
*ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محترم جناب راؤ محمد ہاشم عظیم کی کتاب ’’روشت استاری (روشن ستارہ)‘‘ کی تقریبِ رونمائی ایک فکری و تربیتی سنگِ میل*..تحریر: ابو سلمان
معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں تعلیم کو ہمیشہ بنیادی ستون کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ وہ نور ہے جو جہالت کی تاریکیوں کو چیر کر انسان کو شعور، آگاہی اور حقیقت شناسی کی منزلوں تک پہنچاتا ہے۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی “اقرأ” سے شروع ہوتی ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں علم کو کس قدر مرکزی مقام حاصل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟” (الزمر: 9)
موجودہ دور، جو فتنوں، اخلاقی انحطاط اور فکری انتشار کا دور ہے، اس میں قوم کے نونہالوں کی کردار سازی ایک اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، اور اگر ان کی تربیت صحیح خطوط پر نہ کی جائے تو آنے والی نسلیں فکری و اخلاقی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محترم جناب راؤ محمد ہاشم عظیم کی کاوش ’’روشت استاری (روشن ستارہ)‘‘ ایک نہایت قابلِ قدر اور بروقت قدم ہے۔
یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی تربیتی دستاویز ہے جو بچوں کے دل و دماغ میں اچھے اخلاق، اعلیٰ اقدار اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔” (بخاری)
یہی وہ پیغام ہے جسے یہ کتاب نہایت خوبصورتی کے ساتھ نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔
کتاب ’’روشت استاری‘‘ کل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے، جنہیں نہایت خوبصورت اور مربوط انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔
*باب اول*: *حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی ہمارے لیے بہترین مثال* یہ باب پانچ بہترین اسباق پر مشتمل ہے، جن میں سیرتِ طیبہ کی روشنی میں عملی زندگی کے اصول سکھائے گئے ہیں۔
*باب دوم*: *خودشناسی اور خاندان* اس باب میں چھ قیمتی اسباق شامل ہیں، جو بچے کو اپنی پہچان اور خاندانی اقدار سے روشناس کراتے ہیں۔
*باب سوم*: *سکول، دوست اور اچھے آداب* اس باب میں دس شاندار اسباق ہیں، جو تعلیمی ماحول میں بہترین رویوں اور تعلقات کی رہنمائی کرتے ہیں۔
*باب چہارم*: *صحت مند جسم اور روشن دماغ* اس باب میں بچوں کی صحت کے حوالے سے سات بہترین اور خوبصورت اسباق ترتیب دیے گئے ہیں، جو جسمانی و ذہنی توازن کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
*باب پنجم*: *حوصلہ، ہمت اور محفوظ زندگی* اس باب میں دس بہترین عنوانات پر اسباق ترتیب دیے گئے ہیں، جو بچوں میں اعتماد، جرات اور احتیاط کا شعور پیدا کرتے ہیں۔
*باب ششم*: *موسمیاتی اور ماحول کی حفاظت* موجودہ موسمی حالات کے تناظر میں پانچ بہترین اسباق شامل کیے گئے ہیں، جو بچوں کو ماحول دوست طرزِ زندگی کی ترغیب دیتے ہیں۔
*باب ہفتم*: *ذمہ دار شہری کون*؟ اس باب میں معاشرتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ بہترین اسباق ترتیب دیے گئے ہیں، جو ایک اچھے شہری کی صفات کو اجاگر کرتے ہیں۔
*باب ہشتم*: *خود پسندی بمقابلہ اعتمادی* یہ باب چار شاندار اسباق پر مشتمل ہے، جو شخصیت کی درست تعمیر اور متوازن خود اعتمادی کی تعلیم دیتے ہیں۔
یہ تمام ابواب اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کتاب کو محض معلوماتی نہیں بلکہ عملی اور تربیتی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ بچے نہ صرف سیکھیں بلکہ اپنی زندگی میں ان اصولوں کو نافذ بھی کر سکیں۔
اخلاقی تربیت کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر علم کے ساتھ اخلاق نہ ہوں تو وہ علم نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے بچوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، وہاں ان کی درست رہنمائی اور تربیت از حد ضروری ہو گئی ہے۔ ’’روشت استاری‘‘ جیسے علمی و تربیتی منصوبے اس خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
“اور بے شک آپ ﷺ اعلیٰ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں” (القلم: 4)
تقریبِ رونمائی کا انعقاد چترال ٹاؤن ہال میں ایک علمی و ادبی فضا میں کیا گیا، جہاں مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، اساتذہ، طلبہ اور معززینِ علاقہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے نہ صرف اس کاوش کو سراہا بلکہ اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ خواص و عوام دونوں کی جانب سے اس کتاب کو بے حد پذیرائی ملی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرہ اب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی اہمیت کو بھی سمجھنے لگا ہے۔
ڈپٹی کمشنر راؤ محمد ہاشم عظیم صاحب اور کے ساتھ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ضلع لوئر چترال جناب مفتاح الدین صاحب اور ان کی ٹیم کی یہ کوشش اس بات کی مظہر ہے کہ اگر انتظامی عہدوں پر فائز افراد اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح کا فریضہ بھی انجام دیں تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ یہ عمل دیگر افسران کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے قوم کی فکری و اخلاقی تربیت میں اپنا کردار ادا کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ’’روشت استاری (روشن ستارہ)‘‘ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک پیغام ہےایک ایسا پیغام جو روشنی، امید اور کردار سازی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق پروان چڑھائیں تو یقیناً ایک مثالی، باکردار اور مضبوط معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
