دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔نورحبیب خان مرحوم ۔۔۔۔محمد جاوید حیات

جو لوگ بھر پورزندگی گزارتے ہیں وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں ان کا کردار بولتا ہے اور ان کو زندہ رکھتا ہے ۔۔نورحبیب خان مرحوم ان افراد میں سے تھے ۔۔ان کی زندگی کی سب سے نمایان شان یہ تھی کہ وہ لوگوں کے مونس و غمخوار تھے خاموش مدد گار تھے ان کا گھر ایک جاۓ پناہ تھا ۔۔نور حبیب خان گاٶں اجنو تورکھو میں باٸیکے قوم کی چوڑیے شاخ سے تعلق رکھتے تھے ان کے والد گرامی اپنا گاٶں چھوڑ کر دینین چترال میں سکونت اختیار کی تھی ۔نورحبیب خان کی پیداٸش چترال میں ہوئی ۔ان کے والد دوردانہ خان کا تعلق دنین کے شاہی خاندان کے ساتھ بہت قریبی رہا یہ خاندان ان کو اور ان کی اولاد کو اپنے گھر کے افراد کی طرح سمجھتے تھے اور ان کے دلوں میں بھی اس خاندان کے احسانات موجزن تھے اس وجہ سے ان کا وقت بہت اچھا گزرا ۔نورحبیب خان اپنے تین بھاٸیوں میں دوسرے نمبر پہ تھے ان کا بچپن دبنگ گزرا انہوں نے بچپن سے ہی تیراکی اور شکار میں مہارت حاصل کی ۔ان کی تیراکی کے ساتھی ڈی ایس پی (ر) مہتر ژاٶ فضل الہی جو بہترین تیراک ہونے کے علاوہ اپنے زمانے کے مانے ہوۓ فٹ بالر رہ چکے ہیں ان کے علاوہ گاٶں کے چار اور جوان جن میں ڈاکٹر خیر اللہ خان کے ابو اور ڈایریکٹر روز کے ہدایت اللہ کے تایاجی مشہور تھے ۔۔یہ تیراکی کا جوڑا دریاۓ چترال کی موجوں سے کھیلتے تو لوگ عش عش کر اٹھتے ۔نورحبیب خان نے گاٶں کے ایک معزز خاندان میں شادی کی ہدایت اللہ کی چچی ان کے رشتے میں آئی تو گاٶں میں اور توقیر بڑھ گیا ۔اس زمانے میں بے روزگاری بہت تھی نورحبیب خان کو اپناگھر بار سنبھالنا تھا جب ساٹھ کے عشرے میں بالچ میں چترال اٸر پورٹ کی تعمیر شروع ہوٸی تو نور حبیب خان نے وہاں پر کام کا آغاز کیا اور بہت جلد مستری کے نام سے مشہور ہوا ۔وہ ذہین کارگر تھے پھر ان کی ایک طرح سے مانگ بڑھ گئی اور گاٶں میں جہان بھی نۓ عمارات کی تعمیر کا کام ہوتا ان کو بڑی تگ و دو سے بلایا جاتا ۔وہ ان کے نقشے بناتا ترتیب دیتا اور اپنی نگرانی میں ان کی تعمیر مکمل کرتا ۔اس کام میں ان کے کئی شاگرد نکلے جو ہنرور ہوۓ ۔ نورحبیب کا گھر مسافروں کے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا ۔۔مجبوری اور غریبی کا زمانہ تھا ان کے گاٶں کے لوگ چترال آتے تو اس گھر میں ٹھہرتےروز مہمانوں کا ایک رش ہوتا ان کے لیے کھانا پکایا جاتا ان کے سفر کے لیے بھی روٹی (چپاتی، برٹ) تیار کی جاتی ۔۔نور حبیب اور ان کی گھر والی کے چہروں پر مسکراہٹ ہوتی اور مسافر مہمان بڑی بے تکلفی سے آتے جاتے ۔ان کے گھر میں ہوٹل کا سا سما رہتا ۔نورحبیب خان بڑے ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے بڑے محنتی اور ایماندار واقع ہوۓ تھے ۔بڑے وفادار اور مہربان تھے ان کے گاٶں کے کئی رشتہ دار ان کے گھر میں رہ کرچترال کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی ۔اس مجبوری کے دور میں کتنے لوگوں کی اپ نے مدد کی ان کا خاندان ریاستی دور میں بھی معتبر ریا ۔ان کے پردادا جنگ دربند میں چترال کے سورماٶں میں شامل تھے ان کا خاندان اس پسماندہ دور سے علمی رہا ۔نورحبیب خان بڑے کرشماتی شخصیت کے مالک تھے نہایت سخی فیاض اور درویش صفت تھے ۔مہمان نوازی میں بے مثال تھے ۔۔ان کا بھرا پورا گھرانہ تھا چار بیٹے اور بیٹیاں ہوٸیں سب کامیاب اور معتبر رہے ڈاکٹر ایوب الرحمن جو گاٶں کا ایک خدمت گار معالج کے طور ہر مانے گئے ان کے بچے تعلیم یافتہ اور نمایان ہیں ۔ دوسرا بیٹا ہدایت الرحمن صوبے دار ریٹاٸرڈ گاٶں کی ایک سیاسی اورسماجی کارکن کے طور پر معروف ہیں۔مستری نور حبیب خان اوصاف حمیدہ کے مالک تھے ۔۔خدمت خلق ان کی گھٹی میں پڑی تھی ۔ان کے احسانات کی فہرست لمبی یے ۔۔ان کے گاٶں کے افراد جو جب بھی بے سہارا ہوا یہ ان کا سہارا بنا ۔جس کو جب بھی مدد کی ضرورت پڑی یہ ان کا مدد گار بنا ۔یہ ایسے محسن تھے کہ کبھی احسان جتاتے نہیں تھے اس سے کبھی کسی نے نہیں سنا کہ کسی پر اپنا احسان جتایا ہو ۔انہوں نے چترال کا مشکل دور دیکھا تھا اور اس لیے مرحوم ذولفقار علی بٹھو کے شیداٸی رہا کیونکہ بٹھو شہید کے دور میں چترال میں زندگ کی سہولیات کا آغاز ہوا ۔ان کو جھوٹ اور منافقت سے نفرت تھی ان کو جھوٹ بولتے کبھی کسی نے نہں سنا ۔وہ ملنسار اور شریف تھے ۔آخری عمر میں بچے برسر روزگار ہوۓ گھر میں دولت آگئی مگر ان کے مزاج میں تبدیلی نہیں آٸی ان کا گھر اسی طرح ہرا بھرا اور مہمانوں کا اماجگاہ رہا ۔۔وہ رشتے ناطے کا بڑا خیال رکھتے ۔بڑے با اوصول واقع ہوۓ تھے ۔خاندان میں ان کا حکم حرف أخر ہوتا ۔وہ بڑے وجیہ صورت اور کرشماتی شخصیت کے مالک تھے ۔بہت با ہمت اور نڈر واقع ہوۓ تھے ۔چوراسی سال کی عمر پاٸ اور سن دو ہزار تیرہ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔۔جب بیماری بڑھی تو پوچھتے رہتے کہ جمع کب ہے جمع کی رات أٸ تو ان کے سفر أخرت کا وقت بھی أیا ۔۔۔یہ ہنستا مسکراتا چہرہ اپنے پیچھے بے مثال کردار چھوڑ کر اپنی زندگی کی تکمیل کی ۔۔۔اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔