، جن کیلئے انجمن کے عہدہ داروں اور سرپرستوں نے ذاتی طور پر کوشش کرکے ان کی کتابیں شائع کیں جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف مقام ملا بلکہ حکومت کی طرف سے مستقل بنیادوں پر اعزازیہ بھی انہیں مل رہا ہے ۔اگر انجمن یہ کام نہ کرتا تو وہ لوگ حکومتی تعاون بھی حاصل نہ کرپاتے ۔ انہوں نے کہا کہ انجمن کے ستر سالہ سالگرہ منانے کی تجویز بہت اچھی ہے ۔ اس سے چترال میں ادب و ثقافت کے فروغ کیلئے مزید راہیں کھلیں گی ۔ تاہم یہ تجویز انجمن ترقی کھوار کے صدر شہزادہ تنویر الملک اور دیگر عہدہ داروں کے سامنے رکھی جائے گی ۔ جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔