
داد بیداد۔۔چترال پر یادگار نشست۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
¹جب سے ادبی میلوں کا سلسلہ چل نکلا ہے کراچی سے لاہور، اسلام اباد اور پشاور تک رونق لگی رہتی ہے اچھی بات یہ ہے کہ سید احمد شاہ نے کرا چی میں ادبی میلے کے لئے کاروباری شخصیات اور مالیاتی اداروں سے اشتہارات اور عطیات اکھٹا کرنے کی جو روایت ڈالی وہ روایت بھی پشاور تک آگئی ہے یہ الگ بات ہے کہ بڑے شہروں میں مالی معاونت کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے پشاور جیسے چھوٹے شہرمیں بمشکل 27یا 28معا ونین مل جاتے ہیں اس اختتام ہفتہ پر سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع آگئی کہ پشاور کے ادبی میلے کا مقام پشاور یونیورسٹی سے تبدیل کرکے برینز انسٹیٹیوٹ میں رکھ دیا گیا ہے اور صو بائی سطح کے ادبی میلے میں ایک نشست چترال پر بھی ہوگی سینئر ادیب، دانشور اور شعبہ جعرافیہ کے سابق چئیرمین پروفیسر اسرارالدین چترال کے جغرافیائی خط و خال اور مستقبل کے امکانات یا خطرات پر پینل ڈسکشن کی صدارت کرینگے ہم نے کہا یہ سنہرا موقع ہے پینل کے ماڈریٹر شعبہ اردو کے ایم فل سکالر کلیم منظر نے باربار فون کر کے وقت اور مقام کی یاد دہانی کرائی یہاں تک کہ ہم وہاں پہنچے تو دروازے پر استقبال کے لئے موجود تھے فاروق احمد کی کی گاڑی کو دروازے کے اندر خصوصی پارکنگ میں جگہ دلوائی اور ہمیں ساتھ لیکر پروفیسر اسرار الدین صاحب کااستقبال کیا،پھر ہم خراماں خراماں پہلی منزل پروفیسر غیور حسین ہال کی طرف چل پڑے جہاں چترال کا سیشن ہونے والا تھا، کلیم منظر نے پہلے پروفیسراسرارالدین کا تعارف کرایا پھر پینل کا تعارف کرایا، اس کے بعد سیشن کے بارے میں تمہیدی کلمات کہہ کر مائیک مہمان مقرر کے حوالے کیا عنواں تھا ”چترال جعرافیائی اور ثقافتی تناظر میں“ پرو فیسر اسرار الدین نے بات شروع کر تے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے چترال کا محل و قوع یہ ہے کہ مشرق میں گلگت، مغرب میں بدخشان، شمال میں واخان اور جنوب میں نورستان ہے لیکن دنیا کے جعرافیہ دان اس کو خطوط طول بلد 71-75اور عرض بلد 31-35کے درمیان دیکھتے اور لکھتے ہیں یہ محل و قوع کا عالمی پیما نہ ہے اس پیما نے کے اندر یہ دیکھا جا تا ہے کہ سطح سمندر سے ا س کی اونچائی کتنی ہے عالمی ما ہرین کے لئے حیرت کا مقام ہے کہ چترال کے جنوب میں ارندو کی اونچائی 3000فٹ جبکہ شمال میں بروغیل کا آخری گاوں 14000فٹ کی بلندی پر ہے، چترال کے شمال اور مغرب میں ہندو کش کے پہاڑ ی سلسلے کی 70چوٹیوں میں سے بلند ترین چوٹی تریچمیر 25000فٹ کی بلندی پر ہے، دوضلعوں کا کل رقبہ 14800مر بع کلومیٹر اور ابادی 5لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ابادی کی گنجانی فی مر بع کلومیٹر صرف 43نفوس شمار کی جاتی ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ اعداد شمار ہزاروں میں ہو تے ہیں چترال کے جعرافیے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا 76فیصد حصہ پہا ڑوں اور گلیشروں نے گھیر رکھا ہے گلیشیر کو عالمی حدت سے خطرہ ہے چنانچہ گلیشیر کی جھیلیں پھٹنے سے سیلا ب آتے ہیں پچھلے بیس سالوں میں 15بڑے بڑے سیلاب آئے خوب صورت دیہات بریپ، سنو غر، بو نی، ریشن، ایون، شوغوروغیرہ میں فصلوں اور باغا ت کو شدید نقصان پہنچا آبادی بھی متاثر ہوئی، پینل کے اراکین نے آبادی کے اندر 14زبانوں کا ذکر کیا اور بتا یا کہ چترال واحد علا قہ ہے جہاں 80فیصد آبادی کی زبان کھوار ہے شمال میں واخی، قرغیز اور سریقولی زبانیں بولی جاتی ہیں مغرب میں یادغہ اور شیخانی زبانیں بولنے والی آبادی بستی ہے، جنوب میں پشتو، گوجری،پالو لا، ڈمیلی، گواربتی، مڈاک لشٹی، کا لا شہ، کمو یری اور کتہ وری زبانوں کے ساتھ ساتھ کھوار بولی جا تی ہے پاکستان میں دوسرا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں 5لا کھ کی آبادی میں 14زبانیں بولی جاتی ہوں جن میں ہند آریائی، ہند ایرانی اور ترک منگول زبانوں کا امتزاج ہو اور جہاں 8زبانوں کو معدومیت کا خطرہ ہو شعبہ جعرافیہ پشاور یو نیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارے ہاں صرف میدانی اضلاع کے لئے پالیسی بنتی ہے پہاڑی علا قوں کے لئے پالیسی نہیں بنتی ضرورت اس امر کی ہے کہ پہا ڑی علا قوں پر سائنسی اور سماجی تحقیق کا دائرہ وسیع کر کے باقاعدہ پالیسی وضع کی جائے ادبی میلے کے دوران برینز انسٹیٹیوٹ کے لان میں چائینہ ونڈو کے سٹال پر ہر عمر اور صنف کے مہمانوں کا رش دیکھنے میں آیا سٹال کے منیجر عبد الواسط سب کو بریفنگ دے رہے تھے ہمیں ما ہنا مہ چائینہ ونڈو کا تازہ شمارہ پیش کیا گیا ہم نے امجد عزیز ملک کو سلا م بھیجا اور اچھی یا دیں لیکر رخصت ہوئے، یار زندہ صحبت باقی۔