
میری ڈائری کے اوراق سے۔۔۔جب میں نے خودکشی کا ارادہ ترک کیا..پہلی قسط..شمس الحق قمرؔ
(زیر نظر کالم میں نے ۲۰۱۶ کو لکھا تھا ۔ پچھلے دنوں شعبہ تعلیم سے وابستہ ایک دوست کے اصرار پر مجھے دوبارہ پیش کرنا پڑا ۔ آئیے ملاحظہ کیجیے 🙂
یہ کوئی تیس سال پہلے کی بات ہے۔ جب میں انٹرمیڈیٹ میں ایک بار پھر ناکام ہوا تو مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں کو ٹٹولے بغیر میں اپنی ناکامیوں کی اصل وجہ نہیں سمجھ سکتا۔ میری یادوں کا دروازہ کھلا تو سب سے پہلے ایک ایسا بچہ سامنے آیا جس کے لیے سکول جانا دنیا کا سب سے بڑا عذاب تھا۔بچپن میں مجھے یوں لگتا تھا کہ زندگی کی ہر مصیبت برداشت کی جا سکتی ہے، مگر سکول جانا نہیں۔ ایک مرتبہ تو اس عذاب سے بچنے کے لیے میں نے لکڑیاں کاٹتے ہوئے جان بوجھ کر اپنی چھوٹی انگلی کلہاڑی کے نیچے رکھ دی۔ وار اتنا شدید تھا کہ ناخن سمیت اوپر کا حصہ الگ ہو گیا۔ مقصد صرف ایک تھا: سکول سے چند دن کی نجات۔گھر میں کہرام مچ گیا۔ دادی اماں میری تکلیف پر رو رہی تھیں، اور میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ چوٹ مزید خراب ہو جائے تاکہ سکول نہ جانا پڑے۔ عجیب کشمکش تھی۔ دادی میری صحت کے لیے دعائیں کرتی تھیں اور میں بیماری کے لیے۔حقیقت یہ تھی کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا تھا۔ اردو کے حروف آپس میں جوڑنا میرے لیے پہاڑ اٹھانے کے مترادف تھا۔ میں ہزار کوشش کرتا مگر لفظ بن نہیں پاتے تھے۔ پھر ایک زمانہ آیا جب سیاسی حالات کی وجہ سے طویل چھٹیاں ہوئیں اور ہمیں بغیر امتحان کے اگلی جماعت میں بھیج دیا گیا۔ میں بھی پانچویں جماعت میں پہنچ گیا، مگر ذہنی طور پر وہیں کا وہیں تھا۔اس دور میں مارپیٹ تعلیم کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھی۔ استاد کا ہاتھ اور بید کی چھڑی ہر وقت ہمارے سروں پر منڈلاتی رہتی۔ کسی بچے میں اتنی جرات نہ تھی کہ پوچھ سکے: “مجھے کیوں مارا جا رہا ہے؟”پانچویں جماعت میں ایک سبق تھا: “اسلم کی صفائی”۔ یہ سبق ہمارے لیے ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ ایک دن استاد نے ہمیں گول دائرے میں کھڑا کیا اور عبارت خوانی شروع ہوئی۔ سوائے دلبر علی کے، ہم سب کمزور طالب علم تھے۔ دلبر استاد کا منظورِ نظر تھا اور بید کی تازہ چھڑیاں لانے کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد تھی۔اس دن میری باری آئی تو استاد کا غصہ انتہا پر تھا۔ انہوں نے مجھے اتنا مارا کہ بدن شل ہو گیا۔ پھر اچانک مجھے اٹھا کر ایک شکستہ عمارت کی طرف لے گئے۔ وہاں ایک پرانی چارپائی اور چھت سے محروم ایک کمرہ تھا جس میں صرف ایک شہتیر باقی رہ گیا تھا۔استاد نے چارپائی کے بان کھولے، میرے پاؤں باندھے اور مجھے شہتیر سے الٹا لٹکا دیا۔میں ایک ذبح شدہ بکرے کی طرح الٹا جھول رہا تھا۔پہلے مجھے لگا آسمان میرے سر پر آ گرا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جسم ہلکا ہونے لگا۔ اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔جب ہوش آیا تو میں کلاس کے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ کچھ بچے ہنس رہے تھے، کچھ سہمے ہوئے تھے۔ کسی کو یہ پوچھنے کی جرات نہیں تھی کہ ایک معصوم بچے کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔شام کو گھر پہنچا تو بار بار چکر آ رہے تھے۔ زمین اور آسمان گھومتے محسوس ہوتے تھے۔ اگلے دن ہم کھیت میں کام کر رہے تھے کہ اچانک وہی استاد سامنے آ گئے جنہوں نے مجھے الٹا لٹکایا تھا۔میرے چچا نے ادب سے انہیں سلام کیا اور درخواست کی کہ مجھے اگلے دن کھیتوں کے کام کے لیے چھٹی دے دی جائے۔استاد مسکرائے اور بولے:”اس کے لیے تو ہمیشہ چھٹی ہے۔ اسے تو ٹک بھی نہیں آتا۔ بہتر ہے گھر ہی میں ہاتھ بٹائے۔”
یہ جملہ میرے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ مار کھانا آسان تھا، ذلت برداشت کرنا مشکل تھا۔میں گھر والوں کے سامنے خود کو قابل طالب علم ثابت کرتا رہا تھا، مگر استاد نے ایک ہی جملے میں میری ساری عمارت گرا دی تھی۔اس رات میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔پت جھڑ کی سرد رات تھی۔ سب سو چکے تھے۔اور میں خاموشی سے گھر سے نکل کر دریائے چترال کی طرف چل پڑا… ( باقی دوسری قسط میں ملاحظہ کیجیے )
