داد بیداد…میرا پشاور…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

53سال پہلے 1971میں پہلی بار مجھے چترال سے پشاور آنے کااتفاق ہوا پھر 11سال پشاور میں رہ کر شہر کی گلیوں میں گھومنے پھرنے کے بعد 1982میں نے  واپس چترال کا سفر اختیار کیا آج میرابیٹا پشاور میں رہتاہے ذی الحجہ کی 22تاریخ کو میں نے اُس کو فون کیا چوک یادگار اور شادی پیر جانے کو کہا تو بیٹے نے کہا راستے بند ہیں کوئی گاڑی، رکشہ، موٹر بائیک اندر نہیں جا سکتی میں نے پوچھا کیوں؟ اُس نے کہا نیا اسلامی سال آنے والاہے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کاخطرہ ہے، میں نے پوچھا یہ کب سے ہورہا ہے،اُس نے کہا مجھے دس سال ہوگئے ہرسال یہی ہوتا آیاہے، فون بند کرکے سوچا تو میراپشاوریاد آگیا میں نے پشاورمیں نئے اسلامی سال کو اس طرح نہیں منایا تھا، میں نے سوچا گذشتہ نصف صدی میں کونسی تبدیلی آگئی کہ میرے شہر کاحلیہ بگاڑ دیا گیا نصف صدی کے عرصے میں شہر کی حلیہ بگاڑ دیا گیا شہر کی حالت پہلے سے بہتر ہونی چاہئیے تھی نہ کہ بدتر، میں نے سوچا اگر کوئی پشوری کسی غیر ملکی غیر مسلم کو بتائے کہ شہر کے راستے بند کئے گئے ہیں کیونکہ ہمارا اسلامی سال شروع ہونے والا ہے اسلا می سال کا آغاز دہشت گردی سے ہونے کا خطرہ ہے تو وہ کیا سوچے گا، نئے ہندی سال کا آغاز خوشگوار ہوتا ہے نئے عیسوی سال کے آغاز پر جشن ہوتا ہے مبارک باد دی جاتی ہے نئے اسلامی سال کے آغاز پر ان کے شہر میں دہشت گر دی کا خطرہ کیوں ہو تا ہے؟ یہ کیسا کلچر ہے؟ یہ کیسی قوم ہے یہ کیسے لوگ ہیں پشاور میں 70سال سے اوپر کی عمر کے جو شہری بقید حیات ہیں وہ اس بات کی شہادت دینگے کہ میرا شہر ایسا نہیں تھا، آج کے آگرہ، لکھنو، دہلی، انبالہ اورگور داسپور کی طرح پُر امن پُر سکون شہر تھا نیااسلا می سال آتاتو اس کاپہلا مہینہ دوسرے مہینوں کی طرح پرامن اورخوشگوارگذر تاجس طرح ہر مہینہ کسی نہ کسی بڑی اسلامی شخصیت کی یاد میں جلسے ہوا کرتے ہیں اس مہینے حضرت امام حیسن علیہ السلام کی یاد میں جلسے اور مجلسیں منعقد ہوتیں، شہر کے سب لوگ بلا تفریق اُس میں شریک ہوتے تھے، امن اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے، اسلا می سال کے پہلے مہینے کو خوف، ڈر، وہم اور پابندیوں کا مہینہ قرار نہیں دیاجاتا تھا، سرینگر، آگرہ، دہلی اور لکھنو میں آج بھی ایساہی ہے، اس عرصے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دو بڑے واقعات ہوئے ایران میں انقلاب آیا اور افغانستان میں طویل خانہ جنگی ہوئی ان دواہم واقعات نے دوسرے پڑو سی ممالک کو متاثر نہیں کیا صرف پاکستان متاثر ہوا پاکستان میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا متا ر ہوا جس نے پشاور کا پورا طرز تمدن اور پورا کلچر تبدیل کیا مخبر صادق نبی کریم خا تم لانبیامحمد مصطفےٰ ﷺ کی ایک حدیث مبارک کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے قریب ایسا دور آئیگا جب مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں کاٹینگے، قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ مقتول کاکیا قصور ہے؟ اور مقتول کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ وہ کس جرم کی پاداش میں لہولہان ہواہے آج بھی دھماکوں اور اندھا دھند فائرنگ میں ایساہی ہوتا ہے نہ قاتل جانتا ہے کہ مقتول کون ہے نہ مقتول جانتا ہے کہ اُسے کیوں قتل کیا گیا، ہمالیائی ملک نیپال میں بندروں کی ایک کہانی مشہور ہے کہتے ہیں ایک بادشاہ کے حکم سے چند بندروں کو ایک کمرے میں بند کر کے سیڑھی لگائی گئی اور سیڑھی کے اوپر پھلوں کی ٹوکری کے ساتھ پانی کا لوٹا لٹکایا گیا، جب کوئی بندر سیڑھی پر پاوں رکھتا تو لوٹے کی رسی خود بخود کھینچی جاتی تو پانی نیچے بندروں پر گرتا تو بندر ملکر سیڑھی چڑھنے والے کو مارکر واپس لے آتے،باد شاہ نے ایک کے سوا سارے بندر تبدیل کئے پھر بھی یہ سلسلہ جا ری رہا، پھر بادشاہ نے پا نی کا لوٹا بھی ہٹا دیا مگر بندروں نے سیڑھی پر چڑھنے کی کو شش کرنے والوں کو مارنا بند نہیں کیا اب کوئی بندر نہیں جا نتا تھا کہ وہ دوسرے بندر کو کیوں ماررہا ہے؟ اور دوسرا بندر بھی نہیں جانتا تھا کہ اُس کو کس جرم کی پاداش میں مار پڑ رہی ہے میرے بیٹے کے ہم عمر نو جوانوں کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ڈر اور خوف کا مہینہ کیوں ہوتا ہے؟ ہماری نئی نسل کو یہ بھی معلوم نہیں کہ 43سال پہلے پشاور میں اسلامی سال کا پہلا مہینہ محبت، سلا متی، امن اور سکون کا مہینہ ہوتا تھا لو گ ربیع لاول، رجب اور رمضان المبارک کی طرح محرم الحرام کے مہینے کا استقبال بھی امن اور سکون کے ساتھ کرتے تھے، میں سوچتا ہوں کہ میرے وقت کا پشاور میری اولاد کے زمانے والے پشاور سے لاکھ درجہ بہترتھا حالانکہ تعلیم، دولت، ذرائع ابلاغ اور ترقی کے لحاظ سے نئی نسل کا پشاور بہتر ہونا چاہئیے تھا اس پر ”کا ش“ ہی کہا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔