چترال میں اے کے آر ایس پی کے زیر اہتمام ریجنل کولیشن ایمپلائزکنونشن کاانعقاد

نوجوانوں کے معاشی بااختیاری اور روزگار کے مواقع پر زور

چترال (چترال ایکسپریس)آغاخان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) کے زیر اہتمام، ریجنل کولیشن ایمپلائز کنونشن چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اس اہم تقریب میں چترال کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ایمپلائرز، نوجوان ٹرینیز، سول سوسائٹی تنظیمات کے نمائندے اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
کنونشن کا آغاز تلاوت کلام مجید کے بعد اےکے آر ایس پی کے ریجنل پروگرام منیجر، سجاد حسین کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے اے کے آر ایس پی کی طرف سے چترال کے باصلاحیت نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اے کے آر ایس پی چترال کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے
پروگرام منیجر ورک اینڈ انٹرپرائز، فوزیہ قاضی نے اپنے پریزنٹیشن میں AKRSP کے Work and Enterprises پروگرام کا تعارف کرایا۔ اس پروگرام کا مقصد گلگت بلتستان اور چترال کے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کر کے انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جاتا ہے، جس سے وہ بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی معاشی حالت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
پروگرام منیجر سول سوسائٹی، مس منیرہ شاہین نے صنفی مساوات اور لیڈرشپ میں سول سوسائٹی ایکٹرز کے کردار پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خوشحالی اور سماج کی ترقی کے لیے ان کی شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے AKRSP کی طرف سے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔
منیجر ورک اینڈ انٹرپرائز، حمید الاعظم نے کنونشن کے اہداف اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس کنونشن کا مقصد چترال کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے آگاہ کرنا اور انہیں اپنے کیریئر کے انتخاب میں مدد کرنا ہے۔ انہوں نے اے کےآر ایس پی کے مختلف ٹریننگ پروگرامز اور ان کے فوائد کے بارے میں بھی شرکاء کو معلومات فراہم کیں۔
کنونشن سے چترال ٹریول بیورو کے چیف ایگزیکٹیو، سید ہریر شاہ نے چترال میں سیاحت کے شعبے میں موجود مواقع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے پر زور دیا کہ وہ سیاحت کے فروغ کے لیے عملی طور پر میدان میں آکر اپنے لیے روزگار حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ چترال کے نوجوانوں کے لیے بہترین روزگار کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
صحت کے شعبے سے سمیع الدین اور آئی ٹی سیکٹر سے ذوہیب علی شاہ نے بھی اپنے تجربات اور مواقع کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ان شعبوں میں کیریئر بنانے کی ترغیب دی۔
کنونشن کے دوران ٹرینیز نے اپنی کامیابیوں کی کہانیاں سنائیں اور اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے اے کے آر ایس پی کے پروگرامز سے انہیں کس طرح فائدہ ہوا ہے اس کی تفصیل بھی بتائی۔
اس موقع پر مختلف تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ شرکاء نے اے کے آر ایس پی سے درخواست کی کہ وہ چترال میں نوجوانوں کے لیے مزید روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کرے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔