
جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے، تغیر و تبدل کا ایک لامتناہی سلسلہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جب سے اس کائنات میں انسان کا ظہور ہوا، اسی دن سے تباہی و بربادی اور قتل و غارت اس کا مقدر بن گیا۔ آدمی آدمی کو مارنے کے درپے ہو گیا۔ جس دن اس نے صرف جانوروں کا شکار کرنے کی غرض سے ایک سادہ ہتھیار بنانے کا سوچا، اسی دن سے انسان کے ذہن اور دل میں قتل اور مارنے کی ایک ترکیب تیار ہو گئی۔
یہ وہی انسان ہے جو اپنا وجود چھپا نہیں سکتا تھا۔ یہ وہی انسان ہے جو حلال اور حرام میں تمیز کرنے کے قابل نہیں تھا۔ یہ وہی انسان ہے جو کچا اور پکا ہوا کھانے میں فرق نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن آج ذہن چلا کر اس نے شہر کے شہر اجاڑ دیے ہیں۔ اپنے جیسے انسانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے راستے میں آنے والی ہر ایک شے اس کے لیے رکاوٹ ہے، اسی لیے سب سے پہلا وار اس پر ہوتا ہے۔
ہماری تاریخ کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی ہے، یہ انسان ہی جانتا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں کی مثالیں سامنے ہیں۔ یہ بننے اور معدوم ہونے کا سلسلہ در سلسلہ معلوم نہیں کب تک چلے گا اور کہاں پہنچے گا۔
اس سے پہلے یہ تمام باتیں ہمارے لیے ایک افسانوی کردار اور داستانوں سے کم نہ تھیں۔ ہم سنتے اور دوسروں کو بتا کر لطف اندوز ہوتے تھے۔ مگر آج وہی کردار ہمارے سامنے ہیں جنہیں ہم حقیقی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں، سن بھی رہے ہیں اور ان پر افسوس بھی کر رہے ہیں۔
غور کیا جائے تو ہم وہی دہرا رہے ہیں جو ہم سے پہلے وہی وحشی اور جنگلی لوگ کرتے تھے۔ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہمارے ذہنوں میں وہی بربریت، درندگی اور بے رحمی ذرا بھی کم نہیں ہوئی ہے، اور اب کے بعد اس میں کمی کی توقع بھی نہیں رکھی جا سکتی۔
اسلام سے ہٹ کر اگر بات کی جائے تو بہتر ہوگا۔ کیونکہ یہاں ہم انسان کو لیں گے، مسلمان کو نہیں۔ کیونکہ پہلے ان ماؤں، بہنوں اور بچوں کی سسکیاں مسلمانوں کو سنائی نہیں دیتیں، لیکن انسانیت کو سنائی دے رہی ہیں۔ ہم انسان کا روپ دھار کر بات کرنے کے قائل ہیں اور اب وقت بھی یہی تقاضا کر رہا ہے۔
