تلخ و شیریں ۔۔۔ ایک پروگرام اقبال الدین سحر کے نام۔..نثاراحمد

چترال کی روایتی فنکاری، کھوار مکالمہ نویسی اور کھوار شاعری کا تذکرہ ہوتے ہی جن چند اشخاص کی صورت و ہئیت آنکھوں کے سامنے آتی ہے ان میں سے ایک ہئیت و صورت محترم اقبال الدین سحر کی ہے۔ چہرے پر سفید ڈاڑھی سجائے صلحاء و اتقیا کے وضع قطع میں ایّام ِ زیست گزارنے والے اقبال الدین سحر عہدِ شباب میں نامور شاعر ،موسیقار اور گلوکار ہی نہیں تھے ساتھ ساتھ ایک بہترین ڈرامہ نگار، مکالمہ نویس اور ہردلعزیر فنکار بھی تھے۔ اقبال الدین سحر کے فن کا ڈنکا سالوں تک چترال اور گلگت کے طول و عرض میں بجتا رہا۔ جن دنوں آپ کے فن کا طوطی چترال اور گلگت کے گلی کوچوں میں بول رہا تھا ان ایّام میں ویڈیو سازی عام ہوئی تھی اور نہ ہی چترال کے چپے چپے اور محلے محلے میں سفیر ِ درد ، خوبصورت خیالات کے مالک اور جنت نظیر وادی کے شعراء کی بھرمار تھی۔ ہرچند کہ موسیقار و فنکار معدودے تھے لیکن ان کے فن میں خلوص کی آمیزش بھی تھی اور سوز و گداز کا تڑکہ بھی۔ عشق و محبت کی باتیں بھی تھیں اور معاشرتی مسائل کی ترجمانی و عکاسی بھی۔
جن دنوں اقبال الدین سحر کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ان دنوں دردِ دل بانٹنے ، غبارِ خاطر سے جان چھڑانے اور دوسروں تک اپنا مافی الضمیر پہنچانے کا مضبوط ترین زریعہ ریڈیو ہی تھا ۔ یہ اقبال الدین سحر کی خوش قسمتی تھی کہ پڑھائی کی تکمیل کے بعدعملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ریڈیو پاکستان کا پلیٹ فارم آپ کو میسر آیا ۔ ریڈیو پاکستان سے بطور ِ میزبانِ پروگرام منسلک ہونے کی وجہ سے بہترین موقع آپ کے ہاتھ لگا کہ ریڈیو کی لہروں کے زریعے آپ اپنے فن کی خوب تشہیر و ترویج بھی کریں اور فن کے قدر دانوں کے دلوں پر راج بھی کریں چنانچہ انہوں نے ہردو کاموں میں رتی برابر کوتاہی نہیں کی۔ اس پلیٹ فارم کے زریعے جہاں ایک طرف آپ نے اپنے آپ میں موجود و مستور صلاحیتوں کو فن کی شکل میں پیش کیا وہاں دوسری طرف آپ نے اپنے پرستاروں کے دلوں پر راج بھی کیا۔ بقول ِ سینئر پروڈیوسر محمد جاوید اقبال، یہی وہ زمانہ تھا جب چترال اور گلگت میں سب سے زیادہ سنے جانے والا گلوکار اقبال الدین سحر کو مانا جاتا تھا ۔
چترال پریس کلب کے صدر جناب ظہیر الدین عاجز کی ادب نوازی، روایت دوستی اور فن پروری قابل ِ تحسین ہے کہ آپ نے اقبال الدین سحر کی زندگی میں ہی آپ کے فن کو سراہنے کا بندوبست کیا ۔ ظہیر الدین عاجز کا یہ اقدام اس لیے بھی قابل تعریف ہے کہ اس میں کسی بھی فن کار کو اپنے کام کی تعریف سننے اور نتائج ِ کاوش دیکھنے کے لیے قبر میں اترنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ کسی کے جانے کے بعد بھی پیٹھ پیچھے تعریف و توصیف بری شئی نہیں ہے لیکن جو تعریف انسان کے جیتے جی اس کے سامنے ہو وہ زیادہ پر لطف بھی ہوتا ہے اور زیادہ صائب بھی۔ عاجز صاحب کی زبانی یہ سن کر مزید اچھا لگا کہ پروفیسر اسرار الدین صاحب کی تحریک و تحریض پر شروع ہونے والا یہ سلسلہ رکے گا نہیں، آگے چلے گا۔
سلسلہء کلام کا اغاز کرتے ہوئے انجمن ترقی کھوار کے قدآور رہنما محمد خالد ظفر نے انتہائی دلچسپ انداز میں اقبال الدین سحر کے حالاتِ زندگی پر مکمل شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی۔ محترم خالد ظفر کے مطابق
” اقبال الدین سحر عجیب و غریب شخصیت کے مالک ہیں۔ مزاجاً آپ بادشاہ بھی ہیں اور فقیر بھی۔ چھوٹوں کے ساتھ اگر آپ چھوٹے ہیں تو بڑوں کے ساتھ بڑے۔ باہمت اتنے کہ سخت سے سخت حالات بھی آپ کو اندر سے توڑنے میں ناکام رہے ۔ آپ کی شاعری میں تصوف کا رنگ و چھاپ نمایاں ہے ۔ آپ مولانا مستجاب المعروف اویونو مولانا کے مرید تھے۔ گلوکاری ، فنکاری اور موسیقاری کے ساتھ ساتھ آپ حسب موقع دم درود بھی کرتے تھے ۔ دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی تھی جب دوستوں کی گرم محفل میں تالیوں کی گونج میں آپ مست و مدہوش ستار بجا رہے ہوں اُدھر کوئی پریشان حال صاحب اپنی مشکل و پریشانی کی شکایت لیے دم کروانے آتا تو آپ تھوڑی دیر کے لیے محفل روکتے، ستار ایک طرف دیوار کے ساتھ ایستادہ کرتے اور پرچ منگوا کر دم درود اور جھاڑ پھونک کا عمل کرتے۔ بات فقط آپ کے عملیات تک ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید مزے کی بات یہ ہوتی کہ آپ کے دم کا نقد بنقد اثر بھی ہوتا اور سائل کی پریشانی دور بھی ہوتی۔ اقبال الدین سحر دوسروں کی خوشی میں دل سے خوش ہونے والے اور دوسروں کی غمی کو اپنا غم سمجھنے والے سیدھے سادھے انسان ہیں۔ آپ کے دل میں حسد ، بغض اور لالچ نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے۔”
مولانا نقیب اللہ رازی صاحب نے آپ کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو جدید منظوم مکالمہ نویسی کا موجد قرار دیا ۔ مولانا رازی کے مطابق کھوار میں منظوم مکالمہ نویسی کی داغ آپ ہی ڈالی گوکہ دوسرے شعراء نے بھی منظوم مکالمہ نویسی میں طبع آزمائی کی لیکن الفضل للمتقدم کی بنیاد پر میر کارواں آپ ہی ٹھرے۔
چترال کے سینئر ادیب ، مؤرخ اور محقق محمد عرفان عرفان نے اقبال الدین سحر کی شاعری کے صوفیانہ پہلو پر روشنی ڈالی ۔ آپ نے کہا موصوف کے کلام میں جابجا تصوف کا ذکر ملتا ہے آپ عقل اور عشق کا مکالمہ بھی کرواتے نظر آتے ہیں اور عشق کی طرف داری کرتے ہوئے بھی۔ آپ نے اپنی عشق کی راہ میں پیش آنے والی صعوبتوں ، اور ان صعوبتوں کو جھیلتے ہوئے ملنے والی لذت کو بھی بیاں کیا۔ محمد عرفان عرفان کے مطابق دیگر اہلِ تصوف کی مانند اقبال الدین سحر نے بھی عقل کے مقابلے میں عشق کو فوقیت دی ہے۔ عشق انسان کی ضرورت ہے ، عشق خالق ِ کائنات سے محبت کا نام ہے۔ عشق کے بغیر اللہ تک رسائی نہیں ہو سکتی
صلاح الدین صالح نے آپ کی شاعری میں موجود انسوؤں کے ذکر پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق اقبال الدین سحر نے اپنی شاعری میں جابجا اپنے احساسات اور کیفیات کی ترجمانی بزبانِ اشک کی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں اشک فشانی کو اہم علامت کے طور پر برتا ہے۔
لیکچرر محمد صفی اللہ آصفی نے اقبال الدین سحر کی شاعری میں برتے گئے فارسی الفاظ و تراکیب پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اتنا جامع و وقیع مقالہ پیش کیا کہ اس کے لیے الگ سے کالم لکھنے کی ضرورت ہے۔
ریڈیو پاکستان چترال کے سینئر پروڈیوسر جاوید اقبال جاوید کے مطابق چترال میں ریڈیو سب سے پہلے ایچ ایچ ناصر الملک لے آئے۔ شروع شروع میں لوگ ریڈیو کے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ شاید کچھ لوگ اس کے اندر موجوں ہوں۔ سر ناصر الملک ان لوگوں کا تردد دور کرنے کے لیے چترال سے فنکاروں کا ایک گروپ پشاور بھیجا انہوں نے پشاور جا کر ریڈیو میں پروگرام ریکارڈ کیا جب یہاں لوگوں نے سنا تو ان کا تردد یقین میں بدل گیا کہ اس میں لوگ نہیں ہیں آواز بس لہروں کے دوش پر سوار ہو کر پشاور سے چترال پہنچتی ہے۔
سن 65 میں ریڈیو پاکستان نے کھوار پروگرام شروع کیا۔ آگے جا کر اقبال الدین سحر ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے یوں اس زمانے کے مضبوط ترین زریعہء ابلاغ کے توسط سے اقبال الدین کو اپنے فن سے لوگوں کو روشناس کرانے اور انہیں اپنا گرویدہ بنانے جا موقع ملا۔ یوں آپ چالیس سال تک کسی ناغے اور وقفے کے بغیر ریڈیو پاکستان سے جڑے رہے۔
اقبال الدین سحر کے اسلامیہ کالج کے لنگوٹیا یار علاؤ الدین صابری نے حاضرین کے سامنے اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے فرمایا
اگر اقبال الدین سحر اور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی پاکستان کی بجائے کسی بڑے ملک میں ہوتے تو بین الاقوامی شخصیت ہوتے۔
محترم صالح ولی آزاد کے مطابق کھوار زبان و ادب کی خدمت کرنے والوں میں اقبال الدین سحر ایک نمایاں نام ہیں۔ سحر کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ خود ہی غزل لکھتے ہیں ، خود ہی ستار کی تاریں ٹکرا کر سر اور دھن پیدا کرتے ہیں اور خود ہی گاتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں صرف عشق کی باتیں نہیں ہیں بلکہ معاشرتی اور سماجی مسائل کا بیان بھی ہے۔ آپ غزل، نظم ، عشقیہ کلام اور صوفیانہ کلام سمیت دیگر کئی اصناف میں اشعار کہے ہیں۔ سحر کے اشعار میں نامیدی نام کی کوئی چیز نہیں ہے آپ حساس ضرور ہیں۔ لیکن صرف حساس ہی نہیں، ساتھ ساتھ ہشاش بشاش بھی ہیں اور مضحک بھی ہیں۔ ایسا شخص کبھی ناامید نہیں ہو سکتا۔
سابق ڈی ای او شیر ولی خان اسیر کے مقالے میں آپ کے اشعار میں موجود عشق کی تپش کا ذکر کافی زیادہ ہے۔ شیر ولی خان اسیر کے مطابق آپ نے عشق کی آگ کو بجھانے کی بہیترے کوشش کی لیکن یہ تپش شعلہ زن ہی رہی۔ یہ جذبہء عشق فرہاد کے جذبہء عشق سے کسی طور کم نہیں، لیکن آپ نے فرہاد کی طرح صحرا نوردی نہیں کی۔
چترال کے سینئر صحافی اور انجمن ترقی ء کھوار کے بزرگ رہنما محکم الدین محکم کے مطابق اقبال الدین سحر کی وجہ ِ شہرت ان کی ظرافت سے بھرپور شاعری ہے۔ یہ ظرافت آپ کی شاعری میں ہی نہیں، اداکاری اور فنکاری میں بھی ہے۔
اقبال الدین سحر کے اسلامیہ کالج کے لنگوٹیا یار علاؤ الدین صابری نے حاضرین کے سامنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
اگر اقبال الدین سحر اور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی پاکستان کی بجائے کسی بڑے ملک میں ہوتے تو بین الاقوامی شخصیت ہوتے۔

آپ کے سکول و کالج کے زمانے کے دوست محترم کرنل سردار نے آپ کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا جب پروگرام کے منتظم عاجز صاحب کی طرف سے مجھے اقبال الدین سحر کے بارے میں اپنے تاثرات لکھنے اور پیش کرنے کا پیغام ملا تو میں نے فیصلہ کیا۔ بے تکلف دوست ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے آپ کی شخصیت میں موجود منفی چیزیں بھی رکارڈ پر لاؤں گا۔ بسیار سوچ بچار کے بعد میں اپنی اس خواہش کو عملی چادر اس لیے نہیں اوڑھا سکا کہ آپ کی شخصیت میں مجھے ایسی کوئی نیگیٹیو چیز ملی ہی نہیں، جسے میں آج آپ حضرات سے شئر کر سکتا۔
کرنل سردار نے اپنی تقریر میں ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے محفل کو کشت زعفران بنایا۔ فرمایا:
“ایک دفعہ کرنل مراد نے ہم سے کہا بھئی یہ کیلاش اور گجر قبیلے والے بھی تو چترالی ہیں لیکن چترال اسکاؤٹس میں نہیں ہیں۔کیوں؟ یوں بعد ازاں چھ کیلاش جوانوں کو چترال اسکاؤٹس میں بھرتی کیا گیا۔ ایک دن تورکھو سے تعلق رکھنے والے ساتھی کرنل میرے پاس آئے ۔ آتے ہی گویا ہوئے۔
اے برار دنیا تونج بیتی شیر،
کیا چال ہوئی رے بشار گنیکو ۔ ریتائی ۔ اتے چھوئی کلاݰ سف مسلمان بیتی سونی، دی کرنل مراد صاحبو تے کیاغ ریسی۔۔ آوا ریتام کی ، تو تان ہے لوو دیت۔ آوا نو بوم۔۔۔۔ خیر۔۔ اس کے بعد کرنل مراد صاحب اور کیلاݰ کمیونٹی میں راہ و رسم بڑھ گئے۔ انہی دنوں کیلاش گوم کے ٹینگیڑ کلاݰ کا انتقال ہوا۔ کرنل مراد صاحب نے ہمیں بھلا کر بتایا ٹینگیڑ کلاش کی تعزیت پر جانا ہے وہاں ہمیں کیا کرنا پڑے گا۔ہم میں سے کسی نے بتایا کیلاش قبیلے میں جب فوتگی ہوتی ہے تو تعزیت کے لیے آنے والے فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بالمبالغہ بیاں کرتے ہیں۔ کرنل مراد نے جواباً کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔ موصوف کی تعریف ہم بھی دل کھول کر کریں گے۔ یوں تعزیت کے مقام پر پہنچ کر کرنل مراد نے ٹینگیڑ کلاݰ کی تعریف شروع کر دی۔ تعریف کرتے کرتے جوش میں آ کر کہا ، ایک دفعہ امریکی صدر ریگن نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں ٹینگیڑ کلاݰ سے ملنا چاہتا ہوں ۔ جب میں ریگن کی یہ خواہش ٹینگیڑ تک پہنچائی اور ملاقات کے خدوخال طے کرنے انہیں دروش طلب کیا تو ٹینگیڑ کلاݰ نے نہایت حقارت کے ساتھ دعوت ٹھکراتے ہوئے صدر ریگن سے یہ کہہ کر ملنے سے معذوری ظاہر کی کہ میں ہر ایرے غیرے کو میں وقت نہیں دے سکتا ۔”
شمع محفل اقبال الدین سحر نے محفل سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی شہرت و مقبولیت کو مداحوں کی محبت اور پروفیسر اسرار الدین کی تربیت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں کہا آج میرے بارے میں جو گفتگو یہاں ہو رہی ہے یہ بھی پروفیسر اسرار الدین کی برکت سے ہے اگر ایسے پروگرامات کے انعقاد کے لیے ان کا مشورہ نہ آتا تو آپ حضرات یہاں موجود ہوتے اور نہ ہی میری خدمات پر تقاریر کر رہے ہوتے۔
ایسی پررونق محفل سجانے پر پروگرام کے مہمان ِ خاص پرفیسر اسرار الدین نے پریس کلب کے صدر ظہیر الدین عاجز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی روایت کی داغ بیل ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ روایت و ثقافت کی خدمت کرنے والی شخصیات کی زندگی میں ہی ان کے کام کی تعریف و توصیف کی جائے ان کی خدمات کا کھلے دل کے ساتھ اعتراف کیا جائے۔ پرفیسر صاحب نے اقبال الدین سحر کو چترال کے اولین فنکاروں میں سے قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سحر کے بغیر محفل پھیکی اور بے مزہ محسوس ہوتی تھی گویا آپ محفلوں کی جان و آبرو بن گئے تھے۔ یوں یہ پروگرام پریس کلب کے بانی ممبر سینئر صحافی محترم جہانگیر جگر کے اختتامی کلمات کے ساتھ انجام پذیر ہوا۔ پروگرام میں پروفیسر حسام ، پروفیسر شفیق، ایس ڈی ای او لوئر چترال شہزاد ندیم ، صوبیدار میجر (ر) عبد الصمد ، انجمن ترقی کھوار پشاور کے مرکزی رہنما رئیس مہربان الٰہی حنفی، محقق و مؤرخ جناب ہدایت الرحمن ، ادیب و شاعر جناب زاکر زخمی، جناح پروانہ ، ماہر تعلیم عالمگیر بخاری، ہیڈ ماسٹر ندیم احمد سمیت دیگر اہم شخصیات شریک تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔