دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔ “میرا صوبہ”..۔محمدجاویدحیات

آپ بے شک بد قسمتی سمجھیں میں خوش قسمتی سمجھوں گا کہ میں جس صوبے میں پیدا ہوا ہوں وہ ہر لحاظ سے بے مثال ہے ۔۔آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں گے تو عش عش کر اٹھیں گے کہ یہ صوبہ عظیم فاتحیں ہندوستان کا راستہ رہا یے اس کی مٹی کی دھول ان عظیم فاتحیں ، مجایدین اور فاتحیں کی یاد دیلاتی ہے ۔سکندر ، منگول ، افعان ،مغل کون کون اس صوبے سے ہوکے نہیں گزرے۔عظیم فاتحیں محمود بت شکن ،سلاطین ایبک،غوری،سوری ،خلجی،
ظہیر الدین بابر سب یہاں سے ہوکر گزرے ۔یہاں کی مٹی بہادروں کی مٹی ہے ۔پٹھان یہاں کی ننگ ہیں جس حملہ أوور سے ملے اس کو فتح سے ہم کنار کیا وفا کے پتلے ،ضدی نڈر ۔۔خوشخال خان خٹک نے کہا تھا ۔۔۔میرا قلم میری پہچان ہے لیکن میری تلوار میری طاقت ہے ۔پھر آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی تو اس صوبے کے قباٸل کی وہ غیرت کبھی جھکی نہیں ۔۔کشمیر کا تنازعہ اٹھا تو یہ قباٸل تھے جو اپنی بندوق اٹھاۓ کشمیر کی محاذ پہ پہنچے تھے ۔پھر سن پنسٹھ کی لڑاٸی ہوٸی تو ان قباٸل کے جوانوں نے بندوق اٹھاٸی اور کہا کہ ہندووں کو کیا پتہ ہے کہ جنگ کیسی لڑی جاتی ہے ۔پھر ان سرفروشوں کی لمبی فہرست ہے ہر محاذ پہ میرے صوبے کے جوان پہلی لاٸن پہ رہے ہیں خواہ وہ کھیل کا میدان ہو ۔۔سیاست ہو حکمرانی ہو ۔۔قلم ہو تلوار ہو مذہب ہو ۔۔پھر پانی یہاں سے جب ملک میں ڈیموں اور آپاشی کا تصور نہ تھا بجلی خواب تھی تو اس صوبے نے یہ ممکن بنایا ۔۔انگریزوں نے ملاکنڈ میں بجلی گھر بنایا یہ 1926 تھا ۔ورسک ڈیم ، تربیلہ ڈیم ،منگلا ڈیم ۔۔۔پھر جنگلات یہاں کے ،سیاحت یہاں کی ،معدنیات یہاں کے ،دلکش نظارے یہاں کے ۔۔۔لیکن بے چینی یہاں کی ۔۔یہ سیاست کا اکھاڑا ہے ۔۔۔یہاں پہ پریکٹسیں ہوتی ہیں ۔یہاں پہ جنگ جنگ لڑی جاتی ہے ۔۔یہ دہشت گردوں کی آماجگاہ ہوتی ہے ۔یہاں پی پاک فوج کے جوان کٹ مرتے ہیں اور عوام کچلے جاتے ہیں ۔ییاں پہ قیمتیں بڑھتی ہیں اور حکومت کی امدن غائب رہتی ہے ۔بجلی یہاں مگر لوڈ شیڈنگ کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے ۔خام مال یہاں کا لیکن کارخانے کہیں اور لگتے ہیں ۔ہنر مند یہاں کے لیکن بے روزگاری اس کو کھا رہی ہے ۔ملازمین کے حقوق پہلے یہاں سلب ہوتےہیں ۔۔اگر گریٹ کا مسلہ ہو تو سارے صوبوں میں جو ملازم گریٹ 17 میں ہوتا ہے وہ یہاں گریٹ سولہ( 16 ) میں ہوتا ہے ۔
تنخواہیں دوسرے صوبوں میں بڑھاٸی جاتی ہیں مگر یہاں کے ملازمین دردرکی ٹھوکریں مارتےرہتے ہیں ۔۔پنشن اصلاحات پہلے یہاں پر أتی ہیں ملازمین کو پنشن سے محروم کیا جاتا ہے ۔سبسیڈیز کا ٹنے کی باتیں پہلے یہاں پر ہوتی ہیں ۔کرپشن کا بڑا اڈہ یہ بنایا جاتا ہے ۔سیاحت کو دھمکیاں یہاں پہ ہیں ۔۔ترقیاتی کام پہلے یہاں رکتے ہیں ۔یہاں کے جنت نظیر سیاحتی مقامات سڑکوں اور سہولیات سے محروم ہیں ۔میرے صوبے میں جو ٹیلنٹ ہے یہ سفارش کا شکار ہوتا ہے ۔جو ہنر ہے اس کی کوٸی قدر نہیں ہوتی ۔۔یہاں کے دریاٶں سے اتنی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے کہ ملک بجلی برآمد کرے لیکن کوٸ توجہ نہیں ہوتی ۔یہاں کے جنگلات جو ملک کی دولت ہیں ان پر لیکن توجہ نہیں ہوتی ۔یہاں کے پہاڑ معدانیات سے مالامال ہیں لیکن ان تک رساٸ کی سعی نہیں ہوتی ۔یہاں پر یونیورسٹیاں بند کی جارہی ہیں ۔۔مراعات یافتوں کو مراعات سے مالا مال کیا جارہا ہے محروموں کو مذید محرومی کا شکار کیا جا رہا ہے ۔اسمبلی ہال مچھلی بازار ہیں ۔۔۔محکمے بے ہنگم شوروں میں بدل رہے ہیں ۔۔کچھ دھاٸیاں دے رہے ہیں چند تماشاہی ہیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔میرے صوبے کو اس روایتی غیرت کا کوٸی بدلہ نہیں ملتا ۔اس کو امن سے محروم کرکے آگ اور خون اور جنون کا تماشاگاہ بنایا جا رہا ہے ۔مجھے اپنے صوبے پہ فخر ہے لیکن میری قسمت میں بے چینیاں کیوں لکھی ہیں ؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔