تازہ ترینمضامین

اسیرِ جہاں گشت..ایک سفرنامہ، ایک جذبہ، ایک صدقۂ جاریہ..صلاح الدین صالح

کچھ کتابیں پڑھی جاتی ہیں، کچھ محسوس کی جاتی ہیں — اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو روح میں اُتر جاتی ہیں۔ شیر ولی خان اسیر کی تازہ تصنیف “اسیرِ جہاں گشت” اسی آخری صنف میں شمار ہوتی ہے۔

اُردو، کھوار اور فارسی کے اس تریبھاشی قلمکار نے ترکیہ کے مینار ہائے سر بفلک سے لے کر حرمِ مقدس کی مقدس فضاؤں تک، دبئی کی چکاچوند روشنیوں سے گزرتے ہوئے جو سفر طے کیا ہے، وہ محض جغرافیائی فاصلوں کی نہیں — دلوں اور تہذیبوں کے درمیان قائم رشتوں کی داستان ہے۔ قلم اُن کے ہاتھ میں کیمرے کا کام کرتا ہے — مناظر بھی کھینچتا ہے، اور لمحوں میں چھپے معنی بھی۔

“سفرنامہ وہی زندہ رہتا ہے جو صرف مقامات کا نہیں، انسانوں کا سفر بھی ہو۔ اسیر صاحب نے یہی کیا ہے۔”

لیکن اس کتاب کا اصل امتیاز اس کے اوراق سے باہر ہے۔ مصنف کی ہونہار بیٹی، مرحومہ ڈاکٹر زہرہ ولی خان، جو علاقے کی امید اور گھر کی روشنی تھیں، اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ایک باپ نے اس درد کو سینے میں دفن نہیں کیا — بلکہ اسے چراغ بنا دیا۔ بیٹی کے نام پر ایک فلاحی ٹرسٹ قائم کیا اور اپنی کتابوں کی تمام آمدنی اس کے نام وقف کر دی — تاکہ جو لوگ علاج کے متحمل نہیں، جو دیوار تک نہیں پہنچ سکتے، ان تک کوئی ہاتھ پہنچے۔

شیر ولی خان اسیر نہ ارب پتی ہیں، نہ جاگیردار — وہ ایک معلم ہیں، ایک ادیب ہیں۔ اور شاید اسی لیے ان کا یہ اقدام اتنا درخشاں ہے، کیونکہ اس میں دولت کا نہیں، خلوص کا سرمایہ ہے۔ ان کا قلم ہی ان کی دولت ہے، اور وہ وہ دولت انہوں نے دوسروں کے غم میں لگا دی۔

“اسیرِ جہاں گشت” خریدنا صرف ایک کتاب خریدنا نہیں — یہ ایک ایسے سفر میں شامل ہونا ہے جو علم سے شروع ہوتا ہے اور محبت پر ختم ہوتا ہے۔ اور جو بیٹی کی یاد میں جاری ہے، اور جاری رہے گا۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock