مسلم لیگ نون اپراورلوئرچترال کی رہنماوں کی ریشن کی دریابردگی اور چترال یونیورسٹی کی بندش کی افواہ پرپریس کانفرنس میں تحفظات

چترال (چترال ایکسپریس) پاکستان مسلم لیگ (ن) لویر اور اپر اضلاع کے رہنماؤں عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ، محمد اعظم خان، محمد کوثر ایڈوکیٹ، محمد وزیر خان، ساجد اللہ ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور دوسروں نے اپر چترال کے گاؤں ریشن کی دریا بردگی پر صوبائی حکومت کی خاموشی اور یونیورسٹی آف چترال کی بندش کی افواہ پربدھ کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں مسائل کی وجہ سے اہالیان چترال میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریشن ان نااہل حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹنے کے قریب ہے اور ریشن گاؤں کی دریا بردگی گزشتہ پانچ سالوں سے جاری ہے لیکن ان نااہلوں نے کوئی توجہ ہی نہیں دی۔انہوں نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے خلاف کاروائی کا بھی مطالبہ کیاکیونکہ اس سال کروڑوں روپے کی خطیر رقم حفاظتی پشتے کی تعمیر میں خرد برد ہوئی۔ انہوں نے این ایچ اے حکام پر زور دیاکہ دریا کا رخ گاؤں سے موڑنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے چترال یونیورسٹی کی بندش کی خبر پر بھی صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چترال رقبے کے لحاظ سے پورے صوبے کا پانچواں حصہ ہے جہاں روزگار کاسب سے بڑ اذریعہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ وابستہ ہے اور یہاں اپر چترال کے لئے الگ یونیورسٹی درکار تھی لیکن موجودہ یونیورسٹی کو ختم کرنے کی بات کی جارہی ہے جسے چترال کے عوام کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں ضرورت سے ذیادہ یونیورسٹیاں مختلف ادوار میں بنائی گئی ہیں، ان کو ہی ختم کئے جائیں جس طرح مردان کے چھوٹے شہر میں پانچ یونیورسٹیز کام کررہی ہیں لیکن چترال میں یونیورسٹی کی موجودگی انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے چترال کے لئے  25ارب خصوصی فنڈ کی امداد کی اپیل کی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے چترال سے قومی اسمبلی کے رکن عبداللطیف پر اسمبلی کے فلور پر وزیراعظم کو تضحیک کا نشانہ بنانے اور ان کا نقل اتارنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کی اس غیر سنجیدہ رویہ کی وجہ سے چترال کو نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی بھی مشکل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ بڑے محفل میں بولنے کا طور طریقہ اور اخلاق سیکھنے کے بعدہی اسمبلی کے فلور پر بولے ورنہ ان کی غیر سنجید ہ اوربچگانہ حرکات سے چترال کومزید نقصان ہوگا جسے چترال کے عوام انہیں معاف نہیں کریں گے۔

اس موقع پر لواری ٹاپ پر ٹاؤر پولز کو دوبارہ ایستادہ کرکے چترال کو دوبارہ نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گولین گول میں سیلاب آنے اور بجلی گھر کی بندش کے بعد چترال طویل عرصے تک تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں کہ چترال میں ہرپارٹی کے پاس بڑے بڑے وکلا کی موجودگی کے باوجود وہ چترال کے مسائل کے حل کے لئے عدالتی راستہ اختیار کیوں نہیں کرتے۔جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی طرف سے کوئی درخواست موصول ہو تو ہم ضرور قانونی راستہ اختیار کرینگے جس کے لئے عوام کو آگے آنا پڑےگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔