ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال افتخار شاہ کی زیر صدارت پولیس لائن میں دربار کا انعقاد.

چترال(چترال ایکسپریس)انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا اختر حیات خان, ریجنل پولیس آفیسر محمد علی خان کے احکامات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال افتخار شاہ کی زیر صدارت پولیس لائن لوئر چترال میں دربار کا انعقاد کیا گیا۔

جسمیں ایس۔پی انوسٹ گیشن عتیق الرحمن,ڈی۔ایس۔پی ہیڈکوارٹر احمد عیسی ضلع بھر کے تمام ایس۔ڈی۔پی۔اوز, ایس۔ایچ۔اوز, ڈسٹرکٹ پولیس, ایف آر۔پی,لیڈی کانسٹبلان ,ایلیٹ فورس ,سی۔ٹی۔ڈی,اسپیشل برانچ ،ڈی۔ایس۔بی اسٹاف اور ٹوارزم پولیس کے جوانوں نے شرکت کی۔

دربار میں کثیر تعداد میں ہر رینک کے افسروں و جوانوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل پیش کئیں ۔

ڈی۔پی۔او لوئر چترال نے جوانوں کو درپیش مسائل توجہ سے سنے اور ان کے حل کے لئے موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کئے۔

ڈی۔پی۔او لوئر چترال نے کہا کہ پولیس کے پاس غفلت کی کوئی گنجائش نہیں اور دربار کے شراکاء کو ہدایت کی کہ وہ مستعد اور الرٹ رہ کر اپنے فرائض انجام دیں اور سماج دشمن عناصر کے مزموم عزائم کو آہنی ہاتھوں سے ناکام بنائیں۔

ڈی۔پی۔او نے مزید کہا کہ ہمیں ایک ٹیم کی طرح کام کرنا چاہیں اور تھانوں اور چوکیات میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ پولیس کے سافٹ امیج کو برقرار رکھنے کے لئے عوام دوست پالیسی اپنائیں۔

پولیس اسٹیشن میں محرر تھانہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے وہ تھانے آنے والے پریشان حال سائلین کی داد راسی کو اپنی اولین پیشہ وارانہ ذمہ داری سمجھیں اس کے علاوہ جن جوانوں کو کوئی جائز مسئلہ ہو تو وہ ہفتہ وار اردلی روم میں پیش ہوکر اپنا مسلئہ بیان کریں۔دوران ڈیوٹی ہلمٹ اور جیکٹ کا استعمال یقینی بنائیں۔

جوانوں کی تھوڑی سی تکلیف افسران پر نہایت سخت گزرتی ہے آپ کی معمولی غفلت سے آپ کے خاندان سمیت پوری فورس غمزدہ ہوتی ہے پولیس فرنٹ لائن پر دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہے۔ دہشت گرد اپنے بزدلانہ حرکتوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے لیکن ساتھ میں اپنی حفاظت کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے۔

ڈی۔پی۔او نے تمام افسروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروشوں پر کڑی نظر رکھیں, منشیات فروش کسی بھی قسم کے رعایت کے مستحق نہیں ان کے خلاف بھرپور کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔