دادبیداد ۔۔پہلی بجٹ پہلی بار۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ایک اچھی خبر آئی ہے کہ حکومت نے روان مالی سال کے حساب میں پہلی بار بچت کی طرف توجہ دی ہے اس سلسلے میں حکومت نے اراکین اسمبلی کو دی جانے والے صوابد یدی فنڈ کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے،نیز یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ بہت جلد اراکین اسمبلی اور سرکاری عہدوں پر رہنے والے سیاستدانوں کے ساتھ دونوں درجوں کے افیسروں اور ججوں کے اثاثے میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھے جائینگے اگر حکومت نے اراکین اسمبلی کو ملنے والے صوابدیدی فنڈ ختم کردیے تو یہ اس دور کاسنہرا کارنامہ ہوگا ایک رکن اسمبلی کو 10کروڑ روپے ہر سال ملتے ہیں اگر ملک کے گیارہ سواراکین اسمبلی کو 5سالوں میں ملنے والے فنڈ کا حساب کیاجائے تواس کی کل مالیت آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے ملنے والے سودی قرض کی مجموعی مالیت سے دگنی ہوجاتی ہے خبرمیں بتایاگیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے مجوزہ تین سالہ قرض پروگرام کی منظوری کےلئے مطالبات کی جوفہرست حکومت     پاکستان کو پیش کی گئی ہے اس فہرست میں اراکین اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی شا مل ہے خدا کرے کہ یہ مطالبہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہو اور خدا کرے کہ یہ قرض ملنے کی شرائط میں سے ایک شرط ہو اور خدا کرے کہ ہماری حکومت بادل نا خواستہ اس شرط کو پوری کرے ”بادل نا خواستہ“ اس لئے لکھنا پڑا کہ اس بندر بانٹ میں سب سے زیادہ مال سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والے اراکین اسمبلی کو ملتا ہے اس کا بڑا حصہ مرکزی اور صوبائی وزرا کو ملتا ہے غریب غرباء کو کچھ بھی نہیں ملتا بقول فیض کچھ واعظ کے ہاں کچھ محتسب کے گھر جاتی ہے ہم میکشوں کے حصے کی مئے جام میں کمتر جاتی ہے     آئی ایم ایف کادیا ہوا قرض اوپر،اوپر ہوا میں اڑا یاجاتا ہے اور سود سمیت اصل زر کی ادائیگی غریب غرباء پر ٹیکس لگا کرکی جاتی ہے تجزیہ نگاروں اور ٹیکس گذاروں کو تعجب ہوتاہے کہ اب تک پاکستان میں سرکاری خزانے کے پیندے کی سیوریج نالی سے بہنے والا یہ سرمایہ ہمارے مہربان آئی ایم ایف کو بھلا کیوں نظر نہیں آیاتھا، بعض خوش فہم اور زور رنج دوستوں نے آئی ایم ایف کے بزر جمہروں کو مشورہ دینا شروع کیا ہے کہ لگے ہاتھوں پاکستان کے سرکاری خزا نے پر ڈاکہ ڈالنے والے مزید چوہوں کا صفایا کیاجائے مثلاً 5لاکھ روپے سے لیکر 75لا کھ روپے تک تنخواہ لینے والے سرکاری حکام کو سالانہ 6کھرب روپے کا تیل اور گیں مفت ملتا ہے مزید 6کھر ب روپے کی بجلی مفت ملتی ہے اس کو بھی بندکردیا جائے وزیروں کےپروٹوکول پرہرسال ایک کھرب روپے کا خرچہ آتا ہے یہ رقم آئی ایم ایف کے قرض کی ایک قسط کے برابر ہے، بزر جمہروں کایہ بھی مشورہ ہے کہ پاکستان میں 10بڑے گھروں کا سرکاری خرچہ ہر سال قومی خزانے کا 10کھرب روپے کھا جاتا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس خرچے کی کوئی ضرورت نہیں، چاروں صوبوں کےگورنر ہاوس اوروزیراعلیٰ ہاوس بالکل فضول ہیں، قومی مفاد کا کوئی کام ان سے وابستہ نہیں ان کاعملہ،ان کے بجلی،گیس لاورتیل کاخرچہ قومی خزانے پر بوجھ ہے اس طرح ہمارے ایوان صدراور وزیر اعظم ہاوس کا حجم بھی واشنگٹن ڈی سی کے وائٹ ہاوس سے دس گنازیادہ ہے کسی خلیجی ریاست کےعیاش بادشاہ کاذاتی خرچہ بھی پاکستانی حکمرانوں کے برابر نہیں،آئی ایم ایف کو قرض کی نئی قسط جاری کر تے وقت پاکستان کی حکومت کو بتانا چاہئیے کہ 10بڑے گھروں کی نجکاری کرکے عالیشان ہوٹل بناؤاور قرضوں کے بوجھ کوہلکا کرو،مشورہ دینے والوں نے یہ مشورہ بھی دیاہے کہ پاکستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں میں ملازمین کاحجم ضرورت سے 100گنازیادہ ہوگیا ہے ہر آنے والی حکومت اپنے سیاسی کارکنوں کو بھرتی کرتی ہے جہاں ایک ملازم ہوناچاہئیے وہاں 100بندے بٹھائے گئے ہیں اسلئے آئیندہ دس سالوں کے لئے سی ایس ایس، پی ایم ایس، آئی ایس ایس بی کو بندکیا جائے، سکیل 1سے 17تک تمام آسامیوں پر     پابندی لگائی جائے، تاکہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح افیسر خود اُٹھ کر چائے اور پانی پینے کی زحمت کرے نچلی سطح پر 100کلرکوں کاکام ایک کمپیوٹر سے لیا جا ئے تو قومی خزانے پربوجھ کم ہو گا، یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت ایجنڈابنے گاجس کی مدد سے پاکستان موجو دہ بحرانوں سے نکل سکے گا، اللہ کرے کہ اراکین اسمبلی کے صوابدیدی فنڈ ختم کر کے حکومت سرکاری خزانے کی بچت کا یہ منصوبہ مرحلہ وار شروع کرے اور قوم کو قرضوں سے نجات دے کر ترقی کی راہ دکھا ئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔