داد بیداد..شہرداری کی نازبرداری..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دو خبریں تھوڑے وقفے سے آگئی ہیں اللہ کرے دونوں خبریں درست ہوں اور اللہ کرے دونوں خبروں پر عمل بھی ہوجائے پہلی خبر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے 2025کے بلدیاتی انتخابات کو دو سال موخرکرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کیا ہے دوسری خبر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے 2021میں منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کے لئے عالمی بینک کے ساتھ ایک پیکیج پر بات چیت کا آغاز کیاہے، پیکیج منظور ہونے کے بعد صوبے کے بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کا آغاز کیا ہے، پیکیج منظور ہونے کے بعدصوبے کے بلدیاتی اداروں کوترقیاتی فنڈ جاری کئےجائینگے انگریزی لفظ میونسپیلٹی کااردو تر جمہ بلدیہ کیا جاتا ہے فارسی میں اس کے لئے خوب صورت تر کیب ”شہرداری“ استعمال ہوتی ہے پاکستان سے ہمارا مختصر وفد ستمبر 2004میں یو نیسکو (UNESCO) کے ایک بین الاقوامی ورکشاپ میں شر کت کے لئے ایران گیاتھا، ہم نے ایران کے چارصو بوں میں 10شہر داریوں کا دورہ کیا ہر شہرداری پاکستان کی صوبائی حکومت کے برابر تھی بلکہ بعض معاملات میں بہتر تھی ہرشہر داری کے پاس بجلی کی پیداواراور تقسیم کا اپنا نظام تھا جو بہترین سسٹم کے تحت کام کر تا تھا ہر شہر داری کے پاس عوامی ٹرانسپورٹ کابے مثال نظام تھا جس کی ہر بات مثالی تھی ہر شہر داری کے پاس عجا ئب گھر وں اور کتب خانوں کامربوط سسٹم تھاہر شہرداری میں ایک کثیر المقاصدتالار (ہال)قائم تھا جہاں سیمنارز اور کانفرنسوں کے لئے 5زبانوں میں خود کار ترجمے کی سہو لت والے ہیڈفون دستیاب تھے وہاں کی شہرداری اس لئے ثروت مند اور بااختیار تھی کہ اس پر مرکزی حکومت کاکوئی جبرنہیں تھا صوبے کے گورنر کاکوئی جبرنہیں تھا، پاسداران انقلاب کی طرف سے کوئی حکم نہیں تھا ملکی عدالت کی طرف سے کوئی ظلم نہیں تھا شہرداری اپنے دائرہ اختیار میں خود مختار تھی صوبائی گورنر ہمارے ورکشاپ کے آخری اجلاس کے لئے ایسے وقت پر آئے جب ہم باہر لان میں چائے پی رہے تھے،ہم پاکستانی یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ صوبائی گورنر کے پاس کوئی گارڈنہیں تھا ایک ڈرائیور اورایک سکرٹری تھا ایک ہی گاڑی تھی شہر داری کے مدیر نے ان کا استقبال کیاذکر چھڑ گیا جب قیامت کا، بات پہنچی تیری جوانی تک میرا موضوع خیبر پختونخوا تھا شہر داری کے ذکر سے بات دور نکل گئی یہ بات باعث اطمینان ہے کہ صوبائی حکومت کو بلدیاتی اداروں اور ان اداروں کے اندر منتخب عوامی نمائیندوں کا خیال آگیا ہے 2021ء میں صوبے کے عوام نے بڑی امیدوں کے ساتھ بلدیاتی انتخا بات میں ووٹ ڈالے تھے سر کاری طور پر بتایا گیا تھا کہ انتخابات پر گیارہ ارب روپے کاخر چہ آیا انتخابات کے بعد چیئرمین، میراور ناظم بننے والے عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے اور ”اُمید سے“ تھے کہ ان کوا ختیارات اور فنڈ ملینگے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوابعض کو دفتر دکھایا گیا کچھ ایسے ہیں جن کو دفتر بھی نہیں ملا،اپریل 2022میں نئی حکومت آئی تو بلدیاتی کونسلوں کو غیر اعلانیہ طورپرعاق کردیا گیا، صو بائی حکومت کی طرف سے لا تعلقی کے مظاہرے کے بعد بلدیاتی نمائیندے ووٹروں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ان میں سے کچھ وطن میں رو پوش ہوگئے کچھ بیرون ملک چلے گئے، ایک آدھ بار بلدیاتی نمائیندوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے مگر نگران حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی اس حال میں اگر 2025ء کا سال پھر انتخابات کی نوید لیکر آجا تا تو نہ کوئی کاغذات نا مزدگی داخل کرتا نہ کوئی گیا رہ ارب روپے والے شو (Show) میں ووٹ ڈالنے جاتا شکر ہے حکومت کو اس قسم کی بداعتمادی کا حال معلوم ہوا،گراس روٹ لیول سے رپورٹیں آگئیں اور حکومت نے انتخابات ملتوی کرکے موجو دہ نمائیندوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کرنے پرغور شروع کردیا، اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی باعث اطمینان ہے کہ صو بائی حکومت نے وسائل کی کمی کااحساس کرکے بلدیاتی نظا م کو ترقی یافتہ ملکوں کی طرح مستحکم کرنے کے لئے عالمی بینک کے ساتھ ایک پیکیج پر مذاکرات کا آغاز کیا ہے تہران، بیجنگ، ٹوکیو، لندن اور واشنگٹن میں قومی یا صو بائی حکومت کا کوئی نام نہیں لیتا شہر کی مقامی حکومت کا نام لیاجاتا ہے، اللہ کرے ہمارے ہاں اس طرح کی سیاسی بلوغت دیکھنے میں آئے اور ”شہر داری کی ناز بر داری“ دیکھنے کو ملے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔