چترال کے منتخب نمائندگان کی وزیراعلی علی امین گنڈاپور سسے چترال کے مسائل کے حوالے سے ملاقات

چترال(چترال ایکسپریس )چترال کے منتحب نمائندگان ایم این اے چترال عبد اللطیف ،ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی ثریابی بی ،ایم پی اے لوئیرچترال فاتح الملک علی ناصر ،تحصیل چیئرمین موڑکھو تورکھو میر جمشید الدین ،تحصیل چیئرمین مستوج سردار حکیم اور تحصیل چئیرمین دروش فرید جان نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ساتھ خصوصی میٹنگ میں شرکت کی۔
چترال کے منتحب نمائندگان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا  علی امین گنڈاپور سے چترال کے مسائل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں اگاہ کیا کہ چترال کسی قسم کے ٹیکس کے متحمل نہیں ہوسکتا چترال ایک پسماندہ ضلع ہے جس میں روزگار کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہےانہوں نے مزید کہاکہ 2022سے فلڈ متاثر ین اور ٹھیکیداروں کے بقایاجات ریلیز نہیں ہوئی ہے جسے جلد ازجلد ریلیز کیاجائے۔وفد نے چترال کے پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے خصوصی فنڈکی فراہمی کا بھی پرزورمطالبہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے نمائندگان کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت چترال میں کسی بھی قسم کے ٹیکس کے نفاذ کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں اس کے علاؤہ چترال کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرنے کے یقین دہانی کرائی اور متاثر ین فلڈز اور ٹھیکیداروں کے بقایاجات جلد ازجلد ریلیز کرنے کا بھی اعلان کیا۔وزیراعلی نے کہاکہ چترال میں ٹورازم کے فروغ،انفراسٹرکچر کی بحالی اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت بھرپور اقدامات اٹھائی گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔