عرب ممالک میں محنت کشوں کے مسائل اور ان کا حل۔۔تحریر: مبشر الملک
چند روز پہلے “سہانے خواب کے مارے ” کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا، جس میں عرب ممالک خصوصاً گلف میں روزگار کی غرض سے جانے والے پاکستانی محنت کشوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد ریاض میں مقیم میرے سواتی دوست شیخ شیر خان السلام پوری ۔دیبی سے چترالی دوست ارحام صاحب نے یو اے ای اور سعودی عرب کے حوالے سے نہایت ہی قیمتی اور زرین قانونی معلومات شیئر کیں۔ ان تجربات، مشاہدات اور قانونی نکات کو یکجا کرتے ہوئے یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آنا چاہیے، تاکہ مایوسی کے بجائے حقیقت پسندانہ امید اور توازن پیدا ہو۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک جن پاکستانیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کی تعداد مجموعی طور پر دس فیصد کے قریب ہے، جبکہ نوے فیصد پاکستانی محنت کش باعزت، کامیاب اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی لوگ اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کما رہے ہیں اور ملکی معیشت کا خاموش مگر مضبوط سہارا بنے ہوئے ہیں۔
میں ان تمام دوستوں کا دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے تجربات بانٹ کر مایوس چہروں کو حوصلہ دیا، درست قانونی راستوں کی نشاندہی کی اور نئے آنے والوں کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ یہی رویہ ایک زندہ قوم کی پہچان ہوتا ہے کہ وہ جہاں بھی خدمات انجام دے، اپنے کمزور اور مجبور ہم وطنوں کا سہارا بنے۔ خصوصاً بیرونِ ملک مقیم ہمارے چترالی بھائی جہاں کہیں بھی سروس کر رہے ہوں، ان سے گزارش ہے کہ اپنی شرافت، دیانت، چترالی اقدار، وطن کی عزت اور دین کے وقار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ اللہﷻ یقیناً ان کا خیال رکھے گا جو دوسروں کا خیال رکھتے ہیں۔
*مسائل کی بنیادی وجوہات*
پاکستان کے ہزاروں محنت کش جب عرب ممالک کا رخ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں بہتر مستقبل اور خوشحال زندگی کے خواب ہوتے ہیں، مگر ان خوابوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لاعلمی، کم تعلیم، اور غلط رہنمائی بن جاتی ہے۔
1۔ *کم تعلیم اور قانونی ناواقفیت*
اکثر ورکر عرب ممالک کے لیبر قوانین، کفیل نظام، اقامہ کی اہمیت اور ورک کنٹریکٹ کی قانونی حیثیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ نتیجتاً وہ نادانستہ طور پر ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں گرفتاری، جرمانے یا ڈی پورٹیشن کا سبب بنتی ہیں۔
2۔ ایجنٹوں کا بہکاوا
بعض غیر ذمہ دار ایجنٹ زیادہ تنخواہ، آسان کام اور فوری سیٹلمنٹ کے خواب دکھا کر سادہ لوح افراد کو دھوکے میں ڈال دیتے ہیں۔ جعلی وعدے، تبدیل شدہ کنٹریکٹ اور اضافی اخراجات محنت کش کی جمع پونجی کو نگل جاتے ہیں۔
3۔ *اپنوں کی لالچ اور دھوکا*
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات رشتہ دار یا جان پہچان والے کفیل اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ غیر قانونی کام، تنخواہ کی کٹوتی اور مشکل وقت میں بے رخی، مسائل کو دوچند کر دیتی ہے۔
4۔ *قرض کا جال*
اکثر محنت کش بھاری قرض لے کر بیرونِ ملک جاتے ہیں۔ اگر نوکری میں مسئلہ آ جائے یا تنخواہ بروقت نہ ملے تو قرض، ذہنی دباؤ اور خاندانی پریشانیاں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جاتی ہیں۔
*عرب ممالک میں درپیش عملی مشکلات*
کفیل کے بغیر نوکری تبدیل نہ کر سکنا
اقامہ ایکسپائر ہو جانا
پاسپورٹ ضبط ہونا
زبان نہ آنے کی وجہ سے قانونی حق استعمال نہ کر پانا
احتجاج یا ہڑتال پر سخت سزا
معمولی غلطی پر جرمانہ، جیل یا ملک بدری
یہ تمام مسائل اس وقت مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب محنت کش قانونی راستے کے بجائے جذباتی یا غیر قانونی قدم اٹھا لیتا ہے۔
*مسائل کا حل — واحد قابلِ عمل راستہ*
1۔ روانگی سے پہلے احتیاط
صرف سرکاری رجسٹرڈ ایجنٹ کے ذریعے جانا
ورک کنٹریکٹ مکمل پڑھنا اور سمجھنا
قرض کم سے کم لینا
متعلقہ ملک کے بنیادی قوانین سے آگاہی حاصل کرنا
2۔ وہاں پہنچنے کے بعد ذمہ داری
اقامہ اور قانونی حیثیت پر مسلسل نظر رکھنا
پاسپورٹ اور دستاویزات کی نقول اپنے پاس رکھنا
غیر قانونی کام سے مکمل اجتناب
3۔ قانونی راستہ اختیار کرنا
مسائل کی صورت میں:
مقامی لیبر آفس
سرکاری آن لائن پلیٹ فارمز
پاکستانی سفارت خانہ
سے رجوع کرنا ہی محفوظ اور مؤثر حل ہے۔
اکثر محنت کش بھاری قرض لے کر بیرونِ ملک جاتے ہیں۔ اگر نوکری میں مسئلہ آ جائے یا تنخواہ بروقت نہ ملے تو قرض، ذہنی دباؤ اور خاندانی پریشانیاں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جاتی ہیں۔
*سعودی عرب میں
پاکستانی ورکرز کے قانونی* حقوق
(جاننا ضروری — مانگنا حق)
1️⃣ *تحریری ورک کنٹریکٹ کا حق*
سعودی قانون کے مطابق ہر غیر ملکی ورکر کا:
تحریری کنٹریکٹ ہونا لازمی ہے
کنٹریکٹ سعودی لیبر سسٹم میں رجسٹرڈ ہوتا ہے
اس میں درج ہونا چاہیے:
تنخواہ (ریال میں واضح)
کام کے اوقات
ہفتہ وار اور سالانہ چھٹیاں
اوور ٹائم
کنٹریکٹ کی مدت
زبانی وعدوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں
2️⃣ *بروقت اور مکمل تنخواہ کا حق*
(Wage Protection System – WPS)
تنخواہ بینک کے ذریعے دینا لازم ہے
نقد تنخواہ غیر قانونی سمجھی جاتی ہے
اگر کمپنی تنخواہ لیٹ کرے:
لیبر ڈیپارٹمنٹ خود نوٹس لیتا ہے
کمپنی پر جرمانہ اور پابندیاں لگ سکتی ہیں
*تنخواہ نہ ملنا ورکر کی غلطی نہیں*
3️⃣ *اقامہ (Iqama) بنوانے کا حق*
اقامہ بنوانا کفیل/کمپنی کی ذمہ داری ہے
اقامہ نہ بنانا یا ایکسپائر ہونا:
جرمانہ
گرفتاری
ڈی پورٹیشن
کا سبب بن سکتا ہے
ورکر کو حق ہے کہ اقامہ بروقت بنوانے کا مطالبہ کرے
4️⃣ *پاسپورٹ ضبط نہ ہونے کا حق*
سعودی قانون کے مطابق:
کفیل یا کمپنی ورکر کا پاسپورٹ ضبط نہیں کر سکتی
اگر ضبط کرے تو:
یہ قابلِ سزا جرم ہے
عملی طور پر یہ ہوتا ہے، مگر قانون ورکر کے حق میں ہے
5️⃣ *نوکری کی تبدیلی کا حق (شرائط کے ساتھ)*
حالیہ اصلاحات کے بعد:
کنٹریکٹ مکمل ہونے پر
یا تنخواہ مسلسل نہ ملنے پر
یا کفیل زیادتی کرے
تو ورکر:
کفیل کی اجازت کے بغیر بھی نوکری تبدیل کر سکتا ہے
(قانونی طریقے سے)
6️⃣ *طبی سہولت اور انشورنس کا حق*
ہر ورکر کے لیے:
ہیلتھ انشورنس لازمی
علاج اور حادثاتی سہولت کفیل کی ذمہ داری
بیمار ہونے پر کام پر مجبور کرنا غیر قانونی ہے
7️⃣ *کام کے اوقات اور آرام کا حق*
یومیہ کام کے اوقات مقرر ہیں
اوور ٹائم پر اضافی معاوضہ لازم
ہفتہ وار آرام کا دن حق ہے
شدید گرمی میں بعض اوقات مخصوص کام پر پابندی ہوتی ہے
8️⃣ *شکایت درج کرانے کا مکمل حق*
اگر:
تنخواہ نہ ملے
پاسپورٹ ضبط ہو
اقامہ نہ بنے
زبردستی کام کرایا جائے
تو ورکر شکایت کر سکتا ہے:
سعودی لیبر آفس
Absher یا Qiwa پلیٹ فارم
پاکستانی سفارت خانہ (لیبر وِنگ)
شکایت کرنا جرم نہیں، حق ہے
9️⃣ *عزت، تحفظ اور امتیاز سے آزادی کا حق*
جبری مشقت ممنوع
مارپیٹ، گالی گلوچ جرم ہے
مذہب، نسل یا قومیت کی بنیاد پر امتیاز قانوناً منع ہے
🔟 *قانونی مدد اور وطن واپسی کا حق*
قانونی کیس میں:
مترجم
وکیل
سفارت خانے کی مدد
کا حق حاصل ہے
شدید حالات میں:
سفارت خانہ وطن واپسی میں مدد کر سکتا ہے
*حاصل کلام۔*
سعودی عرب میں پاکستانی ورکر بے سہارا نہیں۔
قانون موجود ہے، مگر مسئلہ لاعلمی ہے۔
جو ورکر:
قانون جانتا ہے
صبر اور حکمت سے کام لیتا ہے
قانونی راستہ اختیار کرتا ہے
وہی اپنے حق کی حفاظت کر پاتا ہے۔
*جان کے جیوإ*
عرب ممالک نہ تو خوابوں کی جنت ہیں اور نہ ہی مصائب کی مستقل سرزمین۔ یہ محنت، صبر اور قانون کی دنیا ہے۔ جو شخص آگاہی، دیانت اور حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ وہاں جاتا ہے، وہی کامیاب رہتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تجربات چھپانے کے بجائے بانٹیں، نئے آنے والوں کو حقیقت بتائیں اور بحیثیت قوم ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ یہی رویہ ہمیں فرد سے قوم اور مزدور سے باوقار شہری بناتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر محنت کش کو حلال رزق، عزت اور تحفظ عطا فرمائے۔ آمین۔
