شندور فیسٹول معطلی، عدالت عالیہ کا چیف سکریٹری و سیکریٹری سیاحت خیبرپختونخوا سے جواب طلب

پشاور (چترال ایکسپریس)*شندور پولو فیسٹیول کا معطلی پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بنچ میں چیلنج*

شندور فیسٹیول کی تمام تر تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اچانک حکومت نے موسم کی ممکنہ خرابی کا جواز بتا کر فیسٹیول ملتوی کرنے کا اعلامیہ پشاور ہائیکورٹ میں چترال کےسماجی کارکن پیر مختار بواساطت شیر حیدر خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چیلنج کر دیا ہے۔

بدھ کے روز پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس شاہد خان پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل جناب شیر حیدر خان نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ شندور پولو سطح سمندر سے تقریباً 12 ہزار فٹ بلند شندور خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں اپر چترال اور گلگت بلتستان کے سنگم پر واقع دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ ہے، جس میں سالانہ 3 روزہ فری اسٹائل پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوتا ہے۔

ہر سال جشن شندور کے موقع پر شندور میں عارضی خیمے میں مقامی عوام اسٹور کھولتے ہیں۔ اور پولو میچز دیکھنے کے ساتھ چند پیسے بھی کماتے ہیں۔

ہر سال اتنی سردی ہوتی ہے، فیسٹیول ملتوی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے جشن شندور کو اچانک ملتوی کرنا ناانصافی اور مایوس کن ہے۔ حکومت کے موسم کی خرابی کے موقف بھی مضحکہ خیز ہے۔

جشن شندور ہر سال 7 تا 9 جولائی کو منعقد ہوتی تھی اور اس سال بھی شندور پولو فیسٹیول تمام اداروں و عوام کو اعتماد میں لاتے ہوئے باقاعدہ اعلامیہ کے ذریعے ایک ماہ پہلے یعنی 28, تا 30 جون کو منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا جس میں شندور پولو فیسٹیول سے متعلق تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا اگر موسمیاتی تبدیلی کا کوئی امکان ہوتا تو اتنا بڑا قومی جشن 28 جون کے لیے منعقد نہ ہوتا۔

ہر سال شندور میں اتنی ہی سردی ہوتی ہے اس سال کوئی برف باری یا بارش نہیں ہوئی اور موسم خوشگوار ہے۔ گرم شہروں سے آنے والے سیاح یہاں کے موسم کو پسند کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ اپر چترال کی جانب سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے اور کھلاڑی گھوڑے لے کر پہنچے تھے جو سب سے مشکل کام ہے۔ ’لگتا ہے موسم خرابی ایک بہانہ ہے۔ شندور میلہ ملتوی کرنا کھلاڑیوں کے لیے مایوس کن
ہے۔

شندور پولو فیسٹیول کو ملتوی کرنا کھلاڑیوں کے لیے مایوس کن ہے۔ جو کہ ہر سال صرف شندور ٹورنامنٹ کے لیے تیاری کرتے ہیں اور پری شندور میچز میں حصہ لیتے ہیں۔ سال بھر انتظار کے بعد شندور پہنچنے پر جشن کو ملتوی کرنے کا اعلان ہونا نا انصافی ہے۔ گھوڑوں کی دیکھ بھال بہت مشکل کام ہے جس پر بہت زیادہ خرچہ بھی آتا ہے۔ کہ سال بھر کی تیاری کے بعد گھوڑے کو شندور تک لے جانا بھی ایک بڑا چیلنچ ہوتا ہے۔ ’گھوڑے لے جانے کا گاڑی کا کرایہ 80 ہزار ایک طرف کا ہے اور زیادہ تر کھلاڑی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، وہ یہ کہاں سے لائیں گے۔

شندور پولو میلہ دنیا کے بلند ترین قدرتی گراؤنڈ شندور کے مقام پر گلگت اور چترال کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ اور یہ تاریخی میلہ ہے جسے دیکھنے بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح شندور کا رخ کرتے ہیں۔ تمام کھلاڑی انتہائی جوش میں تھے اور مقررہ وقت پر شندور پہنچے ہوئے تھے کہ اچانک جشن ملتوی کرنے کا اعلان ہوا جو انتہائی مایوس کن ہے۔ تمام کھلاڑی شندور میں موجود تھے کہ راتوں رات اعلان کے بعد سیکیورٹی بھی ہٹا دی گئی اور کھلاڑیوں کو چھوڑکر سیکیورٹی پر مامور پولیس واپس ہوگئی۔ اس بات سے متفق نہیں کہ موسم خراب ہے اور سردی زیادہ ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر جشن ملتوی کرنا بھی چاہتے تھے تو کھلاڑیوں کے روانہ ہونے سے پہلے کرتے تاکہ کھلاڑیوں کا نقصان نہ ہو تا۔شیر حیدر خان ایڈووکیٹ کی دلائل سنے کے بعد عدالت عالیہ نے چیف سکریٹری و سیکریٹری سیاحت خیبرپختونخوا سے جواب طلب کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔