
مستوج بروغل روڈ کے لیے فنڈز مختص نہ ہوئے تو شدید احتجاج ہوگا، عوامی تحریک کا انتباہ
اپرچترال (چترال ایکسپریس) مستوج بروغل روڈ عوامی تحریک کے عہدیداروں نے حکومت خیبر پختونخوا کو خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مستوج بروغل روڈ کے پہلے مرحلے کے 20 کلومیٹر حصے کے لیے فنڈز مختص نہ کیے گئے تو علاقے کے عوام شدید احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
یہ انتباہ تحریک کے صدر محمد وزیر خان نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے باوجود گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں مذکورہ منصوبے کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی، جس سے علاقے کے عوام میں مایوسی اور تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بانگ یارخون میں منعقدہ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا ثریا بی بی نے روڈ پر جلد عملی کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
پریس کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ مستوج بروغل روڈ کی خستہ حالی کی وجہ سے علاقے کے عوام خصوصاً خواتین، بچوں، مریضوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خراب اور دشوار گزار سڑک کے باعث ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر ضروری مقامات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
اس موقع پر تحریک کے جنرل سیکریٹری صدیق الاعظم، ڈپٹی جنرل سیکریٹری احمد محمد علی، سینئر وائس پریزیڈنٹ سبحان الدین، سردار علی نصیب، قاری فدا علی شاہ، رخمت ولی، شیر قادر، اصغر علی، احمد حسین شاہ، شیر حاکم اور محمد آمان سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ تحریک خواتین کی صدر لطیفہ شاہ نے خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی خواتین بھی اپنے حقوق کے حصول اور سڑک کی تعمیر کے مطالبے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ ہر قسم کی جدوجہد میں حصہ لیں گی۔
تحریک کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے مستوج بروغل روڈ کے 20 کلومیٹر حصے کے لیے فوری طور پر فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش سفری مشکلات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
