
*شریف النفس انسانوں کی رخصتی صرف ایک ملازم کی ریٹائرمنٹ نہیں، ایک عہد کا اختتام ہوتی ہے*۔۔تحریر: ابو سلمان
کسی بھی ادارے کی اصل پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتیں یا جدید سہولیات نہیں ہوتیں، بلکہ وہ مخلص، دیانت دار اور خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے والے افراد ہوتے ہیں جو برسوں تک اپنی خدمات سے ادارے کی عزت و وقار میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اپنی ملازمت مکمل کرکے رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک فرد نہیں جاتا بلکہ ادارے کی تاریخ کا ایک خوبصورت باب اختتام پذیر ہوتا ہے۔
سنٹینیئل ماڈل ہائی سکول (بوائز) چترال کے شریف النفس، خوش اخلاق اور ہر دل عزیز لیب اٹینڈنٹ شریف چچا کی بتیس (32) سالہ شاندار ملازمت کا اختتام بھی ایک ایسے ہی یادگار لمحے کی صورت میں سامنے آیا، جس نے ثابت کر دیا کہ عزت اور محبت دولت سے نہیں بلکہ کردار، اخلاص اور حسنِ اخلاق سے حاصل ہوتی ہے۔
اس موقع پر سکول کے ہال میں ایک باوقار اور پروقار الوداعی تقریب منعقد کی گئی جس کے *مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ضلع لوئر چترال جناب شاہد حسین صاحب تھے*۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شریف چچا کی محکمۂ تعلیم کے لیے بتیس سالہ بے لوث خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ محکمہ کے لیے ایک بہترین اثاثہ رہے ہیں اور ان کی دیانت داری، فرض شناسی اور خاموش خدمت دوسروں کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔
*سکول کے پرنسپل محترم جناب عبدالباری صاحب* نے نہایت محبت بھرے انداز میں کہا کہ “شریف چچا واقعی اسم بامسمی ہیں۔” ان کے مطابق شریف چچا ملنسار، خدمت گزار، انتہائی خوش اخلاق اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے پوری ملازمت کے دوران اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن انداز میں انجام دیں اور ہمیشہ ادارے کی عزت اور نظم
و ضبط کو مقدم رکھا۔
*وائس پرنسپل جناب شاہد جلال صاحب نے* شریف چچا کی شخصیت کے ایک نہایت اہم پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ پوری ملازمت کے دوران کسی ٹیچنگ یا نان ٹیچنگ اسٹاف کی طرف سے کبھی ان کی شکایت سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی شریف چچا نے کبھی کسی کی شکایت کی۔ یہ وصف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اختلافات سے بالاتر، محبت، برداشت اور حسنِ سلوک کے پیکر تھے۔
تقریب میں سکول انتظامیہ، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی جانب سے شریف چچا کی خدمات کے اعتراف میں قیمتی تحائف پیش کیے گئے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ضلع لوئر چترال جناب شاہد حسین صاحب اوراے ڈی ای او اسٹبلشمنٹ جناب انعام اللہ صاحب،پرنسپل عبد الباری صاحب اور وائس پرنسپل جناب شاہد جلال کے ہاتھوں شریف چچا کوروایتی چترالی ٹوپی پہنائی گئی، پھولوں کے خوبصورت ہار پہنائے گئے، گلدستے پیش کیے گئے، جبکہ سکول کے ننھے طلبہ نے مین گیٹ تک ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے اپنی محبت اور عقیدت کا والہانہ اظہار کیا۔ اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جناب فدا صاحب نے بھی خصوصی طور پر انہیں تحفہ پیش کیا ۔
تقریب کا سب سے جذباتی اور یادگار منظر وہ تھا
جب پرنسپل جناب عبدالباری صاحب نے اپنے دفتر میں شریف چچا کا ہاتھ محبت و احترام سے چوم کر انہیں رخصت کیا۔ اس کے بعد وہ خود اپنی گاڑی میں، سکول کے دیگر ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے ہمراہ، شریف چچا کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کے گھر چھوڑنے گئے۔ یہ منظر اس حقیقت کا آئینہ دار تھا کہ حقیقی عزت عہدوں سے نہیں بلکہ کردار، اخلاص اور خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔
شریف چچا نے اس بے مثال عزت افزائی پر سکول انتظامیہ، مہمانانِ گرامی، اساتذہ، عملے اور طلبہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان سب کی محبتوں کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا۔
درحقیقت شریف چچا کی ریٹائرمنٹ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموشی سے، دیانت داری کے ساتھ اور خلوصِ نیت سے انجام دی جانے والی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ وقت گزر جاتا ہے، عہدے ختم ہو جاتے ہیں، لیکن اچھا کردار، خوش اخلاقی اور انسانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ شریف چچا کی بقیہ زندگی کو صحت، عافیت، سکون، خوشیوں اور برکتوں سے بھر دے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے نوازے۔ آمین۔
