جشنِ شندور کی التوا پر پی ٹی آئی منفی سیاست کرنے کے بجائےبرملا اپنی ناکامی اور بے بسی کا اعتراف کریے۔پرنس سلطان الملک

اپرچترال (ذاکرمحمدزخمی)جشن شندور 2024 انتظامات مکمل ہونے کے بعد غیر متوقع طورپر التواکا شکار ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف اپر کے جنرل سکرٹری اور افیشیل کا وضاحتی پریس ریلیزکے رد عمل میں جنرل سکرٹری پاکستان مسلم لیگ پرنس سلطان الملک نے تحریک انصاف کی وضاحت کو مضحکہ خیز قرار دی آپ نے کہا کہ تحریک انصاف کا وضاحتی بیان غلط بیانی کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کےناکام کوشش سے زیادہ کچھ نہیں اس وقت عوام اتنا سادہ بھی نہیں کہ انہیں آسانی سے بیوقوف بنایا جاسکے۔سرحد ٹورزم کارپوریشن یا کلچر ڈیپارٹمنٹ کوئی مرکزی ادارۂ نہیں اور نہ سکرٹری کلچرل اینڈ ٹورزم مرکز کی ماتحت ہے۔شندور فیسٹول منسوخی کا نوٹیفکیشن سکرٹری کی دستخط سے ہوا ہے اگر اپنی صوبائی سکرٹری پر صوبائی حکومت یا وزیرlاعلیٰ خیبرپختونخوا کا اختیار نہیں تو اپنی ناکامی ،بے بسی اور نا اہلی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہیے یا ورکر میں اتنی اخلاقی جرت ہونا چاہیے کہ صوبائی حکومت سے پوچھے کہ اگرحکم مرکز کا ہے۔تو آپ برائے نام صوبے میں کیا کررہے ہیں۔ شندور فیسٹول کی منسوخی صرف اور صرف تحریک انصاف کے مقامی قیادت کا علاقہ دشمن سوچ کا نتیجہ ہے آپ شور شرابے ،منفی سیاست اور جھوٹ اور فریب کے علاوه عوام کو کچھ نہیں دے پائے۔چترال کی روایتی اور تاریخی میلہ شندور کو سیاست زدہ اور متنازعہ بنانے کا کردار تحریک انصاف کے قیادت کو جاتا ہے جو حوصلہ کرتے ہوئے اسے قبول کرنا چاہیے۔ اپنی نا اہلی ،کمزوری دوسروں پر ڈال کر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے پی ڈی ایم ،پی ۔دی۔ایم کہنےسے کچھ نہیں بنتا۔ عوام بھاری مینڈیٹ سے تحریک انصاف کواقتدار میں لائی ہے وہ مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔صدر تحریک انصاف اور صدر پولو ایسوسیش چترال کو عوام ،شائقین اور پولو پلیرز سے غیر مشروط معافی مانگنا چاہیے اور پولو پیلیرز،کو جو ذہنی اذیت اور مالی نقصانات پہنچے ہیں اس کا فوراً ازالہ کیا جائے ساتھ جو لوگ تجارت اور رزق حلال کمانے کی نیت سے شندور پہنچ کر ناقابل تلافی نقصانات اٹھائے ہیں ان کی درد کو بھی محسوس کیا جائے۔اب منفی سیاست کرنے کا وقت نہیں عملی طورپر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔