سحرالبیان

پرنس رحیم آغا خان کی چترال اور گلگت بلتستان آمد

تحریر: شمس الحق نوازش

​چترال کی پرامن فضاؤں میں ان دنوں ایک منفرد جوش و خروش اور عقیدت کا رنگ بکھرا ہوا ہے۔ یہاں کی اسماعیلی برادری اپنے روحانی پیشوا، ہز ہائی نس پرنس رحیم آغا خان کی بطور امام آمد اور ان کے دیدار کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسا جذباتی اور پرمسرت موقع ہے جس پر چترال کا ہر شہری، بلا تفریقِ مسلک، اپنے اسماعیلی بھائیوں کی خوشیوں میں برابر کا شریک ہے۔ ہم سب دلی طور پر دعاگو ہیں کہ معزز مہمان کا یہ دورہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق انتہائی محفوظ، پرسکون اور سازگار ماحول میں پایۂ تکمیل کو پہنچے اور چترال کی روایتی امن پسندی کی لاج رہ جائے۔

​پرنس رحیم آغا خان کی ذاتِ گرامی عالمی افق پر ایک ایسی محترم اور ممتاز شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہے جن کا احترام عقیدت کے روایتی دائروں سے کہیں بلند ہے۔ ان کے بارے میں یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ وہ کسی مخصوص جغرافیائی خطے یا زمین پر تسلط رکھے بغیر بھی کروڑوں انسانوں کے دلوں کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ ان کی ہدایت اور فرمان ان کے پیروکاروں کے لیے حرفِ آخر کا درجہ رکھتے ہیں، جس پر وہ پورے شرحِ صدر کے ساتھ عمل کرنا اپنا اخلاقی و روحانی فرض سمجھتے ہیں۔

​اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو اس خاندان کا رشتہ قیامِ پاکستان کی بنیادوں سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آپ کے پردادا، سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم، آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں شامل اور اس کے پہلے صدر تھے، جن کی تحریکِ آزادی کے لیے خدمات تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔ اسی سنہرے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، موجودہ آغا خان دنیا کی امیر ترین شخصیات میں شمار ہونے کے باوجود اپنی ثروت کو ذاتی نمود و نمائش کی نذر کرنے کے بجائے انسانیت کے دکھوں کے مداوا پر صرف کرتے ہیں۔

​ان کا قائم کردہ عالمی فلاحی ادارہ ‘آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک’ (AKDN) اس وقت دنیا کے 35 ممالک میں تقریباً 80 ہزار ورکرز کے ساتھ غربت کے خاتمے، معیاری تعلیم اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذیلی ادارے، جیسے آغا خان فاؤنڈیشن، آغا خان ہیلتھ سروسز اور فوکس (AKAH)، عالمی سطح پر اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں اور ان تمام تر سرگرمیوں کی نگرانی وہ بذاتِ خود کرتے ہیں۔

​جہاں تک چترال کا تعلق ہے، تو اس دور دراز خطے سے معزز مہمان کا لگاؤ اور دلبستگی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ان کے فلاحی و ترقیاتی ادارے چترال کے طول و عرض میں بغیر کسی مذہبی یا مسلکی امتیاز کے، خالصتاً انسانی ہمدردی کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جو یہاں کے عوام سے ان کی مخلصانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

​آج اس تاریخی دورے کے موقع پر اہل چترال کے پاس یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ اپنی روایتی مہمان نوازی، پیار اور صلح جوئی کے جذبات کے ساتھ معزز مہمان اور ان کے عقیدت مندوں کا شاندار استقبال کریں۔ یہ پرامن طرزِ عمل نہ صرف چترال کی پرامن شناخت کو اجاگر کرے گا، بلکہ عالمی سطح پر یہ پیغام بھی بھیجے گا کہ پاکستان امن پسندوں کا مسکن اور محبتوں کی سرزمین ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO