چترال لوئر میں بھیک مانگنے اور چندہ مانگنے پر تین مہینے کے لئےپابندی عائد

ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان نے دفعہ 144 نافظ کر دیا ہے۔

چترال( چترال ایکسپریس) دیگر اضلاع سے لوئر چترال آنے والے بھکاریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اور جب کہ کچھ بھکاری چترال شہر کے ملحقہ دیہاتوں کا رخ کر رہے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر مساجد کے سامنے بیٹھ کر بھیک مانگ رہے ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ مساجد اور مدارس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے، بازاروں اور مساجد میں چندہ مانگنے کے بہانے چترال کا رخ کر رہے ہیں۔
جب کہ، یہ سرگرمیاں عوامی پریشانی اور کمزور افراد کے استحصال کا باعث بنتی ہیں۔
اس طرح کی سرگرمیاں عوامی راستوں اور بازاروں میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں، جس سے عام لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل پڑتا ہے۔
ایسے افراد کا مجرمانہ نیٹ ورکس سے روابط کے امکانات ہوتے ہیں جس سے علاقے کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوۓ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلۓ

ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان نے دفعہ144 نافظ کر دیا ہے۔
جس کے تحت علاقے میں کسی بھی مقصد کے لیے

بھیک مانگنے اور چندہ /فنڈز کی غیر مجاز وصولی پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔
یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور 3 ماہ کے مدت تک نافذ رہے گا۔
اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جاۓ گی۔دفعہ 144پر عملدرآمد کرتے ہوئے چترال سٹی پولیس نے چترال کے مختلف ایریاز سے بھیکاریوں کوپکڑکر تھانہ منتقل کردیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔