
چترال: سینٹینیل ماڈل ہائی سکول کی صد سالہ تقریبات کا آغاز، تعلیم کے فروغ میں تاریخی کردار کو خراجِ تحسین
چترال (چترال ایکسپریس)گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال کی صد سالہ (100 سالہ) جشنِ تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز جمعرات کے روز اجتماعی قرآن خوانی سے ہوا۔
اس پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) چترال مفتاح الدین تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ای او مفتاح الدین نے کہا کہ یہ سکول صوبے کے ان تاریخی تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جس نے اس دور افتادہ علاقے میں جدید تعلیم کی بنیاد رکھی اور چترال کی ترقی و خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے لوگ ”علم دوست” ہیں اور تعلیم سے ان کی محبت مثالی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عظیم ادارے کی صد سالہ تقریبات کا دائرہ کار صرف اسی سکول تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پورے ضلع کے دیگر سکولوں تک پھیلایا جائے تاکہ نئی نسل اپنے تعلیمی ورثے سے آگاہ ہو سکے۔
سکول کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا
کہ یہ ادارہ 1926 میں ریاستِ چترال کے اس وقت کے حکمران ہز ہائینس سر شجاع الملک نے بطور پرائمری سکول قائم کیا تھا۔ بعد ازاں 1936 میں ان کے فرزند اور اس وقت کے حکمران ہز ہائینس سر ناصر الملک نے اسے ہائی سکول کا درجہ دیا۔سکول کے پرنسپل عبدالباری نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ درسگاہ علم و ادب کا ایک عظیم مرکز ہے اور اس کی سو سالہ تاریخ ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ تقریب سے ایلومنائی ایسوسی ایشن کے صدر حاجی عید الحسین اور پی ٹی سی کے صدر عبدالقادر لال نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے صد سالہ تقریبات کے انعقاد پر پرنسپل عبدالباری اور وائس پرنسپل شاہد جلال کی کاوشوں کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر مہتمم دارالعلوم شاہی مسجد و خطیب مولانا خلیق الزماں نے سکول کی مزید بہتری، ترقی اور اس ادارے سے وابستہ مرحوم اساتذہ و طلبہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کرائی۔
