درہ شندور اور شندور میلہ۔۔۔تحریر ۔۔۔۔منیجر ظہیرالدین۔

درہ شندور پاکستان کی انتہائی شمال میں ایک اہم درہ ہے شندور پاس چترال اور گلگت کو ملانےکااہم ترین راستہ ہے مئی سے ستمبر کے مہنے تک یہ درہ اپنے حسن اور دلکشی سے سیاحوں کو اپنی طرف کھنچتی ہے شندور کے ایک جانب خشکی اور دوسری جانب ایک بڑی جھیل ہے جس کی لمبائی دو میل ہے۔شندور کے اخری حصے میں ایک صاف شفاف دریا گلگت کی طرف جاتی ہے۔اس دریا میں بہترین اقسام کے مچھلی پائی جاتی ہیں۔اور دریا کے کناروں پر خوبصورت پھول اور جنگلی پودے پائے جاتے ہیں۔شندور سے اگے ایک شفابخش چشمہ بھی موجود ہے۔اس چشمے کا پانی مختلف امراض کے لیے شفا بخش ہے۔جولائی کے شروع میں شندور کی خوبصورتی اور شادابی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ اس مہینے میں شندور فسٹول بھی منایا جاتا ہے۔ اس فسٹول میں چترال اور گلگت کے درمیاں پولو میچ کا مقابلہ قابل دید ہے۔پولو کاکھیل چترال اور گلگت میں مرکزی کھیل کی حثیت رکھتا ہے۔ماضی میں والیاں ریاست اس کھیل کی خود سرپرستی کرتے تھے۔چترال کی ریاستی حکمران سر شجاع الملک شندور پولو گراونڈ کے اردگرد دیواریں بنا کر گراونڈ تزائین و ارائیش کی۔اور شندور میں پہلا پولو میلہ شروع ہوئی۔اس وقت کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ میجر کوب چاند کی روشنی میں پولو کھیلنے کا شوقیں تھا۔اور شندور پولو گراونڈ کو ماحوران گراونڈ اور مس جونالی کا نام دیا گیا۔اور 1982 میں باقاعدہ سالانہ جشن منانے کی حثیت دی گئی۔ جس کے دوران چترال اور گلگت والے انتہائی دلچسپی اور جوش و جزبے سے پولو میچ دیکھتے ہیں۔اور اپنے اپنے کھلاڑیوں کو شاباش دیتے ہیں اور اپنے اپنے جزبات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شندور کی دلکشی اور دلفریبی اتنا زیادہ ہے کہ اندرونی اور بیرونی سیاح اپنے سفر ناموں میں خصوصی طور پر اس کی زکر کرتے ہیں۔جشن شندور کو ایک خاص تاریخی اہمیت بھی حاصل ہے شندور پولو گراونڈ دنیا کا سب سے بلند ترین پولو گراونڈ ہے۔اور درہ شندور ان علاقوں کی پہچان ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔