
برفانی پل سے سپر پاور تک:..تحریر : مبشرالملک
آج جب ہم امریکہ کا نام سنتے ہیں تو ذہن میں فلک بوس عمارتیں، جدید صنعت، وسیع شاہراہیں، سائنسی ترقی اور عالمی سیاست پر اثرانداز ہونے والی ایک عظیم طاقت کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چند ہزار برس پہلے یہ سرزمین برف، جنگلات، پہاڑوں اور بے کراں میدانوں کا ایسا عالم تھی جہاں نہ کوئی جدید ریاست تھی اور نہ ہی کوئی منظم سلطنت۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق تقریباً پندرہ سے پچیس ہزار سال قبل برفانی دور کے زمانے میں ایشیا اور شمالی امریکہ کے درمیان ایک زمینی پل موجود تھا۔ شکار کی تلاش میں نکلنے والے انسانی قافلے اسی راستے سے گزر کر موجودہ الاسکا میں داخل ہوئے۔ یہی لوگ بعد میں پورے براعظم میں پھیل گئے اور امریکہ کے اولین باشندے کہلائے۔
صدیوں کے سفر کے بعد ان قبائل نے مختلف علاقوں میں مستقل آبادیاں قائم کیں۔ دریا کنارے بستیاں بنیں، زراعت شروع ہوئی اور تہذیب کا چراغ روشن ہونے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وسطی اور جنوبی امریکہ میں ایسی عظیم تہذیبیں ابھریں جنہوں نے انسانی تاریخ میں گہرے نقوش چھوڑے۔
ان میں اولین عظیم تہذیب اولمیک تھی جسے امریکی دنیا کی مادر تہذیب کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد مایا تہذیب نے علمِ فلکیات، ریاضی، تعمیرات اور تقویم سازی میں حیرت انگیز ترقی کی۔ ان کے بنائے ہوئے اہرام، رصد گاہیں اور پتھروں پر کندہ تحریریں آج بھی ماہرین کو حیران کرتی ہیں۔
پھر ایزٹک سلطنت ابھری جس نے موجودہ میکسیکو کے وسیع علاقوں پر حکومت کی۔ ان کا دارالحکومت جھیل کے وسط میں تعمیر کردہ ایک شاندار شہر تھا جسے دیکھ کر یورپی سیاح دنگ رہ گئے۔ اسی دوران جنوبی امریکہ کے پہاڑی سلسلوں میں انکا سلطنت وجود میں آئی۔ انکا حکمرانوں نے ہزاروں میل طویل شاہراہیں تعمیر کیں، پہاڑوں کو تراش کر کھیت بنائے اور ایک وسیع سلطنت قائم کی جو اپنے دور کی عظیم ترین ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔
جب یورپ ابھی قرونِ وسطیٰ کے مسائل اور داخلی کشمکش میں الجھا ہوا تھا، تب امریکہ کی یہ تہذیبیں علم، فنِ تعمیر، زراعت اور نظمِ حکومت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر چکی تھیں۔
پندرہویں صدی کے اواخر میں یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا بڑا حصہ زمینی راستوں سے ہوتا تھا۔ یورپی اقوام خصوصاً اسپین اور پرتگال ہندوستان، چین اور مشرقی ایشیا کی دولت اور مصالحہ جات تک براہِ راست سمندری راستہ تلاش کرنا چاہتی تھیں تاکہ درمیانی تاجروں اور حریف طاقتوں پر انحصار ختم ہو۔ اسی مقصد کے تحت بحری مہمات کا آغاز ہوا۔
جب عثمانی دور خلافت میں اج کے ہرمز کی بندیش کی طرح یورپ کی سمبدری ناکہ بندی مسلمانوں نے کی تو وہاں فاقے پڑھے اور لوٹ کھوسوٹ شروع ہوں اسی معا شی عذاب سے نکلنے کے لیے ایک منظم مذہبی جڈبے کے ساتھ نیے بحری راستے کی تلاش میں سن 1492ء میں اطالوی ملاح کرسٹوفر کولمبس، ہسپانوی سرپرستی میں مغرب کی جانب روانہ ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ بحرِ اوقیانوس عبور کرکے ہندوستان پہنچ جائے گا، لیکن اس کے بجائے وہ ایک ایسی نئی دنیا تک پہنچ گیا جس سے یورپ ناواقف تھا۔ بعد کی مہمات نے واضح کیا کہ یہ ایشیا نہیں بلکہ ایک نیا براعظم ہے۔
اس وقت امریکہ کی مایا، ایزٹک اور انکا تہذیبیں علم، تعمیرات، زراعت اور نظمِ حکومت کے اعتبار سے غیر معمولی ترقی یافتہ تھیں۔ بعض علاقوں میں ان کی آبادی اور ریاستی نظم کئی یورپی ممالک سے زیادہ مضبوط تھا۔ تاہم یورپیوں کے ساتھ چیچک اور دیگر متعدی بیماریاں بھی آئیں جن کے خلاف مقامی باشندوں میں قدرتی مدافعت موجود نہ تھی۔ لاکھوں افراد بیماریوں سے ہلاک ہوگئے۔ دوسری جانب بعض مقامی قبائل نے اپنے پرانے حریفوں کے خلاف یورپیوں کا ساتھ دیا جبکہ کئی سلطنتیں اندرونی سیاسی کشمکش کا شکار تھیں۔ یوں بیماری، داخلی اختلافات، مقامی اتحادیوں کی مدد اور جدید اسلحے کے امتزاج نے یورپی طاقتوں کو اس قابل بنایا کہ وہ بالآخر ان عظیم سلطنتوں پر غلبہ حاصل کر سکیں۔
یورپی اقتدار کے پھیلاؤ کے ساتھ شمالی امریکہ کے مشرقی ساحل پر برطانوی نوآبادیاں قائم ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ آبادیاں معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط ہوتی گئیں، لیکن برطانوی حکومت کے ساتھ اختلافات بڑھتے گئے۔ نئے ٹیکس، سیاسی پابندیاں اور نمائندگی کے فقدان نے نوآبادیوں میں بے چینی پیدا کی۔
بالآخر اٹھارہویں صدی میں آزادی کی تحریک اٹھی اور طویل جدوجہد کے بعد تیرہ نوآبادیوں نے برطانوی اقتدار سے آزادی کا اعلان کر دیا۔ یہی نوآبادیاں بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بنیاد بنیں۔ بعد ازاں مزید علاقے اور ریاستیں اس اتحاد میں شامل ہوتی گئیں اور ایک نئی طاقت ابھر کر سامنے آئی۔
آج کا امریکہ محض ایک جدید ریاست نہیں بلکہ ہزاروں سالہ انسانی ہجرت، قدیم تہذیبوں کی عظمت، نوآبادیاتی کشمکش، آزادی کی جدوجہد اور مسلسل ارتقا کی ایک طویل داستان کا نام ہے۔ برفانی دور کے شکاری قبائل سے لے کر مایا، ایزٹک اور انکا جیسی عظیم تہذیبوں تک، اور وہاں سے جدید امریکی ریاست تک کا سفر انسانی تاریخ کے حیرت انگیز ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔
🎁 روزانہ مفت پوائنٹس اور انعامات!
خبریں پڑھیں، کوئز کھیلیں اور انعامات جیتیں۔ اپنے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے ریوارڈ پورٹل پر جائیں۔
اپنا انعام حاصل کریں ➔
