داد بیداد۔۔سیز فائر کی ضرورت۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

سیز فائر سے مراد غزہ، رفع اور فلسطین میں سیز فائر نہیں اپنے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو بڑے گھروں سے ایک دوسرے پر ہونے والی گولہ باری کا خاتمہ ہے اس، بات پرپارلیمانی سیاست کے طالب علموں سے لیکر بڑے سکالروں تک سب کااتفاق ہے کہ ہمارے صوبے کی پا رلیمانی روایات میں تہذیب، شائستگی اور شرافت کی نمایاں مثالیں پائی جاتی ہیں، دوسرے صوبوں کی طرح ہڑ بونگ اور ہلہ گلہ یا شور شرابہ ہماری روایات کے خلاف ہے، پنجاب میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے باہمی اختلافات کی وجہ سے ماضی میں بہت ناخوشگوار واقعات دیکھنے میں آئے ہیں بلوچستان سندھ اور کشمیر میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جو ریکارڈ کاحصہ ہیں خیبر پختونخوا کے سیاستدانوں نے کبھی ماضی کی اچھی روایات سے انحراف نہیں کیا مارچ 1972میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعتہ العلمائے اسلام نے صوبے میں مخلوط حکومت بنائی، فروری 1973میں مرکزی حکومت نے بلوچستان میں دونوں پارٹیوں کی مخلوط حکومت کو ختم کرکے گورنر راج لگایا تو خیبر پختونخوا کے گورنر ارباب سکندر خان خلیل اور وزیراعلیٰ مولانا مفتی محمود نے 15فروری 1973کو اپنے عہدوں سے استغفیٰ دیا،اپنی حکومت رضا کارانہ طور پر ختم کی اور مرکزی حکومت کو اقلیتی جماعتوں کی نئی حکومت بنا نے کا موقع دیاحالانکہ محاذارائی کانادرموقع تھااورمحاذارائی کی گنجائش بھی موجود تھی مگر اُس وقت کوئی محاذ ارائی نہیں ہوئی کیونکہ یہ صوبے کے عوام کے مفاد میں نہیں تھی اور صوبے کی پارلیمانی روایات کے خلاف تھی اس بات سے صوبے کا بچہ بچہ واقف ہے کہ باہمی اختلاف اور محاذ ارائی کا نتیجہ ہمیشہ تباہی اور بر بادی کی صورت میں سامنے آتا ہے جبکہ افہام و تفہیم اور خیر سگالی کا نتیجہ ترقی، خوشحا لی اور استحکام کی شکل میں نمو دار ہوتا ہے، ہمارا صو بہ 1979سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، بد امنی کی صورت میں صوبے کی معا شی حالت بر بادی کے دہا نے پر پہنچ گئی ہے ایسے حالات میں ہم سب کو مل کر صوبے میں امن کے ساتھ معا شی ترقی پر تو جہ دینے کی ضرورت ہے اگر صوبے کے دو بڑوں نے آپس کے اختلا فات کو مزید ہوا دے کر صو بے کو کسی ناگہانی آفت یا متوقع مداخلت کا شکار کرلیا تو عوام کے حقوق متاثر ہونگے جو ہمارے دہشت زدہ اور پسماندہ صو بے کا بہت بڑا نقصان ہو گا عالمی مفکر ین نے سیا ست کو قوت برداشت کا کھیل قرار دیا ہے بر طانوی پارلیمنٹ میں چرچل کا مخالف اس کو برے الفاظ میں یاد کرتا تھا بعض اوقات گالیاں بھی بکتا مگر چرچل اس کو جواب نہیں دیتا تھا ایک بار اخبار نویسوں نے سوال کیا کہ آپ کا مخالف آپ کو برا بھلا کہتا ہے آپ اس کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ چرچل نے کہا ”میری تربیت بہتر ماحول میں ہوئی ہے شا ید میرے ماں باپ بہتر خاندان سے تعلق رکھتے تھے“ حال ہی میں ہمارے پڑو سی ملک میں انتخابات ہوئے ہیں، سب نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے کوئی شور شرابہ نہیں ہوا، کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، گویا ایک جمہوری عمل تھا جوانجام پذیر ہوا جیتنے والا بھی بڑا دل رکھتا ہے ہار نے والا بھی کشادہ دلی اور وسیع القلبی سے اپنی شکست تسلیم کر تا ہے مرکز میں کسی ایک پارٹی کا اقتدار ہوتا ہے صوبے میں دوسری پارٹی حکومت بناتی ہے لیکن دونوں میں محاذارائی نہیں ہو تی کیونکہ محاذ آرائی سے جمہوریت کے نام پر دھبہ آتا ہے، ماضی میں پنجاب کے اندر محاذ ارائی کے کئی ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں سیاستدانوں نے جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات اور صوبے کی تہذیب و ثقا فت کی پاسداری کر تے ہوئے شائستگی کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ ہم لو گ جمہوریت کو بہتر سمجھتے ہیں سیاسی ذہن اور سیاسی سوچ رکھتے ہیں ہمارا کلچر دوسروں سے بہتر ہے اب بھی اسی جذبے کو پروان چڑھا نے کی ضرورت ہے اگر وزیر اعلیٰ کسی ایک پارٹی سے آیا اور گورنر دوسری پارٹی سے آیا تو کیا ہوا؟ دونوں کو صوبے کا مفاد عزیز ہے دونوں جمہوری سوچ رکھتے ہیں مل جل کر صوبے کی خد مت کرینگے اس لئے سیز فائر وقت کا اہم تقا ضا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔