میرولی المعروف کوراغو ماسٹرکوراغ میں سپردخاک

چترال (چترال ایکسپریس ) چترالی موسیقی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ میرولی چترال اور گلگت بلتستان میں اپنے سینکڑوں ہزاروں مداحوں کو افسردہ چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوگئے جسے ہفتے کے روز اپر چترال میں ان کے آبائی گاؤں کوراغ میں سپرد خاک کردئیے گئے۔ کوراغو ماسٹر کے نام سے مشہور آواز کا جادو جگانے والے گلوکار1970ءکے عشرے میں اپنی مقبولیت کی انتہائی چوٹی پر پہنچ چکے تھے اور اپنی مخصوص انداز میں کھوار زبان کے پرانوں گانوں سے ہزاروں دلوں کو اپنا بنالیا تھا۔ ثقافتی محفلوں کی جان بننے والے یہ عظیم گلوکار سات دہائیوں تک لوک موسیقی کی دنیا پر راج کرتا رہا اور گانے کے ساتھ ساتھ چترال اور گلگت بلتستان کی معروف آلہ موسیقی ستار بجانے میں بھی اپنی مثال آپ تھے جوکہ ان کی آواز کے پس منظر میں سامعین کے کانوں میں رس گھولتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ ماسٹر میر ولی کھوار زبان کی کلاسیکل گانوں میں ایک اتھارٹی سمجھاجاتا تھا جبکہ چترال کے معروف لوک دھن نان دوشی کو گانے میں انہیں ملکہ حاصل تھا اور نان دوشی گانے میں وہ شہرت حاصل کرچکے تھے۔ چترال کی ادبی اور ثقافتی حلقوں نے ماسٹر میرولی کے انتقال کو کھوار موسیقی کے لئے نقصان قرار دیا ہے جسے پورا کرنا مشکل ہے۔ چترال یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے استاذ اور انجمن ترقی کھوار کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ظہورا لحق دانش نے ماسٹر میرولی کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ کھوار موسیقی کی آسمان پر یہ جگمگاتا ستارہ اپنے مداحوں کی دلوں پر راج کرتا رہے گا اورتاریخ میں وہ امر ہوگئے۔ کھوار کے معروف گلوکار منصور شباب نے ماسٹر میر ولی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔