مضامین

اے خوش نصیب حاجیو! تمہاری تھکن بھی عبادت ہے

​سفرِ عشق کی تکمیل

​حج محض ایک مادی سفر یا مناسک کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ خالقِ کائنات کی محبت میں مٹنے اور اس کے حضور خود کو پیش کر دینے کا ایک والہانہ سفرِ عشق ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اپنے گھر بار، آرام و آسائش اور دنیاوی تعلقات کو پسِ پشت ڈال کر دیوانہ وار لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ یہ وہ خوش نصیب روحیں ہیں جنہیں کائنات کے سب سے مقدس مقامات کی میزبانی کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

​مناسکِ حج کی مشقت اور جذبوں کی سچائی

​حج کا سفر اپنے اندر بے پناہ روحانیت سمیٹے ہوئے ہے، مگر اس کے ساتھ ہی یہ صبر اور جسمانی مشقت کا ایک عظیم امتحان بھی ہے۔ مِنیٰ کی وہ تنگ اور بے آرام راتیں، عرفات کے میدان میں تپتی دھوپ تلے دعاؤں میں بہتے ہوئے آنسو، مزدلفہ کی کھلی زمین اور چٹانی راستوں پر آسمان تلے گزاری ہوئی ساعتیں، اور جمرات کی طرف بڑھتے ہوئے لاکھوں انسانوں کے ہجوم کے قدم—یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ بندہ اپنے رب کی رضا کے لیے ہر سختی جھیلنے کو تیار ہے۔

​ہجوم کی مشقت، دھوپ کی شدت اور تھکن سے چور چور بوجھل جسم بظاہر انسان کو نڈھال کر دیتے ہیں، لیکن ایمان کا نور ان کے اندر ایک عزمِ نو پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ تکالیف ہیں جو کسی دنیاوی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ صرف اور صرف ایک “کریم رب” کے حضور سرخرو ہونے کے لیے برداشت کی جاتی ہیں، اور یقیناً اس کی بارگاہ میں کوئی ادنیٰ عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔

​ربِ کریم کی سخاوت اور صلہ

​حجاج کرام نے جس پروردگار کے لیے یہ بے مثال سفر کیا ہے، وہ کائنات کا سب سے بڑا سخی ہے۔ وہ ایسا غفور و رحیم ہے جو اپنے بندے کو کبھی مقروض نہیں رہنے دیتا۔ بندہ اس کی راہ میں ایک قدم اٹھاتا ہے تو وہ رحمتوں کے سو دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر ایک گناہگار بندہ ندامت کا ایک آنسو بہاتا ہے، تو اس کے بدلے مغفرت کی موسلا دھار بارش برسا دی جاتی ہے۔ ایک سچی آہ اور دل سے نکلی توبہ انسان کی قسمت کے رخ بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔

​اگر آج واپسی کے سفر پر حجاج کے جسم تھکے ہوئے ہیں، پاؤں شل ہیں اور اعصاب جواب دے رہے ہیں، تو عرش کا مالک ان کی اس تھکن کو بھی عبادت کے درجے میں شمار کر رہا ہے۔ ان قدموں کی گرد، جو مناسکِ حج کے دوران اڑی، اللہ کے نزدیک دنیا کی مہنگی ترین خوشبوؤں سے زیادہ قیمتی ہے۔ جسم اگرچہ نڈھال ہے، مگر روح اس کے قرب کی خوشبو سے پہلے سے کہیں زیادہ تازہ، پاکیزہ اور منور ہو چکی ہے۔

​وفا اور ابدی کامیابی

​وہ رب بہت عظیم، کریم اور وفادار ہے۔ بندہ اس کی راہ میں تھوڑا سا جھکتا ہے، وہ رحمتوں کے سمندر بہا دیتا ہے۔ چند دن کی اس عارضی مشقت کے بدلے وہ پوری زندگی، بلکہ ابدی اور لافانی زندگی سنوار دیتا ہے۔ اسی لیے واپسی کے سفر میں ہر حاجی کے دل سے یہ آواز آنی چاہیے:

​”میں تھکا ضرور ہوں، مگر خسارے میں نہیں۔ میں نے جس رب کے لیے یہ سب برداشت کیا ہے، وہ میرے ہر آنسو، ہر قدم، ہر دعا اور ہر تکلیف کا ایسا صلہ دینے والا ہے جس کا تصور بھی میرے وہم و گمان سے بلند ہے۔”

​برکتوں کا سفیر

​کریم رب کے دربار میں دی گئی کوئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی، بلکہ وہ رحمت بن کر کسی نہ کسی شکل میں دنیا اور آخرت میں ضرور لوٹتی ہے۔ اب یہ حجاج کرام جب اپنے گھروں کو لوٹیں گے، تو وہ صرف عام انسان نہیں بلکہ رحمت الٰہی کے سفیر ہوں گے۔ وہ جہاں جہاں جائیں گے، جس جس محفل اور گھر میں داخل ہوں گے، وہاں انشاء اللہ رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہوگی۔ ان کے چہروں کا نور اور ان کی دعائیں معاشرے کو امن، سکون اور پاکیزگی کا گہوارہ بنائیں گی۔

​آخر میں بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ التجا ہے کہ اللہ پاک تمام حجاجِ کرام کا یہ مقدس سفر، ان کی عبادات، راتوں کا جاگنا اور ہر مشقت اپنی بارگاہِ عالیہ میں قبول و منظور فرمائے۔ اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے اس پاکیزہ سفر کی برکات سب مسلمانوں کو نصیب فرمائے اور بار بار اپنے گھر کی حاضری عطا فرمائے۔ (آمین)

🎁 روزانہ مفت پوائنٹس اور انعامات!

خبریں پڑھیں، کوئز کھیلیں اور انعامات جیتیں۔ اپنے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے ریوارڈ پورٹل پر جائیں۔

اپنا انعام حاصل کریں ➔
زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO