بشارت از مبشرالملک

پیغامِ حق کا پیامبر..از: مبشرالملک

تاریخِ امت کے ہر دور میں ایسے مردانِ کار پیدا ہوتے رہے ہیں جو دینِ خالص کے تحفظ اور اس کی نشاةِ ثانیہ کے لیے بیدار مغز اور بیدار دل لے کر اُٹھے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ انہی مردانِ حق میں سے ایک تھے، جنہوں نے بیسویں صدی کے فکری جمود اور دین سے دوری کے اندھیروں میں چراغِ راہ جلایا۔

یہ وہ وقت تھا جب برصغیر کے علماء کی اکثریت قرآن کے ترجمے کو عوام میں عام کرنے کو گوارا نہیں کرتی تھی۔ وہ دین کو مخصوص طبقات تک محدود رکھنا چاہتے تھے، جبکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ دین سے دور ہو رہا تھا اور مغرب زدہ ہو چکا تھا۔ ایسے حالات میں مولانا مودودیؒ نے نہ صرف قرآن و سنت کی اصل روح کو عام انسان کی فہم کے مطابق پیش کیا، بلکہ تعلیم یافتہ طبقے کے سامنے دین کا عملی اور متحرک چہرہ رکھا۔

اقبالؒ نے کہا تھا:

> “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

مولانا مودودیؒ نے اسی اقبال کے خواب کو تعبیر بخشی — امت کو انفرادی نیکی سے اجتماعی نجات کی طرف لے جایا، اور افراد کو “ملت” بنانے کا عمل شروع کیا۔ آپ نے اقبال کے فکر کو محض اشعار کی حد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس فکر کو ایک منظم فکری و عملی تحریک کی شکل دی۔

اقبالؒ نے جب کہا:

> “جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی”

تو مولانا مودودیؒ نے اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسلام کوئی خانقاہی نظام نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جسے سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم، اور عدل سب میدانوں پر نافذ ہونا چاہیے۔ انھوں نے پاکستان کے قیام کو محض ایک قومی ریاست نہیں، بلکہ خلافتِ راشدہ کے طرز پر اسلامی ریاست بنانے کا ذریعہ سمجھا۔ چنانچہ ان کی تحریریں اور جماعت اسلامی کی جدوجہد قائد اعظم کے پاکستان کو اسلامی راہ پر گامزن کرنے کا عملی روڈمیپ بنیں۔

تاہم بعد کے سیاسی حالات، عسکری دباؤ، اور وقت کے جمہوری تقاضوں نے جماعت اسلامی کو اس راستے سے ہٹا دیا۔ خلافت کا خواب رکھنے والی جماعت جمہوریت کی گرداب میں ایسی الجھی کہ ایک وسیع و عریض لق و دق سیاسی صحرا میں بے مہار سرگرداں ہو گئی۔ انتخابی سیاست کے جھمیلوں، وقتی اتحادوں، اور عددی کامیابیوں کی دوڑ نے اصل نصب العین کو پیچھے چھوڑ دیا۔ نتیجتاً، وہ منزل جس کی طرف مولانا نے اُمت کو متوجہ کیا تھا، وہ آج بھی دور اور ناآشنا سی لگتی ہے۔ان سب کے باوجود بھی پاکستان میں نظام کو تبدیل کرکے جدید اسلامی رنگ میں رنگنے کی صلاحیت اگرکہیں ہوسکتی ہے وہ جماعت اسلامی ہی ہے۔

اس کے باوجود مولانا مودودیؒ کی فکر زندہ ہے۔ ان کی تحریریں آج بھی لاکھوں دلوں کو راہ دکھا رہی ہیں۔ پوری دنیا میں اسلامی تحریکات، خواہ وہ ترکی کی رفاہ پارٹی ہو یا مصر کی اخوان، انڈونیشیا کی حزب التحریر ہو یا مغرب میں مسلم طلبہ کی تحریکات — سب مولانا کی فکری روشنی سے فیض یاب ہو رہی ہیں۔

مولانا نے دین کو مناظروں، فرقہ واریت، قبر پرستی، اور تنگ نظری کے دائرے سے نکال کر اجتماعی فلاح کا ایک متحرک پیغام بنایا۔ اُنہوں نے تعلیم یافتہ طبقے کو بتایا کہ دین محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظامِ حیات ہے جو انسان کو خودی، مقصد، اور خدمتِ خلق کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

اقبالؒ کے ایک اور شعر میں مولانا کا عکس کچھ یوں نظر آتا ہے:

> خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

مولانا مودودیؒ نے قوم کو یہی پیغام دیا — خودی، نصب العین، اور اللہ کی حاکمیت۔

یقیناً اگر مولانا مودودیؒ نہ ہوتے تو شاید جدید ذہن اسلام سے کٹ چکا ہوتا۔ ان کی علمی خدمات، فکری رہنمائی، اور قرآنی بصیرت نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کی فکر سے روشنی لیتے ہوئے امت کی وحدت اور خلافت کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock