گرم چشمہ ہوٹل میں سوئمنگ پول نہیں موت کا کنواں ہے۔نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ

چترال(چترال ایکسپریس) نیاز اے نیازی  ایڈوکیٹ چیئرمین ہیومن رائٹس  نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گرم چشمہ ہوٹل میں  واقع سوئمنگ پول نیہں موت کا کنواں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجنیئر منیب احمد ولد ظفر اللہ کا تعلق گاؤں رایین تورکھو سے تھا۔منیب احمد مرحوم بطور سول انجنیئر اسلام آباد میں ملازمت کررہے تھے ۔ عید پر چھٹی گزارنے چترال آے تھے۔ اہلیہ اور دو بچوں کو لیکر کل گرم چشمہ گئے تھے ۔ ہوٹل انجیگان کے سویمنگ پول میں نہاتے ہوئے جانبحق ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین ۔ انہوں نے کہا اس سویمنگ پول کو اگر موت کا کنواں کہاجائے تو بے جا نہیں ہوگا ۔ یہ تیسرا واقعہ ہے تاہم مقامی لوگوں کے مطابق تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے ہوٹل انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ اس سویمنگ پول کی غیر معمولی گہرائی کی تکنیکی جائزہ لیا جائے ، سویمنگ پول میں استعمال ہونے والا گرم چشمہ کے پانی کے مضر اثرات کا لیبارٹی ٹسٹ کروایا جائے بصورت دیگر سویمنگ پول کو بند کیا جاے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔