داد بیداد…اچھی خبریں..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ذرائع ابلاغ میں اچھی خبریں بہت کم آتی ہیں اور جب اچھی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں تو دل باغ باغ ہوتا ہے تازہ ترین خبروں میں سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیانے اسرائیل کا سفارت خانہ بند کر کے اسرائیلی سفیر اور سفارتی عملے کو ملک سے نکال دیاہے،کو لمبیانے فلسطینیوں کےخلاف غزہ کی طویل جنگ میں انسانی حقوق کی پے درپےخلاف ورزیوں پر اسرائیل کے خلاف یہ قدم اٹھایا ہے کولمبیا مستحکم معیشت کا حامل متوسط درجے کا ملک ہےعالمی امور میں اس کاشمار بڑے ملکوں اور طاقتورلابیوں میں نہیں ہوتامگراپنی آزاد خارجہ پالیسی رکھتاہے اورعالمی امور میں قانون کی پاسداری کاحامی ہے عالمی سفارت کاری میں کولمبیاکایہ اقدام علامتی حیثیت رکھتاہے اورسفارت کاروں کے حلقوں میں علامتی اہمیت کے حامل واقعات بڑی تبدیلیوں کاپیش خیمہ ہوتے ہیں بعید نہیں کہ کولمبیاکے بعددنیاکے دوسرے آزاد ممالک بھی غزہ میں انسانی حقوق کی پاما لی کا نوٹس لیناشروع کریں اوردنیاکے طاقتورممالک کو بھی انسانی حقوق کے لئے متحرک ہوناپڑے سردست کو لمبیاکے اقدام کو بارش کاپہلا قطرہ قراردیاجاسکتا ہے ماضی میں کیوبا اور وینزویلا کی طرف سے اس طرح کے انقلابی اقدامات کے ذریعے انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے مثالیں سامنے آتی رہی ہیں اس قبیل کی ایک اور خبر یہ ہے کہ وسطی امریکہ کے مشہور ملک نگاراگو انے افغانستان میں 3سال پہلے قائم ہونے والی حکومت امارت اسلامی افغانستان کوتسلیم کیاہے اگست 2021ء میں قائم ہونےوالی اسلامی حکومت کواب تک75اسلامی ملکوں میں سے کسی ایک نے بھی تسلیم نہیں کیا گویا ”پا سبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے“ افغانستان اپریل 1978ء میں قوم پرست اور ترقی پسندرہنما امیر خیبر کے قتل کے بعد امریکہ کی جھولی میں گراتھا اس کے بعد اگست 2021تک 43سال خانہ جنگی کا شکاررہا، اگست 2021میں امریکہ کے انخلا کے ساتھ افغانستان آزاد ہوانتیجہ کے طورپر امارت اسلامی افغانستان کے نا م سے اسلا می حکومت قائم ہوئی، امریکہ نے 10ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کئے لیکن امارت اسلامی کی قیادت نے دباؤ قبول کرنے سے انکارکیا تو امریکہ نے اپنے حاشیہ برادر مما ک پردباؤ ڈالا کہ امارت اسلامی کی حکومت کو تسلیم نہ کرو چنانچہ ترکی، ایران، انڈونیشیا، مراکش، ملائشیا اور قطرسمیت اہم اسلامی مما ک کو بھی امریکہ کے دباؤ سے انکار کرنے کی جرءت نہ ہوئی چنانچہ امارت اسلا می افغانستان کے قیام کے دو سال آٹھ مہینے بعد نکاراگوانے امارت اسلامی افغانستان کوتسلیم کرکے تا لاب میں پہلا پتھر پھینک دیا ہے اب اُمید کی جانی چاہئیے کہ امریکہ اورسعودی عرب کے دباؤ سے آزادمما لک آگے آئینگے اور افغانستان کی امارت اسلا می کو تسلیم کرینگے آگے کاروڈ میپ یہ ہے کہ دو چار آزاد مما لک نکارا گوا کے ساتھ ملکر امارت اسلامی افغانستان کو اقوام متحدہ کی رکنیت دینے کے لئے جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرینگے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امارت اسلامی کی حکومت پر کسی ملک یابینک کاایک پائی قرض نہیں، افغان کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں حیرت انگیز کامیابی دکھائی ہے اور بنیادی ڈھا نچے کی سکیموں میں سب سے بڑی سکیم دریا آمو سے نکالی جا نے والی عظیم الشان نہرپر عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ اشتراک سے کام ہورہا ہے دریائے کنڑپر بجلی گھر بنانے کا بڑامنصوبہ تکمیل کے قریب ہے یہ اقدامات ظاہر کر تے ہیں کہ امریکی دباؤ قبول کئے بغیر افغان ملت اپنی قومی یک جہتی، ملکی سالمیت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے عوامی جمہوریہ چین نے 1994ء میں بھی افغان حکومت کے ساتھ ترقیاتی کاموں میں تعاون کیا تھااب بھی بڑے شراکت دار کا کردار ادا کررہا ہے”گر فتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا“

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔