امن کے دشمن۔۔تحریر:آصف نثار غیاثی

خیال تھاکہ الیکشن کے بعدجب منتخب حکومتیں قائم ہوجائیں گی تو حکمرانوں کی ترجیحات میں قیام ا من اولین نکات میں شامل ہوگا اور اس معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا کیونکہ کم ازکم خیبرپختونخوا اور اس کے قبائلی ا ضلاع کے لوگوں کو امن کی اہمیت کاپوراپورااحساس و ادراک ہے کیونکہ بدامنی کے شعلوں میں جس طرح یہاں کاامن وسکون اور معیشت ومعاشرت لپیٹ میں آئی اس کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع کے لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہوناپڑا اور ہزاروں جانوں کی قربانی دینی پڑی ۔

یہ بھی  حقیقت ہے کہ افغانستان میں جاری بیرونی قوتوں کی مفاداتی جنگ نے بھی ہمیشہ اسی صوبہ کو متاثر کیا۔روسی یلغار ہو یا پھر امریکی حملہ، ہر بار بھاری قیمت خیبرپختونخوا اور یہاں کے لوگوں اورپاکستان کی فورسز نے اداکی اور بدقسمتی سے ایک بارپھرخیبرپختونخوا میں امن کے دشمن مصروف ہونے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ا س حوالہ سے سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ فی الوقت صوبائی حکومت کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی ہے حالانکہ صوبہ میں قیام امن کے لیے سب سے بھاری ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے، تاہم امن دشمنوں کے خلاف مقامی آبادی کاکردار بھی اہمیت کاحامل ہوتاہے۔ اس کی مثال سوات کی ہے کچھ عرصہ قبل جب سوات میں امن کے دشمنوں نے ایک بارپھر اپنے قدم جمانے کی کوشش کی تو جس طرح پورے علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور واضح اعلان کیاکہ وہ اب کسی بھی صورت ملا فضل اللہ والی غلطی نہیں دہرائیں گے تو امن دشمنوں کو علاقہ سے بھاگناہی پڑا ،جس کے بعد ان کی سرگرمیاں قبائلی و صوبہ کے جنوبی اضلاع میں بڑھنے لگیں ،تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ اس دور ان فورسز بھی پوری طرح سے متحرک رہی ہیں اور بھرپور جواب دیاجاتارہاہے۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ جب فورسز کو ایک بار واضح ہدف مل جائے تو پھر کسی خطرے کی بھی پرواکیے بغیر ہدف کے حصول کے لیے آگے بڑھتی ہیں اس کی ایک مثال گذشتہ دنوں ایک محفل میں سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے دلچسپ مثال دی ۔ ان کاکہناتھاکہ جب وہ گورنر تھے تو انہوں نے ضلع خیبر کے دور دراز اورجنت نظیرعلاقے تیراہ کادورہ کیا اور گئے بھی اس طرف جو کسی وقت عسکریت پسندو ں کابڑا گڑھ تھا اور قرب وجوا ر میں دہشتگرد موجود بھی تھے۔ چنانچہ اچانک ان کے پروگرام پرحملہ کردیاگیا جو نہ صرف فورسزنے فوری طورپر ناکام بنادیا بلکہ پھرپیچھا کرتے ہوئے حملہ آوروں کو ان کی کمین گاہ سے نکال کر اپنے انجام تک بھی پہنچایا اوریہ سب کچھ ان کی تیراہ موجودگی میں ہی ہوا ۔مقصد کہنے کایہ ہے کہ جب تک واضح پالیسی اختیار نہیں کی جاتی سراسر نقصان ہی ہوتاہے ۔

سانحہ اے پی ایس سے قبل دہشتگردی کے خلاف کو ئی واضح اور متفقہ لائحہ عمل نہیں تھاجس کاخمیازہ پھر سب کو بھگتنا پڑا مگر جب ایک بار نیشنل ایکشن پلان بنا تو پھر دہشتگردوں کے خلاف جس طرح اہدافانہ کارروائیاں ہوئیں ۔انہی کی بدولت قیام امن کاخواب شرمندہ تعبیر ہوسکاتھا ۔جہاں تک دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کاتعلق ہے تو ہمارے ہاں عام طور فورسز انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعہ دہشتگردی کی جوکوششیں اور منصوبے ناکام بناتی ہیں ان کانہ تو مؤثر انداز میں ذکر کیاجاتاہے نہ ہی اس کی اہمیت محسوس کی جاتی ہے ۔تاہم جب درجنوں منصوبے ناکام بنائے جانے کے بعد ایک آدھ دہشتگردانہ واردات ہوجاتی ہے تو پھر ہر طرف شور مچ جاتاہے ۔حالانکہ جو کوششیں ناکام بنائی جاتی ہیں ان کاذکر بھرپور انداز میں کیاجاناضروری ہوتاہے تاکہ قوم کو بھی علم ہوسکے ان کے ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے فارغ نہیں بیٹھے بلکہ پوری طرح سے سرگرم عمل ہیں۔

ان دنوں کہ جب ملک بھر بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایک بارپھر دہشتگردی کی آگ بھڑکانے کی مذموم کوششیں ہورہی ہیں اور جن میں بیرونی ایجنسیاں پوری طرح سے ملوث ہیں ان کے خلا ف نہ صرف ہماری فورسز بلکہ عوام بھی پوری طرح سے میدان عمل میں ہیں۔ ابھی چندروز قبل کی بات ہے کہ کرک میں تیل کی ایک کمپنی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس نے بھتہ دینے سے انکار کیاتھا جس پردہشتگردوں نے اس کی تنصیبات پرحملہ کیا،تاہم فورسز اور مقامی آبادی کے مشترکہ جواب کی وجہ سے دہشتگرد وں کو بھاگنا پڑا اوریہی اصل کامیابی ہے جب فورسز اور مقامی آبادی ایک ہی صف میں کھڑی ہوجاتی ہے تو پھر دہشتگردوں کو کہیں بھی ٹھکانہ نہیں ملتا  ۔

ایک رپور ٹ کے مطابق فورسز نے یکم اپریل 2024سے دس جون تک خیبر پختونخوا،بلوچستان اور سندھ میں 7745کاروائیا ں کیں ۔خیبر پختونخو ا میں 2701،بلوچستان میں 4902اور سندھ میں 142آپریشنز کیے گئے ان کارروائیوں میں 181دہشتگرد مارے گئے ۔خیبرپختونخوا میں 128بلوچستان میں 51 اور سندھ میں 2 دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچائے گئے ۔

اگر صرف مئی کی بات کریں تو رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 42 اور بلوچستان میں  12 دہشتگرد مارے گئے ہیں ۔اسی ماہ دونوں صوبوں میں گرفتار ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد 61رہی ۔یہ بھی بتایاگیاہے کہ یہ دہشتگرد دراندازی کی کوششوں میں مارے گئے ۔

اس عرصہ میں باجوڑ ،دیر اورچترال میں بروقت خفیہ اطلاعات پر کم از کم درانداز کی 20کوششوں کو ناکام بنایاگیا۔ نہ صرف بشام میں چینی انجنیئروں پر حملہ کرنے والے نیٹ ورک کو بے نقاب اورگرفتار کیاگیابلکہ ڈیرہ اورٹانک میں خفیہ اطلاعات پر گھات لگائے 12 دہشتگرد مارے گئے۔ شمالی وزیرستان میں 19دہشتگر د مارے گئے ۔فورسز نے ایک اور کا روائی میں ڈیرہ اورلکی مروت کے درمیانی صحت افزاء مقام شیخ بدین میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران 11 دہشتگر دوں  کو موت کے گھاٹ اتارا۔

افغانستان میں طالبان حکومت نے جس طرح بلا سوچے سمجھے جیلوں کے دروازے کھول کر ہزاروں لوگوں کو باہر نکالایہ اسی کے آفٹر شاکس ہیں کہ پاکستان میں سرحد ی علاقے ایک بارپھر بدامنی کاشکار ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ افغان حکومت کو اس ا مر کااحساس تک نہیں ۔محض داعش اورٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے خوف سے جس طرح اس نے ٹی ٹی پی کو بے لگا م چھوڑ ا ہواہے ا سکی بھاری قیمت ایک بار پھر ہم سب کو ادا کرناپڑسکتی ہے۔ ایک بارپر یہ سرزمین پراکسیز کی نذر کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں مگر اس بار صورت حال اس لیے مختلف ہے کہ فورسز پوری طر ح سے حرکت میں ہیں اور مقامی آبادی نے بھی اب کسی کو اپنی سرزمین ا ستعمال نہ کرنے دینے کاتہیہ کیاہواہے۔ بس اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت بھی کم از کم قیام امن کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر مل بیٹھیں کیونکہ امن ہی ترقی ،خوشحالی اور استحکام کی بنیاد ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔