مضامین

میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔جب میں نے خودکشی کا ارادہ ترک کیا۔۔ آخری قسط۔۔شمس الحق قمرؔ

رات کا سناٹا تھا۔ میری عمر تقریباً دس برس تھی۔ آج کی رات گھر اور دریا کے درمیان ویرانی پھیلی ہوئی تھی۔ پت جھڑ ،درختوں سے زندگی کے آخری سانس کے ساتھ گرتے پتوں کی آواز اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی صدائیں دل میں خوف پیدا کر رہی تھیں۔میں نے دونوں کان انگلیوں سے بند کر لیے تاکہ کوئی آواز میری خود کشی کے نیک ارادے کو کمزور نہ کر سکے۔چلتے چلتے اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک لمبے سفر کے بعد زندگی کی اُس چوٹی پر کھڑا ہوں جس کی ایک طرف اذیت ناک موت ہے اور دوسری طرف زندگی کی رنگا رنگیاں ۔ایک طرف دادی اماں کے آنسو تھے، والدین کا غم تھا، خاندان کی ٹوٹتی ہوئی امیدیں تھیں۔دوسری طرف مشکلات تھیں، مگر انہی مشکلات کے پیچھے کامیابیاں، خوشیاں اور مسرتیں ۔ دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب میں صرف ایک قدم کی مسافت تھی ۔اسی لمحے میرے دل میں ایک سوال پیدا ہوا: دنیا کی کونسی نعمت ہے جو میرے پاس نہیں؟ میری آنکھیں سلامت تھیں، دماغ سلامت تھا، ہاتھ پاؤں سلامت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے انسان بنا کر بے شمار نعمتیں عطا کی تھیں۔ پھر میں ایک چھوٹی سی مشکل سے گھبرا کر زندگی سے فرار کیوں چاہتا تھا؟میں رک گیا۔مجھے اپنی ناشکری پر شرمندگی محسوس ہوئی۔میں آدھے راستے سے واپس لوٹ آیا۔ میری واپسی کا یہی ایک قدم میری زندگی کا مثبت انقلاب تھا۔ اگلی صبح حسبِ معمول دادی اماں نے میرا سر سہلاتے ہوئے سکول کے لیے جگایا۔ میں نے پیٹ درد، سر درد اور کمزوری کے ہزار بہانے بنائے، مگر دادی اماں اپنی وضع بدلنے والی بالکل ہنہیں تھیں لہذا مجھے ہر حال میں سکول جانا ہی پڑا۔ وہی کلاس، وہی سبق، وہی استاد۔استاد نے پھر ہمیں گول دائرے میں کھڑا کیا۔ دلبر حسبِ معمول استاد کی کرسی کے با ئیں جانب مستعد تھے اور بید کی تازہ چھڑیاں بھی تیار تھیں۔آج میرے دوست اسلم بھی میرے ساتھ کھڑے تھے ، جو پڑھائی میں تقریباً میرے برابر تھا اور اتفاق سے یہ سبق بھی ” اسلم کی صفا ئی ” تھا ۔ پہلے اسلم کی باری آئی۔ استاد نے اسلم پر خوب ہاتھ صاف کیا۔ اس بار اسلم کی پٹائی کا انداز بھی کچھ نرالا تھا۔ بید کی ہر ضرب کے ساتھ استاد زیرِ لب کچھ نہ کچھ پڑھتے جاتے تھے۔ اسلم کبھی ایک ہاتھ آگے کرتا، کبھی دوسرا۔ آخرکار اس نے استاد کے سامنے آہ و زاری شروع کر دی اور کھوار میں بار بار کہنے لگا:”مہ شرین استاد، مہ بلبل استاد، مہ مارتاؤ لہ! تہ اژیلیان سورا خدائی دی بس لہ استاد! اف ژان، پچو و پچو و نانیے مہ مارتاے لہ !” اسلم کی فریاد سن کر استاد کے تیور اور بھی بدل گئے۔ وہ ہر ضرب کے ساتھ بلند آواز میں کہتے:
“شرین بلبل تہ کوم؟ اسلم کی صفائی تہ کوم ! اسلم کی صفائی تہ کوم ! اسلم کی صفائی تہ کوم !” جب استاد “اسلم کی صفائی” کے الفاظ پورا غصہ اور پوری قوت سے دہرانے لگے تو مجھے اچانک ایک عجیب انکشاف ہوا کہ ان کے زیرِ لب پڑھے جانے والے نامعلوم “منتر” بھی یہی “اسلم کی صفائی” ہی تھا کیوں کہ زیر لب اور اب کی بار بہ اواز بلند میں ہونٹوں کی جنبش بالکل ایک جیسی تھی۔ تب میری سمجھ میں آیا کہ جو منتر وہ پٹائی کے آغاز سے پڑھ رہے تھے، وہ دراصل کوئی جادوئی وظیفہ نہیں بلکہ اسی سبق کا عنوان “اسلم کی صفائی” تھا، جو اسلم کو یاد نہ ہونے کی پاداش میں استاد صاحب اسی سبق کے نام پر اس کی باقاعدہ صفائی کر رہے تھے۔
اب باری میری آئی تو میں نے فوری طور پر کتاب کھولی کیوں کہ میری شہادت کی انگلی اُسی منحوس سبق کے اوراق کے بیچ میں پہلے سے پیوست تھی ۔ میں نے فر فر پڑھنا شروع کیا خود مجھے بھی عجیب حیرت ہو رہی تھی کہ میرے سامنے تمام الفاظ کیوں واضح تھے اور میں اپنے پورے ہوش حواس کے ساتھ کیوں پڑھے جا رہا تھا ۔کمرہ جماعت میں خاموشی چھا گئی۔ جملہ کمرہ جماعت یکسو ہو کر میری جانب حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔ اُس وقت کا منظر ایسا تھا جیسے بھیڑوں کے ریوڑ کی نظر اچانک کسی بھیڑیے پر پڑے اور وہ ایک ساعت کےلیے تابعدار سپاہیوں کی طرح یکدم اٹنشن پوزیشن میں آجا ئیں ۔ بہر حال محترم استاد نے غصے سے کہا:”تم نے سبق زبانی یاد کیا ہے۔”پھر اُنہوں نے کتاب کا آخری صفحہ کھولا اور بید کی تازہ چھڑی میرے سر پر لہراتے اور گھماتے ہو ئے مجھے پڑھنے کا حکم دیا۔ اُس وقت میں نے یہ سوچا کہ استاد کتنا وقت کا پابند ہے کہ مجھے سبق نہ آنے کی صورت میں وہ ایک ساعت ضا ئع کیے بغر میری کھال اتار نے کےلیے تیار ہے ۔ خیر میں نے آخری سبق میں موجود تحریر بھی فر فر پڑھ لی ۔پھر دوسرا صفحہ، پھر تیسرا۔میں سب پڑھتا گیا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے دماغ کے بند دروازے اچانک کھل گئے ہوں ۔ اب سوچ کے مجھے ایسا لگتا ہے انسان جو بھی دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، بولتا ہے اور کرتا ہے وہ تو اُس کے دماغ کے کسی کونے پر محفوظ ہو جاتے ہیں البتہ ترتیب سے نہیں اور اگر ترتیب بہتر ہو جا ئے تو ہر کام چل سکتا ہے ۔ اب استاد مجھے خوشگوار حیرت سے دیکھنے لگے ۔پھر انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا، پیشانی کو چوما اور کچھ دیر میرا سر اپنے سینے سے لگائے رکھا۔جب انہوں نے میری طرف دیکھا تو ان کی آنکھیںپُر نم تھیں۔اس دن کے بعد سب کچھ بدل گیا۔میں کلاس کے کمزور ترین بچوں میں شمار نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد یاد نہیں کہ دلبر کی حیثیت کلاس میں کیا تھی ۔آج جب میں ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میری خودکشی میں میرے استاد کا ہاتھ ضرور تھا، لیکن میری زندگی بچانے میں بھی بالواسطہ ان کا حصہ شامل تھا۔ ان کے ایک جملے نے مجھے موت کے دہانے تک پہنچایا، مگر اسی واقعے نے میرے اندر ایک ایسی آگ بھی روشن کر دی جس نے مجھے زندگی بھر آگے بڑھنے پر مجبور رکھا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ زندگی میں ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب ناکامی، ذلت، غربت، بیماری یا کسی کی تلخ بات انسان کو توڑ دیتی ہے۔ اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے سارے راستے مسدود ہو گیے ہیں ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ راستوں میں ح حائل مشکلات راستے کا اختتام نہیں ہوتیں ، بلکہ اکثر ایک نئے راستے کا آغاز ہوتی ہیں ۔اگر اُس رات میں دریائے چترال میں چھلانگ لگا دیتا تو میری کہانی وہیں ختم ہو جاتی۔لیکن میں نے ایک قدم پیچھے ہٹایا، اور اسی ایک قدم نے میری پوری زندگی بدل دی۔ میں ماضی کے واقعات پر نظر ڈالنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہوں کہ زندگی کے میدان میں کامیاب وہ نہیں ہوتے جنہیں مشکلات پیش نہیں آتیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو مشکلات کے ساتھ کھیلنا سیکھ لیتے ہیں۔ناکامی مستقل نہیں ہوتی، مایوسی مستقل نہیں ہوتی، اندھیرا مستقل نہیں ہوتا۔اگر ہمت باقی رہے تو ہر رات کے بعد ایک نئی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اگر اُس رات میں دریائے چترال میں چھلانگ لگا دیتا تو میری کہانی وہیں ختم ہو جاتی، اور آج آپ یہ داستان پڑھنے کے بجائے شاید کسی گمنام بچے کی ایک بھولی بسری خبر پر افسوس کر رہے ہوتے۔ بچوں کو چاہیے کہ ہمت کریں مساءل کے ساتھ کھیلنا سیکھیں اور آگے بڑھیں

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock