حکومتی عہدیداران اور منتخب نمائندگان کے نام خط

چترال(چترال ایکسپریس)

معزز حکومتی عہدیداران اور منتخب نمائندگان!
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و براکاتہ
اُمید ہے کہ آپ سب بخروافیت سے ہوں گے۔ یہ خط آپ کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے کی طرف مبذول کروانے کے لیے لکھا جارہا ہے۔یوں تو چترال میں کئی ایسے مسائل ہیں جو کئی سالوں سے حل طلب ہیں ۔اِن مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے،تمام سیاسی نمایندوں و حکومتی عہدیداروں کو ایک ساتھ چترال کی ترقی کے و خوشحالی کے لئے مثبت سوچ لے کر ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا تب ان مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔
میرے معزز نمائندگان و حکومتی عہدیداران!
اس خط کے ذرئعے ایک اہم مسلے کی جانب آپ حضرات کی توجہ چاہونگاجو گزشتہ پچیس سالوں سے نظر انداز ہوتا رہا ہے۔تورکہو کا راستہ، جو بوٖنی مستوج روڈ سے شروع ہوتا ہے، تقریباً 30 کلومیٹر طویل ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ سڑک ابھی تک مکمل نہیں ہو پائی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک راستہ نہیں بلکہ ترقی، خوشحالی اور بہتر مستقبل کا زینہ ہے۔اور آنے والے نسلوں کی ترقی کا ضامن ہے۔
سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں کے باشندوں کی املاک کی قیمتیں جمود کا شکار ہیں۔ اگر یہ سڑک مکمل ہو جائے تو اِن کی قدر میں بےپناہ اضافہ ہوگا۔ زرعی آمدنی میں بھی نُمایاں بہتری آئے گی کیونکہ بہتر رسائی کے باعث فصلوں اور زرعی مصنوعات کی منڈی تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
ہمارے علاقے میں معدنیات کی بھی بہتات ہے، لیکن سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کا مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ اگر یہ سڑک بن جائے تو معدنیات کی تلاش اور نکاسی ممکن ہوگی، جو کہ علاقے کی معیشت کو چار چاند لگا سکتی ہے۔

تورکہو وادی اپنی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے، لیکن سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے یہاں کا سیاحتی پوٹینشل ابھی تک استعمال نہیں ہو سکا اور سیاحوں سے نظروں چھپا ہوا ہے۔ بہتر سڑکیں سیاحت کو فروغ دیں گی اور علاقے کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
موجودہ وقت میں صحت کے شعبے میں وادی تورکہو کے عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے اس سے بھی آپ بخوبی اگاہ ہیں دور جدید میں یہاں کے عوام صحت کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔طبی ہنگامی حالات میں سڑک کی عدم دستیابی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک بہتر سڑک کی تعمیر سے اسپتالوں تک رسائی آسان ہوگی اور طبی سہولیات میں بہتری آئے گی۔
ہمیں اُمید ہے کہ آپ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں گے اور اس پر فوری کارروائی کریں گے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگست تک اس سڑک کے مکمل ہونے کا جامع پلان پیش کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم بوٖنی مستوج روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ہم آپ کی فوری توجہ اور مثبت اقدامات کے منتظر ہیں۔
آپ کا خیراندیشن
نوید سلطان سابق امیدوار صوبائی اسمبلی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔