چترال، آن لائن بزنس سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لئے پاور ایگلز ٹیم کی طرف سے پروگرام کا انعقاد

چترال( رپورٹ حمید الرحمن حقی )سے  یہ بات باعث فخر ہے کہ چترال کی بہن بیٹیاں زندگی کے ہر شعبے چاہیے گھریلو زمہ داریاں ہو یا ملکی و غیر ملکی اعلی سرکاری خدمات، حصولِ تعلیم ہو یا سماجی و معاشرتی کارکردگی، صحت کا شعبہ ہو یا ملکی دفاع و قانونی نظم و ضبط کا ادارہ، فنون لطیفہ ہو یا رضاکارانہ خدمات، تجارت یا صنعت و حرفت ہو یا ادب و ثقافت،سیاسی خدمات ہو یا صحافتی کردار یہاں تک کہ زندگی کے ہر شعبے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے ہر حصے میں اپنی اعلی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوے بہترین معاشی و معاشرتی زمہ داریوں کو بااحسن نبھاتے آرہی ہیں.اور ساتھ موجودہ سائنس و ٹینکالوجی کے برق رفتار حالات و صورت حال کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوے ہماری باصلاحیت خواتین اور بہن بیٹیاں مختلف آن لائین پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوے حصولِ زر اور کاروبار و تجارت(online business) میں بھی اپنا لوہا منوانے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں.اور مختلف آن لائین پلیٹ فارمز سے اپنی بہترین روزی و روزگار کے مواقع اپناتے ہوے ایک خودمختار شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں ..انہی آن لائین کاروبار سے منسلک باصلاحیت چترالی خواتین جو معروف انٹرنیشنل آن لائن پلیٹ فارم Forever living products(FLP) کے ساتھ پیشہ ورانہ طور پر کام کر رہی ہیں،انہی خواتین کیساتھ گزشتہ روز مشہور آن لائن گروپ(پاور ایگلز ٹیم) power eagles team کی جانب سے ٹیم سپروائزر میڈم صوفیہ نور اور ٹیم لیڈرز میڈم فریدہ فراز اور میڈم شفیقہ نگہت کی زیر نگرانی چترال لوئر کے مقامی ہوٹل  میں ایک پروقار Meetup کا اہتمام کیا گیا تھا ، جس میں چترال بھر سے ایف ایل پی کے پلیٹ فارم سے آن لائن بزنس کیساتھ منسلک اور دلچسپی رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوے نہ صرف اپنی تجربات شئیر کی بلکہ وقت اور حالات کے مطابق آن لائن بزنس کی اہمیت اور Forever living products (FLP) کی افادیت پر بھی بھرپور روشنی ڈالی ، ساتھ ساتھ ایکدوسرے کو درپیش مسائل و مشکلات کو سمجھنے سمجھانے اور نئے شامل ہونے والی بہن بیٹیوں کی بھرپور مدد کا اعادہ کرنے کے علاوہ ایکدوسرے کی چیلجز میں شراکت کو یقینی بنانے اور ایکدوسرے کے ساتھ بھرپور معاونت کرنے سمیت ذیادہ سے ذیادہ دیگر بہن بیٹیوں کو بھی شامل کرکے خودمختار بنانے کی عزم کا بھی بھرپور اعادہ کیا گیا…..

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔