فری سٹائل پولو اور حکومتی رویہ…تحریر : محکم الدین ایونی

بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کے بادشاہ کے نام سے شہرت پانے والا چترال کا مقبول ترین کھیل پولو کو زندہ رکھنے کیلئے اس کے کھلاڑیوں کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،اس کا اندازہ عام لوگ اور تماشائی نہیں کر سکتے ، ” شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ” لیکن چترال کے پولو کھلاڑی اپنی شوق کی تکمیل سے زیادہ اس قدیم ثقافتی کھیل کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے اس کھیل کیلئے کھلاڑیوں کے ساتھ تعاون نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس کے باوجود چترال کی نوے فیصد سول پولو ٹیمیں لاکھوں روپے کی قیمت پر گھوڑے خریدتے ہیں ، ان کی پرورش پر ذاتی مشقت کے علاوہ بھاری اخراجات پرداشت کرتے ہیں اور لوگوں و سیاحوں کیلئے فری سٹائل پولو کی تفریح مہیا کرتے ہیں ۔ جبکہ موجودہ وقت میں گھوڑا پال کر اس مہنگے ترین کھیل کو زندہ رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ چترال کاشندور پولو فیسٹول عالمی سطح پر مشہور ہے ۔ جوہر سال حکومت کی سرپرستی میں کیلنڈر ایونٹ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ شندور پولو فیسٹول کیلئے کھلاڑیوں کی سلیکشن ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنامنٹ میں کیا جاتا ہے ۔اسی ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے حامل کھلاڑی اور گھوڑوں کو شندور کیلئے سیلکٹ کیا جاتا ہے اور پانچ ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں ۔چترال پولو ایسوسی ایشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے گذشتہ دس سالوں کے دوران شندور پولو فیسٹول کیلئے بہترین سیلکشن کی۔جس کے نتیجے میں چترال اور گلگت کی ٹیموں کے مابین شندور میں ہونے والے پولو کے مقابلوں میں چترال کو ہمیشہ کامیابی ملی ۔خاص کر فائنل میچ میں کامیابی تو چترال کا حق بن چکا ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ شندور میں یہ میچز جیتنے کیلئے کھلاڑیوں اور پولو ایسوسی ایشن کو جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔اس کا کوئی ریوارڈ کھلاڑیوں کو نہیں مل رہا ۔بلکہ کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے پولو کے ان ہئروز کو ٹرخایا جاتا ہے اور سیاحت کے فروغ کا فنڈ آفیسران وان کی فیملیز کی مہمان نوازی اور دیگر غیر ضروری مقاصد پر اڑایا جاتا ہے ۔ اصل لوگ محروم رہ جاتے ہیں ۔اور تو اور کھیل کے دوران زخمی ہونے والے کھلاڑیوں کے علاج معالجے کے اخراجات بھی نہیں اٹھائے جاتے ۔جس کی واضح مثال گذشتہ سال شندور پولو سی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی شکیل احمد عرف ( ژانہ ) ہے ۔ جو شندور میں کھیل کے دوران شدید زخمی ہوااور بارہ دن تک کو ما کی حالت میں رہا اس دوران خاندان پر جو حالت گزری وہ ناقابل بیان ہے ، خاندان کے افراد لاکھوں روپے اس کے علاج پر خرچ کرکے ذہنی اور مالی طور پر متاثر ہوئے ۔ لیکن اب تک اس زخمی کھلاڑی کے ساتھ کوئی امداد نہیں ہوئی۔اس طرح بہت سے کھلاڑی شندور میں زخمی ہونے کے بعد ذاتی اخراجات سے اپنا علاج کراتے ہیں ۔ مگر کلچر اینڈ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔
چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ سکندالملک نے اپنے حالیہ میڈیا ٹاک میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ہم نے پہلے ہی کھلاڑیوں کے فیصلے سے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ زخمی پولو کھلاڑی کے علاج کے اخراجات ادا کئے جائیں ، ڈسٹرکٹ پولو کپ ٹورنامنٹ  کے فورا بعد فی گھو ڑا پندرہ ہزار روپے الاونس ادا کئے جائیں ۔ اور شندور کیلئے سیلکٹڈ کھلاڑیوں کو ملنے والی الاونس کو بڑھاکر فی کھلاڑی تین لاکھ روپے کئے جائیں ۔ اسی طرح پولو کوچز ،جیوری ممبران ٹیم منیجر و دیگر عملےکے الاوسز میں بھی اضافہ کیا جائے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ۔کہ ابھی تک ان کے مطالبات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی جارہی ۔ اس لئے وہ حکومت کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتے ہیں ۔ کہ ان کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی گئی تو وہ شندور فیسٹول کا بائیکاٹ کریں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔